<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 13:12:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 13:12:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی صدر کے ’ڈومز ڈے‘ طیارے کی آمد، تیسری عالمی جنگ کا اشارہ؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498268/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ کا مخصوص صدراتی طیارہ جسے ڈومز ڈے پلین بھی کہا جاتا ہے، حال ہی میں لاس اینجلس کے ہوائی اڈے لیکس پر دیکھا گیا، جس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑ کردیا اور کئی صارفین نے عالمی تنازعات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھرٹی مائل اسٹون ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس طیارے کا نام بوئنگ ای -4 ایڈوانس ایئربورن کمانڈ پوسٹ ہے، جو عام حالات میں بھی ہمیشہ الرٹ رہتا ہے اور اکثر ہوا میں موجود ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طیارے کو نیوکلیئر دھماکے برداشت کرنے کے قابل بنایا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ الیکٹرو میگنیٹک پلس سے بھی محفوظ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_com/status/2009656823813730653'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RT_com/status/2009656823813730653"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی فضائیہ کے مطابق اس طیارے کا مقصد یہ ہے کہ قومی ہنگامی صورتحال یا زمینی کمان اور کنٹرول سینٹرز کے تباہ ہونے کی صورت میں یہ طیارہ ایک مضبوط اور محفوظ کمان، کنٹرول اور کمیونیکیشن سینٹر کے طور پر کام کرے گا، تاکہ امریکی افواج کو ہدایات دی جا سکیں، جنگی احکامات پر عمل درآمد ہو اور شہری حکام کے اقدامات کا کوآرڈینیشن ممکن ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498251/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498251"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اس طیارے کے دیکھے جانے کے بعد قیاس آرائیاں شروع کردیں کہ شاید ہم عالمی جنگ سوم کے قریب پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک وائٹ ہاؤس یا امریکی فضائی انتظامیہ کی جانب سے کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی گئی کہ یہ طیارہ اس وقت کیوں فعال ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے نے عالمی سطح پر موجودہ انتہائی کشیدہ عالمی حالات کے پیش نظر ایک اہم بحث کو جنم دے دیا ہے، اور لوگ طیارے کی موجودگی کے پس منظر میں ممکنہ ہنگامی صورتحال پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ کا مخصوص صدراتی طیارہ جسے ڈومز ڈے پلین بھی کہا جاتا ہے، حال ہی میں لاس اینجلس کے ہوائی اڈے لیکس پر دیکھا گیا، جس نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑ کردیا اور کئی صارفین نے عالمی تنازعات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔</strong></p>
<p>تھرٹی مائل اسٹون ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس طیارے کا نام بوئنگ ای -4 ایڈوانس ایئربورن کمانڈ پوسٹ ہے، جو عام حالات میں بھی ہمیشہ الرٹ رہتا ہے اور اکثر ہوا میں موجود ہوتا ہے۔</p>
<p>اس طیارے کو نیوکلیئر دھماکے برداشت کرنے کے قابل بنایا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ الیکٹرو میگنیٹک پلس سے بھی محفوظ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_com/status/2009656823813730653'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RT_com/status/2009656823813730653"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی فضائیہ کے مطابق اس طیارے کا مقصد یہ ہے کہ قومی ہنگامی صورتحال یا زمینی کمان اور کنٹرول سینٹرز کے تباہ ہونے کی صورت میں یہ طیارہ ایک مضبوط اور محفوظ کمان، کنٹرول اور کمیونیکیشن سینٹر کے طور پر کام کرے گا، تاکہ امریکی افواج کو ہدایات دی جا سکیں، جنگی احکامات پر عمل درآمد ہو اور شہری حکام کے اقدامات کا کوآرڈینیشن ممکن ہو۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498251/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498251"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اس طیارے کے دیکھے جانے کے بعد قیاس آرائیاں شروع کردیں کہ شاید ہم عالمی جنگ سوم کے قریب پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>اب تک وائٹ ہاؤس یا امریکی فضائی انتظامیہ کی جانب سے کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی گئی کہ یہ طیارہ اس وقت کیوں فعال ہوا ہے۔</p>
<p>اس واقعے نے عالمی سطح پر موجودہ انتہائی کشیدہ عالمی حالات کے پیش نظر ایک اہم بحث کو جنم دے دیا ہے، اور لوگ طیارے کی موجودگی کے پس منظر میں ممکنہ ہنگامی صورتحال پر غور کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498268</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 12:51:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/1012265110bdc1c.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/1012265110bdc1c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
