<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 02:45:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Apr 2026 02:45:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تعمیراتی سائٹس پر بڑی آنکھوں والی غصیل عورت کی تصویر، معاملہ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498109/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست کرناٹک کے مختلف شہروں میں زیرِ تعمیر عمارتوں پر آویزاں ایک عجیب و غریب تصویر نے سوشل میڈیا صارفین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تصویر میں ایک بڑی آنکھوں اور گھورتی ہوئی نگاہوں والی عورت کا چہرہ دکھایا گیا یے، جو بظاہر خوفناک اور پراسرار محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معمہ کی شروعات اس وقت ہوئی جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارف &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://twitter.com/unitechy"&gt;@unitechy&lt;/a&gt; نے اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر یہ عورت کون ہےاور ایک ہی تصویر ہر تعمیراتی مقام پر کیوں دکھائی دیتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل لینز سمیت کئی ذرائع تصویر کی شناخت میں ناکام رہے، جس کے بعد یہ پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور 33 لاکھ سے زائد افراد نے اسے دیکھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498052/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498052"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کچھ ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا صارفین، ماہرینِ ثقافت اور مقامی افراد نے وضاحت پیش کی کہ یہ تصویر کسی مخصوص خاتون کی نہیں بلکہ دراصل ”نظر بٹو“ یا ”دِرِشتی گومبے“ کی جدید شکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظر بٹو بھارت میں ایک پرانی روایت ہے، جس کے تحت نئی عمارتوں، دکانوں، گھروں اور گاڑیوں کو بری نظر، حسد اور منفی توانائی سے محفوظ رکھنے کے لیے خوفناک یا غیر معمولی شکلوں والی تصاویر لگائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تصویر میں عورت کی آنکھوں کو غیر معمولی حد تک بڑا اور تاثرات کو سخت دکھایا گیا ہے، تاکہ نظرِ بد ڈالنے والے پر نفسیاتی اثر پڑے اور منفی توانائی دور رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی افراد کے مطابق تعمیراتی مقامات کو خاص طور پر حساس سمجھا جاتا ہے، اسی لیے یہاں ایسی علامات عام طور پر لگائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498037/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498037"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ تصویر ممکنہ طور پر کرناٹک کی ایک یوٹیوبر کی 2023 کی ویڈیو سے متاثر ہو سکتی ہے، جس میں ان کے تاثرات بعد میں میم کلچر کا حصہ بن گئے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں اور ماہرین کے مطابق تصویر کی اصل شناخت سے زیادہ اس کا مقصد اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ شہری زندگی میں روایتی عقائد اور ڈیجیٹل میم کلچر کے ملاپ کی ایک واضح مثال ہے، جہاں قدیم رسمیں جدید شہروں میں نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو تصویر کل تک ایک خوفناک معمہ سمجھی جا رہی تھی، آج وہ ایک خاموش مگر مضبوط ثقافتی علامت کے طور پر پہچانی جا رہی ہے جو یقین، روایت اور جدید دور کے رجحانات کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست کرناٹک کے مختلف شہروں میں زیرِ تعمیر عمارتوں پر آویزاں ایک عجیب و غریب تصویر نے سوشل میڈیا صارفین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔</strong></p>
<p>تصویر میں ایک بڑی آنکھوں اور گھورتی ہوئی نگاہوں والی عورت کا چہرہ دکھایا گیا یے، جو بظاہر خوفناک اور پراسرار محسوس ہوتا ہے۔</p>
<p>اس معمہ کی شروعات اس وقت ہوئی جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارف <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://twitter.com/unitechy">@unitechy</a> نے اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر یہ عورت کون ہےاور ایک ہی تصویر ہر تعمیراتی مقام پر کیوں دکھائی دیتی ہے؟</p>
<p>گوگل لینز سمیت کئی ذرائع تصویر کی شناخت میں ناکام رہے، جس کے بعد یہ پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور 33 لاکھ سے زائد افراد نے اسے دیکھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498052/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498052"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کچھ ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا صارفین، ماہرینِ ثقافت اور مقامی افراد نے وضاحت پیش کی کہ یہ تصویر کسی مخصوص خاتون کی نہیں بلکہ دراصل ”نظر بٹو“ یا ”دِرِشتی گومبے“ کی جدید شکل ہے۔</p>
<p>نظر بٹو بھارت میں ایک پرانی روایت ہے، جس کے تحت نئی عمارتوں، دکانوں، گھروں اور گاڑیوں کو بری نظر، حسد اور منفی توانائی سے محفوظ رکھنے کے لیے خوفناک یا غیر معمولی شکلوں والی تصاویر لگائی جاتی ہیں۔</p>
<p>اس تصویر میں عورت کی آنکھوں کو غیر معمولی حد تک بڑا اور تاثرات کو سخت دکھایا گیا ہے، تاکہ نظرِ بد ڈالنے والے پر نفسیاتی اثر پڑے اور منفی توانائی دور رہے۔</p>
<p>مقامی افراد کے مطابق تعمیراتی مقامات کو خاص طور پر حساس سمجھا جاتا ہے، اسی لیے یہاں ایسی علامات عام طور پر لگائی جاتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498037/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498037"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ تصویر ممکنہ طور پر کرناٹک کی ایک یوٹیوبر کی 2023 کی ویڈیو سے متاثر ہو سکتی ہے، جس میں ان کے تاثرات بعد میں میم کلچر کا حصہ بن گئے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں اور ماہرین کے مطابق تصویر کی اصل شناخت سے زیادہ اس کا مقصد اہم ہے۔</p>
<p>ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ شہری زندگی میں روایتی عقائد اور ڈیجیٹل میم کلچر کے ملاپ کی ایک واضح مثال ہے، جہاں قدیم رسمیں جدید شہروں میں نئی شکل اختیار کر رہی ہیں۔</p>
<p>جو تصویر کل تک ایک خوفناک معمہ سمجھی جا رہی تھی، آج وہ ایک خاموش مگر مضبوط ثقافتی علامت کے طور پر پہچانی جا رہی ہے جو یقین، روایت اور جدید دور کے رجحانات کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498109</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 13:52:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/0709530985a26a3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/0709530985a26a3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
