<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:26:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:26:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرین لینڈ کے نیچے کیا ہے؟ سائنس دانوں نے دنیا کو خبردار کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498175/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ کی برف کی تہہ تیزی سے پگھل رہی ہے اور یہ عمل مستقبل میں دوبارہ رونما ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برف کی موجودہ پگھلنے کی رفتار سمندر کی سطح میں اضافے کے امکانات کو بڑھا رہی ہے، جس سے دنیا بھر کے ساحلی علاقوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی تحقیق کے مطابق گرین لینڈ کی برف کی تہہ کے بڑے حصے ماضی میں مکمل طور پر پگھل چکے ہیں اور اب کرہ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث یہ دوبارہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرین لینڈ آئس شیٹ کے ایک بلند مقام پر کی گئی کھدائی کے نمونوں سے پتا چلا کہ برف گزشتہ 10 ہزار سالوں میں غائب ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ میں انسانی سرگرمیوں کے علاوہ ایک اور عنصر بھی برف پگھلنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوٹاوا یونیورسٹی کے محققین اور بین الاقوامی شراکت داروں کے مطابق گرین لینڈ کی زیرِ زمین گہری اور ناہموار گرمی برف کو تیزی سے نقصان پہنچا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498165/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں نے جدید ترین ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ ڈیٹا، سیسمک ریڈنگ، کشش ثقل کی پیمائش اور کمپیوٹر سمیلیشنز کے ذریعے بنائے گئے 3D درجہ حرارت کے ماڈلز کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ماڈلز سے معلوم ہوا کہ برف کے نیچے کی بنیاد کچھ جگہوں پر دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ گرم ہے، جس کی وجہ سے پگھلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برف کے تیزی سے پگھلنے کا مطلب ہے کہ سمندر میں اضافی پانی شامل ہو رہا ہے، جو سمندری سطح میں اضافہ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سمندر کی سطح میں اضافہ توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے ساحلی شہروں پر محسوس ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ کی برف کی تہہ تیزی سے پگھل رہی ہے اور یہ عمل مستقبل میں دوبارہ رونما ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برف کی موجودہ پگھلنے کی رفتار سمندر کی سطح میں اضافے کے امکانات کو بڑھا رہی ہے، جس سے دنیا بھر کے ساحلی علاقوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>نئی تحقیق کے مطابق گرین لینڈ کی برف کی تہہ کے بڑے حصے ماضی میں مکمل طور پر پگھل چکے ہیں اور اب کرہ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث یہ دوبارہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرین لینڈ آئس شیٹ کے ایک بلند مقام پر کی گئی کھدائی کے نمونوں سے پتا چلا کہ برف گزشتہ 10 ہزار سالوں میں غائب ہو چکی ہے۔</p>
<p>ماہرین نے کہا ہے کہ گلوبل وارمنگ میں انسانی سرگرمیوں کے علاوہ ایک اور عنصر بھی برف پگھلنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p>اوٹاوا یونیورسٹی کے محققین اور بین الاقوامی شراکت داروں کے مطابق گرین لینڈ کی زیرِ زمین گہری اور ناہموار گرمی برف کو تیزی سے نقصان پہنچا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498165/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سائنسدانوں نے جدید ترین ٹیکنالوجی جیسے سیٹلائٹ ڈیٹا، سیسمک ریڈنگ، کشش ثقل کی پیمائش اور کمپیوٹر سمیلیشنز کے ذریعے بنائے گئے 3D درجہ حرارت کے ماڈلز کا استعمال کیا۔</p>
<p>ان ماڈلز سے معلوم ہوا کہ برف کے نیچے کی بنیاد کچھ جگہوں پر دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ گرم ہے، جس کی وجہ سے پگھلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برف کے تیزی سے پگھلنے کا مطلب ہے کہ سمندر میں اضافی پانی شامل ہو رہا ہے، جو سمندری سطح میں اضافہ کر رہا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سمندر کی سطح میں اضافہ توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے ساحلی شہروں پر محسوس ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498175</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 11:41:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/08114056a31f440.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/08114056a31f440.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
