<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 02 May 2026 20:50:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 02 May 2026 20:50:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چار سالہ سوتیلے بچے کا قتل، ملزمہ کی ضمانت منظور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498383/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ نے ننکانہ صاحب میں درج 4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کے مقدمے میں ملزمہ کی ضمانت منظور کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں عدالت نے مقدمے سے متعلق دلائل اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ملزمہ مدعی مقدمہ کی دوسری اہلیہ ہے، جس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بچہ اسکول سے صحیح سلامت گھر واپس آیا تھا اور گھر میں لاش اس کی واپسی پر ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل کے مطابق ملزمہ کے خلاف نہ کوئی گواہ موجود ہے اور نہ کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب ہیں۔ وکیل نے مزید کہا کہ بچہ پہلے بھی دمہ کا مریض تھا اور موت کی اصل وجہ کا تعین کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498380/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے میڈیکل رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ موت قدرتی نہیں تھی، تاہم جسٹس ملک شہزاد نے سوال اٹھایا کہ ”بچے کو ماں نے مارا کیسے پتہ چلے گا؟“ اور کہا کہ مقدمے کی کارروائی میں آدھے پہلو مدعی اور آدھے پہلو پولیس خراب کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ کے خلاف تھانہ ننکانہ صاحب میں قتل کے الزام کے تحت مقدمہ درج ہے۔ عدالت نے سماعت کے بعد دلائل اور شواہد کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ کو ضمانت دے دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ نے ننکانہ صاحب میں درج 4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کے مقدمے میں ملزمہ کی ضمانت منظور کر دی۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں عدالت نے مقدمے سے متعلق دلائل اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا۔</p>
<br>
<p>ذرائع کے مطابق ملزمہ مدعی مقدمہ کی دوسری اہلیہ ہے، جس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بچہ اسکول سے صحیح سلامت گھر واپس آیا تھا اور گھر میں لاش اس کی واپسی پر ملی۔</p>
<p>وکیل کے مطابق ملزمہ کے خلاف نہ کوئی گواہ موجود ہے اور نہ کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب ہیں۔ وکیل نے مزید کہا کہ بچہ پہلے بھی دمہ کا مریض تھا اور موت کی اصل وجہ کا تعین کرنا ضروری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498380/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالت نے میڈیکل رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ موت قدرتی نہیں تھی، تاہم جسٹس ملک شہزاد نے سوال اٹھایا کہ ”بچے کو ماں نے مارا کیسے پتہ چلے گا؟“ اور کہا کہ مقدمے کی کارروائی میں آدھے پہلو مدعی اور آدھے پہلو پولیس خراب کر رہی ہے۔</p>
<p>ملزمہ کے خلاف تھانہ ننکانہ صاحب میں قتل کے الزام کے تحت مقدمہ درج ہے۔ عدالت نے سماعت کے بعد دلائل اور شواہد کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ کو ضمانت دے دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498383</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 12:18:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/131218137452d43.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/131218137452d43.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
