<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 24 May 2026 22:23:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 24 May 2026 22:23:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی خلائی ایجنسی کا ایک اور مشن ناکام، 16 سیٹلائٹس ضائع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498350/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) کا سال 2026 کا پہلا مشن ناکام ہو گیا ہے۔ اس مشن کے ذریعے 16 سیٹلائٹس کو مدار میں پہنچایا جانا تھا، جس میں بھارتی اور غیر ملکی سیٹلائٹس شامل تھیں۔ تاہم بھارت کا ’پی ایس ایل وی‘ راکٹ پرواز کے دوران ہی تکنیکی خرابی کا شکار ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسلسل دوسری بار ہے کہ بھارت کا پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) مشن ناکام ہوا ہے، جسے اسرو کا ’ورک ہارس‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے اب تک بڑی تعداد میں کامیاب مشنز انجام دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://theprint.in/science/isro-2026-mission-pslv-failure/2824748/"&gt;بھارتی میڈیا &lt;/a&gt;کے مطابق پی ایس ایل وی راکٹ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھارت کے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر پرواز بھری۔ یہ پی ایس ایل وی کی مئی 2025 کے بعد پہلی لانچ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشن نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) کا نواں کمرشل مشن تھا، جو اسرو کا تجارتی شعبہ ہے، جس میں بھارتی اور بین الاقوامی اسٹارٹ اپس کے ساتھ اشتراک شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشن خاص طور پر اسپین کے اسٹارٹ اپ ’آربیٹل پیراڈائم‘ کے ایک سیٹلائٹ کو لے جانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا تھا، جس کا مقصد زمین کے ماحول میں دوبارہ داخلے (ری انٹری) کا مظاہرہ کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی خلائی ادارے کے مطابق راکٹ (پی ایس ایل وی سی-62) مشن کی لانچ کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ مشن کو تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی تفصیلی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/isro/status/2010582403732132185'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/isro/status/2010582403732132185"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے لانچ کی براہِ راست نشریات کے دوران بتایا کہ یہ مشن چار مراحل پر مشتمل تھا اور تیسرے مرحلے کے اختتام تک اس کی کارکردگی معمول کے مطابق رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تیسرے مرحلے کے آخر میں راکٹ میں خرابی پیدا ہوئی اور اس نے پرواز کا رخ تبدیل کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جارہا ہے، مزید تفصیلات جلد ہی جاری کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/isro/status/2010237657612460198'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/isro/status/2010237657612460198"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس مشن کا مرکزی پے لوڈ ’ای او ایس- این ون‘ تھا جسے انویشا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ تھا جو بھارتی فوج کے لیے انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tribuneindia.com/news/india/pslv-rocket-faces-anomaly-during-stage-3-of-launch-isro-investigates/"&gt;دی ٹریبیون&lt;/a&gt; کے مطابق یہ سیٹلائٹ زمین کی سطح کی مسلسل نگرانی کر کے ایسی تصاویر فراہم کرسکتا تھا، جس سے قیمتی عسکری معلومات حاصل کی جا سکتی تھیں۔ یہ بھارت کے نگرانی اور مواصلاتی فوجی سیٹلائٹس کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کا حصہ بننے والا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ’پی ایس ایل وی‘ گزشتہ سال 19 مئی کو لانچ کیا گیا تھا، جس میں زمین کے مدار کا مشاہدہ کرنے کے لیے ’ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ‘ بھی شامل تھا۔ وہ مشن بھی تیسرے مرحلے میں خرابی کے باعث ناکام ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) کا سال 2026 کا پہلا مشن ناکام ہو گیا ہے۔ اس مشن کے ذریعے 16 سیٹلائٹس کو مدار میں پہنچایا جانا تھا، جس میں بھارتی اور غیر ملکی سیٹلائٹس شامل تھیں۔ تاہم بھارت کا ’پی ایس ایل وی‘ راکٹ پرواز کے دوران ہی تکنیکی خرابی کا شکار ہوگیا۔</strong></p>
<p>یہ مسلسل دوسری بار ہے کہ بھارت کا پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) مشن ناکام ہوا ہے، جسے اسرو کا ’ورک ہارس‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے اب تک بڑی تعداد میں کامیاب مشنز انجام دیے ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://theprint.in/science/isro-2026-mission-pslv-failure/2824748/">بھارتی میڈیا </a>کے مطابق پی ایس ایل وی راکٹ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھارت کے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر پرواز بھری۔ یہ پی ایس ایل وی کی مئی 2025 کے بعد پہلی لانچ تھی۔</p>
<p>یہ مشن نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) کا نواں کمرشل مشن تھا، جو اسرو کا تجارتی شعبہ ہے، جس میں بھارتی اور بین الاقوامی اسٹارٹ اپس کے ساتھ اشتراک شامل تھا۔</p>
<p>یہ مشن خاص طور پر اسپین کے اسٹارٹ اپ ’آربیٹل پیراڈائم‘ کے ایک سیٹلائٹ کو لے جانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا تھا، جس کا مقصد زمین کے ماحول میں دوبارہ داخلے (ری انٹری) کا مظاہرہ کرنا تھا۔</p>
<p>بھارتی خلائی ادارے کے مطابق راکٹ (پی ایس ایل وی سی-62) مشن کی لانچ کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ مشن کو تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی تفصیلی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/isro/status/2010582403732132185'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/isro/status/2010582403732132185"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے لانچ کی براہِ راست نشریات کے دوران بتایا کہ یہ مشن چار مراحل پر مشتمل تھا اور تیسرے مرحلے کے اختتام تک اس کی کارکردگی معمول کے مطابق رہی۔</p>
<p>تاہم تیسرے مرحلے کے آخر میں راکٹ میں خرابی پیدا ہوئی اور اس نے پرواز کا رخ تبدیل کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جارہا ہے، مزید تفصیلات جلد ہی جاری کی جائیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/isro/status/2010237657612460198'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/isro/status/2010237657612460198"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس مشن کا مرکزی پے لوڈ ’ای او ایس- این ون‘ تھا جسے انویشا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ تھا جو بھارتی فوج کے لیے انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا تھا۔</p>
<p>بھارتی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tribuneindia.com/news/india/pslv-rocket-faces-anomaly-during-stage-3-of-launch-isro-investigates/">دی ٹریبیون</a> کے مطابق یہ سیٹلائٹ زمین کی سطح کی مسلسل نگرانی کر کے ایسی تصاویر فراہم کرسکتا تھا، جس سے قیمتی عسکری معلومات حاصل کی جا سکتی تھیں۔ یہ بھارت کے نگرانی اور مواصلاتی فوجی سیٹلائٹس کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کا حصہ بننے والا تھا۔</p>
<p>اس سے قبل ’پی ایس ایل وی‘ گزشتہ سال 19 مئی کو لانچ کیا گیا تھا، جس میں زمین کے مدار کا مشاہدہ کرنے کے لیے ’ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ‘ بھی شامل تھا۔ وہ مشن بھی تیسرے مرحلے میں خرابی کے باعث ناکام ہو گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498350</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 15:57:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/12153150f6efbf7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/12153150f6efbf7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
