<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 19:55:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 19:55:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوپن اے آئی نے صارفین کی سہولت کے لیے ’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ‘ متعارف کرادیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498218/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوپن اے آئی نے صحت کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ”چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ“ متعارف کیا گیا ہے۔ یہ خصوصی سہولت صارفین کو ان کے طبی ریکارڈز اور فٹنس ایپس سے محفوظ طریقے سے مربوط کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ سان فرانسسکو کی اس اے آئی کمپنی نے اسے 60 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 260 سے زائد ڈاکٹروں کی قریبی مشاورت سے تیار کیا ہے تاکہ صارفین کو صحت اور فٹنس کے حوالے سے زیادہ مفید اور ذاتی نوعیت کی معلومات فراہم کی جا سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سہولت صارفین کو اپنی صحت کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس کا بہترفیصلہ یا انتظام کرنے میں مدد دیتی ہے، مگر یہ کسی صورت میں تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن اے آئی کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://openai.com/index/introducing-chatgpt-health/"&gt;بلاگ پوسٹ&lt;/a&gt; کے مطابق، ہر ہفتے 23 کروڑ سے زائد افراد صحت اور فٹنس سے جڑے سوالات کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہیں جو اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ کمپنی کا واضح موقف ہے کہ یہ تشخیصی یا علاجی مقاصد کے لیے نہیں، بلکہ روزمرہ کے صحت سے متعلق سوالات، ٹیسٹ رپورٹس کی تفہیم، ڈاکٹر کے پاس جانے کی تیاری، غذا و ورزش کے مشوروں، یا انشورنس اختیارات کی جانچ پڑتال میں معاونت فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30469688'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30469688"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صحت کے ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ چیٹس کو 30 دنوں میں ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔ تمام چیٹس اور فائلز ڈیفالٹ کے طور پر انکرپٹڈ رہتی ہیں۔  ذاتی معلومات کو برقرار نہیں رکھا جاتا اس کے ساتھ ہی ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن (ایم ایف اے) کا آپشن بھی فعال کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر ’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ‘ کا تجربہ ایک محدود گروپ کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگا تاکہ فیچر کو بہتر بنایا جا سکے۔ کمپنی نے بتایا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی فری، جی پی ٹی گو، پلس اور پرو کے صارفین اس سہولت کے اہل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح رہے کہ یورپی اکنامک ایریا، سوئٹزرلینڈ، اور یو کے اس میں شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30448878'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30448878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اوپن اے آئی کا یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ صحت کے حوالے سے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں محتاط لیکن فعال رویہ اپنانا ضروری ہے، تاکہ صارفین زیادہ آگاہ ہو کر اپنی صحت کا بہتر انتظام کر سکیں بغیر اس کے کہ وہ خود علاج کا انحصار اے آئی پر کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوپن اے آئی نے صحت کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ”چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ“ متعارف کیا گیا ہے۔ یہ خصوصی سہولت صارفین کو ان کے طبی ریکارڈز اور فٹنس ایپس سے محفوظ طریقے سے مربوط کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ سان فرانسسکو کی اس اے آئی کمپنی نے اسے 60 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 260 سے زائد ڈاکٹروں کی قریبی مشاورت سے تیار کیا ہے تاکہ صارفین کو صحت اور فٹنس کے حوالے سے زیادہ مفید اور ذاتی نوعیت کی معلومات فراہم کی جا سکیں۔</strong></p>
<p>یہ سہولت صارفین کو اپنی صحت کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس کا بہترفیصلہ یا انتظام کرنے میں مدد دیتی ہے، مگر یہ کسی صورت میں تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہے۔</p>
<p>اوپن اے آئی کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://openai.com/index/introducing-chatgpt-health/">بلاگ پوسٹ</a> کے مطابق، ہر ہفتے 23 کروڑ سے زائد افراد صحت اور فٹنس سے جڑے سوالات کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہیں جو اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ کمپنی کا واضح موقف ہے کہ یہ تشخیصی یا علاجی مقاصد کے لیے نہیں، بلکہ روزمرہ کے صحت سے متعلق سوالات، ٹیسٹ رپورٹس کی تفہیم، ڈاکٹر کے پاس جانے کی تیاری، غذا و ورزش کے مشوروں، یا انشورنس اختیارات کی جانچ پڑتال میں معاونت فراہم کرے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30469688'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30469688"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>صحت کے ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ چیٹس کو 30 دنوں میں ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔ تمام چیٹس اور فائلز ڈیفالٹ کے طور پر انکرپٹڈ رہتی ہیں۔  ذاتی معلومات کو برقرار نہیں رکھا جاتا اس کے ساتھ ہی ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن (ایم ایف اے) کا آپشن بھی فعال کرسکتے ہیں۔</p>
<p>ابتدائی طور پر ’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ‘ کا تجربہ ایک محدود گروپ کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگا تاکہ فیچر کو بہتر بنایا جا سکے۔ کمپنی نے بتایا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی فری، جی پی ٹی گو، پلس اور پرو کے صارفین اس سہولت کے اہل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح رہے کہ یورپی اکنامک ایریا، سوئٹزرلینڈ، اور یو کے اس میں شامل نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30448878'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30448878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>اوپن اے آئی کا یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ صحت کے حوالے سے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں محتاط لیکن فعال رویہ اپنانا ضروری ہے، تاکہ صارفین زیادہ آگاہ ہو کر اپنی صحت کا بہتر انتظام کر سکیں بغیر اس کے کہ وہ خود علاج کا انحصار اے آئی پر کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498218</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 11:19:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/09110403c82a21a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/09110403c82a21a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
