<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 22:27:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 22:27:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیارہ مشتری کو دیکھنے کا نادر موقع، ناسا نے ہدایات جاری کردیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498122/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ستاروں کے شوقین افراد کے لیے ایک یادگار لمحہ آنے والا ہے، جب 10 جنوری 2026 کو سیارہ مشتری اپنے ”اوپوزیشن“ مقام پر پہنچے گا۔ اس دن یہ گیس دیو اپنی پوری روشنی اور وسعت کے ساتھ رات کے آسمان میں سب سے نمایاں نظر آئے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا کے مطابق ”اوپوزیشن“ اس وقت ہوتی ہے جب زمین مشتری اور سورج کے درمیان سیدھی لکیر میں آ جائے، جس کی وجہ سے مشتری بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا نے اپنے بلاگ میں لکھا، ’سال 2026 میں مشتری کو بہترین انداز میں دیکھنے کے لیے شام کے وقت مشرق کی جانب دیکھیں۔ آپ اسے جیمینی برج میں دیکھ سکیں گے۔ یہ رات کے آسمان کا سب سے روشن سیارہ ہوگا، صرف چاند اور زہرہ اس سے زیادہ روشن ہوں گے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497707/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;10 جنوری 2026 کو مشتری پوری رات دکھائی دے گا، لیکن رات کے 12 بجے کے قریب جب یہ آسمان میں سب سے بلند ہوگا، اسے دیکھنا سب سے بہتر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلِی اسکوپ کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ آنکھ سے بھی سب سے روشن ستارے جیسا دکھائی دے گا اور تمام ستاروں سے زیادہ چمکے گا (سوا ئے زہرہ کے جو سورج کے پیچھے چھپا ہوگا)۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497720/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497720"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشتری کی روشنائی -2.7 میگنیٹیوڈ ہے، جو اسے آنکھ سے آسانی سے دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اس کا ڈسک 45.6 آرک سیکنڈز قطر میں ہوگا، جو دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے دیکھنے پر دلکش منظر پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو لوگ اسپیس ٹیلی اسکوپ استعمال کرتے ہیں، وہ مشتری کے چار سب سے بڑے چاند بھی دیکھ سکیں گے: آئو (Io)، یوروپا (Europa)، گینی میڈ (Ganymede) اور کالِسٹو (Callisto)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا کے مطابق یہ موقع فلکیات کے شوقین افراد کے لیے نایاب ہے۔ چاہے آپ محض آسمان دیکھنے کے شوقین ہوں یا ماہر فلکیات کے شوقین، 10 جنوری کو آسمان کی جانب دیکھنا نہ بھولیں، کیونکہ مشتری اپنی پوری روشنی اور وسعت کے ساتھ نظر آئے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ستاروں کے شوقین افراد کے لیے ایک یادگار لمحہ آنے والا ہے، جب 10 جنوری 2026 کو سیارہ مشتری اپنے ”اوپوزیشن“ مقام پر پہنچے گا۔ اس دن یہ گیس دیو اپنی پوری روشنی اور وسعت کے ساتھ رات کے آسمان میں سب سے نمایاں نظر آئے گا۔</strong></p>
<p>ناسا کے مطابق ”اوپوزیشن“ اس وقت ہوتی ہے جب زمین مشتری اور سورج کے درمیان سیدھی لکیر میں آ جائے، جس کی وجہ سے مشتری بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>ناسا نے اپنے بلاگ میں لکھا، ’سال 2026 میں مشتری کو بہترین انداز میں دیکھنے کے لیے شام کے وقت مشرق کی جانب دیکھیں۔ آپ اسے جیمینی برج میں دیکھ سکیں گے۔ یہ رات کے آسمان کا سب سے روشن سیارہ ہوگا، صرف چاند اور زہرہ اس سے زیادہ روشن ہوں گے۔‘</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497707/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>10 جنوری 2026 کو مشتری پوری رات دکھائی دے گا، لیکن رات کے 12 بجے کے قریب جب یہ آسمان میں سب سے بلند ہوگا، اسے دیکھنا سب سے بہتر ہوگا۔</p>
<p>اسے دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلِی اسکوپ کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ آنکھ سے بھی سب سے روشن ستارے جیسا دکھائی دے گا اور تمام ستاروں سے زیادہ چمکے گا (سوا ئے زہرہ کے جو سورج کے پیچھے چھپا ہوگا)۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497720/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497720"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مشتری کی روشنائی -2.7 میگنیٹیوڈ ہے، جو اسے آنکھ سے آسانی سے دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اس کا ڈسک 45.6 آرک سیکنڈز قطر میں ہوگا، جو دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے دیکھنے پر دلکش منظر پیش کرتا ہے۔</p>
<p>جو لوگ اسپیس ٹیلی اسکوپ استعمال کرتے ہیں، وہ مشتری کے چار سب سے بڑے چاند بھی دیکھ سکیں گے: آئو (Io)، یوروپا (Europa)، گینی میڈ (Ganymede) اور کالِسٹو (Callisto)۔</p>
<p>ناسا کے مطابق یہ موقع فلکیات کے شوقین افراد کے لیے نایاب ہے۔ چاہے آپ محض آسمان دیکھنے کے شوقین ہوں یا ماہر فلکیات کے شوقین، 10 جنوری کو آسمان کی جانب دیکھنا نہ بھولیں، کیونکہ مشتری اپنی پوری روشنی اور وسعت کے ساتھ نظر آئے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498122</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 13:27:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/07115406d4b0425.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/07115406d4b0425.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
