<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 19:48:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 10 Apr 2026 19:48:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کی نئی شرط: ویزے کے لیے 15 ہزار ڈالر تک بانڈ جمع کروانے ہوں گے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498076/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی حکومت نے سات نئے ممالک کو اس فہرست میں شامل کر دیا ہے جن کے شہریوں کو ویزا کے لیے درخواست دیتے وقت پانچ ہزار سے 15 ہزار ڈالر تک کے بانڈ کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ ان میں بیشتر افریقہ کے ممالک شامل ہیں، جس کے بعد مجموعی طور پر تیرہ ممالک اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/us-visa-restrictions-trump-bond-travel-7211e43ef4eb84144717c3331ab89e8e"&gt;ایسوسی ایٹڈ پریس&lt;/a&gt; کے مطابق سابقہ اقدامات کے تحت امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ سال چند افریقی ممالک جیسے موریطانیہ، ساؤ ٹومے پرنسپ، تنزانیہ، گیمبیا، ملاوی اور زیمبیا کو بھی بانڈ کی شرط میں شامل کیا تھا۔ اب بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساؤ، نامیبیا اور ترکمانستان کو بھی اس فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ نئی شرط یکم جنوری سے نافذ العمل ہے۔ مزید تفصیل کے لئے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://travel.state.gov/content/travel.html"&gt;ویب سائٹ&lt;/a&gt; پر وزٹ کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30476565'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30476565"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق، یہ بانڈ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ مخصوص ممالک کے شہری ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر نہ رہیں۔ تاہم، بانڈ کی ادائیگی ویزا کی منظوری کی ضمانت نہیں دیتی۔ اگر ویزا مسترد ہو جائے یا ہولڈر ویزا کی شرائط پر پورا اترے تو ادائیگی واپس کر دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تازہ اقدم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ویزا کے حصول کے عمل کو مزید سخت بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں تمام ویزا حاصل کرنے والوں کے لیے ذاتی انٹرویو، سوشل میڈیا ہسٹری اور سابقہ سفر و رہائش کی تفصیلات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کئی ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا حاصل کرنا مشکل اور مہنگا ہو جائے گا، اور اس کا اثر بین الاقوامی سفر اور کاروباری روابط پر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی حکومت نے سات نئے ممالک کو اس فہرست میں شامل کر دیا ہے جن کے شہریوں کو ویزا کے لیے درخواست دیتے وقت پانچ ہزار سے 15 ہزار ڈالر تک کے بانڈ کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ ان میں بیشتر افریقہ کے ممالک شامل ہیں، جس کے بعد مجموعی طور پر تیرہ ممالک اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/us-visa-restrictions-trump-bond-travel-7211e43ef4eb84144717c3331ab89e8e">ایسوسی ایٹڈ پریس</a> کے مطابق سابقہ اقدامات کے تحت امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ سال چند افریقی ممالک جیسے موریطانیہ، ساؤ ٹومے پرنسپ، تنزانیہ، گیمبیا، ملاوی اور زیمبیا کو بھی بانڈ کی شرط میں شامل کیا تھا۔ اب بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساؤ، نامیبیا اور ترکمانستان کو بھی اس فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ نئی شرط یکم جنوری سے نافذ العمل ہے۔ مزید تفصیل کے لئے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://travel.state.gov/content/travel.html">ویب سائٹ</a> پر وزٹ کیا جاسکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30476565'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30476565"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی حکام کے مطابق، یہ بانڈ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ مخصوص ممالک کے شہری ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر نہ رہیں۔ تاہم، بانڈ کی ادائیگی ویزا کی منظوری کی ضمانت نہیں دیتی۔ اگر ویزا مسترد ہو جائے یا ہولڈر ویزا کی شرائط پر پورا اترے تو ادائیگی واپس کر دی جاتی ہے۔</p>
<p>یہ تازہ اقدم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ویزا کے حصول کے عمل کو مزید سخت بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں تمام ویزا حاصل کرنے والوں کے لیے ذاتی انٹرویو، سوشل میڈیا ہسٹری اور سابقہ سفر و رہائش کی تفصیلات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کئی ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا حاصل کرنا مشکل اور مہنگا ہو جائے گا، اور اس کا اثر بین الاقوامی سفر اور کاروباری روابط پر پڑ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498076</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Jan 2026 13:53:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/0613561048425da.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/0613561048425da.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
