<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:31:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:31:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متنازع چیٹ بوٹ ’گروک‘ کو پینٹاگون کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498397/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی محکمۂ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ایلون مسک کا تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ ’گروک‘ جلد پینٹاگون کے نیٹ ورک میں شامل کر لیا جائے گا۔ یہ نظام گوگل کے جنریٹو اے آئی انجن کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور اس اقدام کا مقصد فوج کے زیادہ سے زیادہ ڈیٹا کو جدید اے آئی ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پیر کے روز ٹیکساس میں ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد دنیا کے جدید ترین اے آئی ماڈلز محکمۂ دفاع کے ہر خفیہ اور غیر خفیہ نیٹ ورک پر دستیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ’گروک‘ اسی ماہ کے آخر میں باقاعدہ طور پر ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ میں فعال ہو جائے گا، جبکہ فوج کے آئی ٹی سسٹمز اور انٹیلی جنس ڈیٹا کو بھی اے آئی کے استعمال کے لیے فراہم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/artificial-intelligence-pentagon-hegseth-musk-7f99e5f32ec70d7e39cec92d2a4ec862"&gt;ایسوسی ایٹڈ پریس &lt;/a&gt;کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گروک کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں اے آئی پر بغیر اجازت لوگوں کی جعلی اور جنسی نوعیت کی تصاویر بنانے کے الزامات لگے، جس کے بعد ملائیشیا اور انڈونیشیا نے گروک پر پابندی عائد کر دی، جبکہ برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ادارے نے اس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ان حالات کے بعد گروک نے تصویر بنانے اور ایڈیٹنگ کی سہولت صرف ادائیگی کرنے والے صارفین تک محدود کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498349/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498349"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ فوج کے پاس گزشتہ بیس سال کے جنگی اور انٹیلی جنس آپریشنز کا قیمتی ڈیٹا موجود ہے، اور اے آئی کی کارکردگی کا دارومدار اسی ڈیٹا پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فوج اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اے آئی کو مؤثر بنانے کے لیے مناسب ڈیٹا فراہم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اے آئی کے استعمال پر امریکی حکومت کے اندر پہلے بھی اختلافات رہے ہیں۔ سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 2024 کے آخر میں ایک فریم ورک متعارف کرایا تھا، جس کے تحت قومی سلامتی کے اداروں کو اے آئی کے استعمال کی اجازت دی گئی، مگر ساتھ ہی کچھ حدود بھی مقرر کی گئی تھیں، جیسے شہری حقوق کی خلاف ورزی یا جوہری ہتھیاروں کے خودکار استعمال پر پابندی۔ یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ میں یہ پابندیاں برقرار ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب کے دوران، پیٹ ہیگستھ نے فوج میں تکنیکی جدت کو تیز اور مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدت کہیں سے بھی آ سکتی ہے اور اسے تیزی اور مقصد کے ساتھ ترقی کرنی چاہیے تاکہ فوجی نظام زیادہ مؤثر اور جدید ہو سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498392/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہیگستھ نے مزید کہا کہ فوجی اے آئی نظام نظریاتی پابندیوں کے بغیر کام کرے گا اور قانونی فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔ ان کے الفاظ میں، پینٹاگون کا اے آئی کسی نظریاتی ایجنڈے کا پابند نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایلون مسک نے گروک کو دیگر چیٹ بوٹس کے مقابلے میں ایک متبادل کے طور پر پیش کیا تھا۔ ماضی میں گروک کو بعض متنازع بیانات اور نفرت انگیز مواد سے جوڑا گیا، جس پر سوالات بھی اٹھے۔ ان معاملات پر پینٹاگون کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی محکمۂ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ایلون مسک کا تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ ’گروک‘ جلد پینٹاگون کے نیٹ ورک میں شامل کر لیا جائے گا۔ یہ نظام گوگل کے جنریٹو اے آئی انجن کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور اس اقدام کا مقصد فوج کے زیادہ سے زیادہ ڈیٹا کو جدید اے آئی ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پیر کے روز ٹیکساس میں ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد دنیا کے جدید ترین اے آئی ماڈلز محکمۂ دفاع کے ہر خفیہ اور غیر خفیہ نیٹ ورک پر دستیاب ہوں گے۔</p>
<p>ان کے مطابق ’گروک‘ اسی ماہ کے آخر میں باقاعدہ طور پر ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ میں فعال ہو جائے گا، جبکہ فوج کے آئی ٹی سسٹمز اور انٹیلی جنس ڈیٹا کو بھی اے آئی کے استعمال کے لیے فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/artificial-intelligence-pentagon-hegseth-musk-7f99e5f32ec70d7e39cec92d2a4ec862">ایسوسی ایٹڈ پریس </a>کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گروک کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں اے آئی پر بغیر اجازت لوگوں کی جعلی اور جنسی نوعیت کی تصاویر بنانے کے الزامات لگے، جس کے بعد ملائیشیا اور انڈونیشیا نے گروک پر پابندی عائد کر دی، جبکہ برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ادارے نے اس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ان حالات کے بعد گروک نے تصویر بنانے اور ایڈیٹنگ کی سہولت صرف ادائیگی کرنے والے صارفین تک محدود کر دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498349/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498349"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ فوج کے پاس گزشتہ بیس سال کے جنگی اور انٹیلی جنس آپریشنز کا قیمتی ڈیٹا موجود ہے، اور اے آئی کی کارکردگی کا دارومدار اسی ڈیٹا پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فوج اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اے آئی کو مؤثر بنانے کے لیے مناسب ڈیٹا فراہم کیا جائے۔</p>
<p>تاہم اے آئی کے استعمال پر امریکی حکومت کے اندر پہلے بھی اختلافات رہے ہیں۔ سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 2024 کے آخر میں ایک فریم ورک متعارف کرایا تھا، جس کے تحت قومی سلامتی کے اداروں کو اے آئی کے استعمال کی اجازت دی گئی، مگر ساتھ ہی کچھ حدود بھی مقرر کی گئی تھیں، جیسے شہری حقوق کی خلاف ورزی یا جوہری ہتھیاروں کے خودکار استعمال پر پابندی۔ یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ میں یہ پابندیاں برقرار ہیں یا نہیں۔</p>
<p>اپنے خطاب کے دوران، پیٹ ہیگستھ نے فوج میں تکنیکی جدت کو تیز اور مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدت کہیں سے بھی آ سکتی ہے اور اسے تیزی اور مقصد کے ساتھ ترقی کرنی چاہیے تاکہ فوجی نظام زیادہ مؤثر اور جدید ہو سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498392/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہیگستھ نے مزید کہا کہ فوجی اے آئی نظام نظریاتی پابندیوں کے بغیر کام کرے گا اور قانونی فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔ ان کے الفاظ میں، پینٹاگون کا اے آئی کسی نظریاتی ایجنڈے کا پابند نہیں ہوگا۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایلون مسک نے گروک کو دیگر چیٹ بوٹس کے مقابلے میں ایک متبادل کے طور پر پیش کیا تھا۔ ماضی میں گروک کو بعض متنازع بیانات اور نفرت انگیز مواد سے جوڑا گیا، جس پر سوالات بھی اٹھے۔ ان معاملات پر پینٹاگون کی جانب سے فی الحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498397</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 19:48:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/131542328fd1f81.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/131542328fd1f81.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
