<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 07:14:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 07:14:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی تا دسمبر 2025: تنخواہ دار طبقے نے کتنا انکم ٹیکس ادا کیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498203/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جولائی تا دسمبر 2025 میں تنخواہ داروں کی انکم ٹیکس ادا کرنے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع ایف بی آر کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران تنخواہ دار طبقے نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً 10 فیصد رہا۔ تنخواہ دار کا ادا کیا گیا ٹیکس رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ادا ٹیکس سے دوگنا سے بھی زیادہ رہا، تنخواہ دارطبقے کا ٹیکس گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے یا 9 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہ دارطبقہ اپنی مجموعی آمدن کا تقریباً 38 فیصد ٹیکس کی صورت میں دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے پر علاقائی ممالک کے مقابلے میں ٹیکس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ نان کارپوریٹ ملازمین نے سب سے زیادہ 117 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، یہ انکم ٹیکس گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 82 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو سالانہ بنیاد پر 13 فیصد زیادہ ہے، صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 39 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو پچھلے سال کے مقابلے 7 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495427/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495427"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین نے 27 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کروایا، پلاٹوں کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس دوتہائی اضافے سے 87 ارب روپے تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ پلاٹوں کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی میں 29 فیصد کمی ہوئی، یہ 39 ارب روپے رہی، جولائی تا دسمبر رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں وصول کیے، یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جولائی تا دسمبر 2025 میں تنخواہ داروں کی انکم ٹیکس ادا کرنے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع ایف بی آر کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران تنخواہ دار طبقے نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً 10 فیصد رہا۔ تنخواہ دار کا ادا کیا گیا ٹیکس رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ادا ٹیکس سے دوگنا سے بھی زیادہ رہا، تنخواہ دارطبقے کا ٹیکس گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے یا 9 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہ دارطبقہ اپنی مجموعی آمدن کا تقریباً 38 فیصد ٹیکس کی صورت میں دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے پر علاقائی ممالک کے مقابلے میں ٹیکس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ نان کارپوریٹ ملازمین نے سب سے زیادہ 117 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، یہ انکم ٹیکس گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 82 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو سالانہ بنیاد پر 13 فیصد زیادہ ہے، صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 39 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو پچھلے سال کے مقابلے 7 فیصد کم ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495427/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495427"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین نے 27 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کروایا، پلاٹوں کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس دوتہائی اضافے سے 87 ارب روپے تک پہنچ گیا۔</p>
<p>ایف بی آر کے ذرائع نے کہا کہ پلاٹوں کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی میں 29 فیصد کمی ہوئی، یہ 39 ارب روپے رہی، جولائی تا دسمبر رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں وصول کیے، یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498203</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 20:22:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/0820203747cd74f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/0820203747cd74f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
