<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 22:25:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 22:25:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین حقوق کی تنظیموں کا ایپل اور گوگل پر دباؤ، ’ایکس اور گروک ایپ کو ہٹایا جائے‘</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498482/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خواتین کے حقوق کی تنظیموں، ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے اداروں اور ترقی پسند گروپس کے ایک اتحاد نے ایپل اور گوگل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور اس سے منسلک چیٹ بوٹ گروک کو اپنے ایپ اسٹورز سے ہٹا دیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان گروپس کا کہنا ہے کہ یہ ایپس ایسا مواد تیار کر رہی ہیں جو غیر قانونی ہے اور دونوں کمپنیوں کی اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز شائع کیے گئے کھلے خطوط میں اس اتحاد نے الزام لگایا کہ ایکس اور اس کی اے آئی سروس ’گروک‘ ایسے جنسی نوعیت کے، توہین آمیز اور پرتشدد مواد کو فروغ دے رہی ہیں، جن کا نشانہ خاص طور پر خواتین اور بچے بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خطوط پر دستخط کرنے والوں میں فیمینسٹ تنظیم الٹراوائلٹ، نیشنل آرگنائزیشن فار ویمن، لبرل گروپ موو آن اور والدین کی نمائندہ تنظیم پیرنٹس ٹوگیدر ایکشن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498470/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498470"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;الٹراوائلٹ کی مہماتی ڈائریکٹر جینا شرمین نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایپل اور گوگل کو اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ایپ اسٹورز کے ذریعے ایسے نظام کو سہولت دی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں بلکہ دسیوں ہزار افراد، خاص طور پر خواتین اور بچوں، کو جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دباؤ اس وقت بڑھا جب نئے سال کے آغاز پر ایکس پر خواتین اور کم عمر بچوں کی انتہائی حقیقت سے قریب تصاویر گردش کرنے لگیں، جن میں انہیں نامناسب لباس میں دکھایا گیا تھا۔ اس کے بعد ملائیشیا اور انڈونیشیا نے گروک پر پابندی عائد کر دی، جبکہ یورپ اور برطانیہ میں حکام نے تحقیقات شروع کر دیں اور وضاحتیں طلب کیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498278'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498278"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے کے اثرات دیگر اداروں تک بھی پہنچے ہیں۔ منگل کے روز امریکن فیڈریشن آف ٹیچرز نے اعلان کیا کہ وہ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو چھوڑ رہے ہیں، کیونکہ گروک کے ذریعے بچوں کی نازیبا تصاویر بنائے جانے پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس نے ان خطوط پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ اس کی ذیلی کمپنی ایکس اے آئی، جو گروک کو چلاتی ہے، نے مختصر ردعمل میں کہا کہ یہ سب روایتی میڈیا کے جھوٹ ہیں۔ ایپل اور گوگل کی جانب سے بھی اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498397'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498397"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایکس کا کہنا ہے کہ اس نے گروک کے رویے میں تبدیلی کی ہے تاکہ چیٹ بوٹ کی جانب سے بنائی یا ترمیم کی گئی تصاویر عوامی ٹائم لائن پر شائع نہ ہوں، تاہم رائٹرز کے ایک حالیہ تجربے میں یہ بات سامنے آئی کہ گروک اب بھی لوگوں کی تصاویر کو بیکنی میں تبدیل کر کے فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جینا شرمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایپل اور گوگل دونوں بچوں کے تحفظ کے دعوے کرتے ہیں، لیکن ایکس کے معاملے میں ان کا طرزِ عمل ہی یہ واضح کرے گا کہ عملی طور پر ان کی ترجیحات اور اقدار کیا ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خواتین کے حقوق کی تنظیموں، ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے اداروں اور ترقی پسند گروپس کے ایک اتحاد نے ایپل اور گوگل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور اس سے منسلک چیٹ بوٹ گروک کو اپنے ایپ اسٹورز سے ہٹا دیں۔</strong></p>
<p>ان گروپس کا کہنا ہے کہ یہ ایپس ایسا مواد تیار کر رہی ہیں جو غیر قانونی ہے اور دونوں کمپنیوں کی اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔</p>
<p>بدھ کے روز شائع کیے گئے کھلے خطوط میں اس اتحاد نے الزام لگایا کہ ایکس اور اس کی اے آئی سروس ’گروک‘ ایسے جنسی نوعیت کے، توہین آمیز اور پرتشدد مواد کو فروغ دے رہی ہیں، جن کا نشانہ خاص طور پر خواتین اور بچے بن رہے ہیں۔</p>
<p>ان خطوط پر دستخط کرنے والوں میں فیمینسٹ تنظیم الٹراوائلٹ، نیشنل آرگنائزیشن فار ویمن، لبرل گروپ موو آن اور والدین کی نمائندہ تنظیم پیرنٹس ٹوگیدر ایکشن شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498470/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498470"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>الٹراوائلٹ کی مہماتی ڈائریکٹر جینا شرمین نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایپل اور گوگل کو اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔</p>
<p>ان کے مطابق ایپ اسٹورز کے ذریعے ایسے نظام کو سہولت دی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں بلکہ دسیوں ہزار افراد، خاص طور پر خواتین اور بچوں، کو جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>یہ دباؤ اس وقت بڑھا جب نئے سال کے آغاز پر ایکس پر خواتین اور کم عمر بچوں کی انتہائی حقیقت سے قریب تصاویر گردش کرنے لگیں، جن میں انہیں نامناسب لباس میں دکھایا گیا تھا۔ اس کے بعد ملائیشیا اور انڈونیشیا نے گروک پر پابندی عائد کر دی، جبکہ یورپ اور برطانیہ میں حکام نے تحقیقات شروع کر دیں اور وضاحتیں طلب کیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498278'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498278"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس معاملے کے اثرات دیگر اداروں تک بھی پہنچے ہیں۔ منگل کے روز امریکن فیڈریشن آف ٹیچرز نے اعلان کیا کہ وہ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو چھوڑ رہے ہیں، کیونکہ گروک کے ذریعے بچوں کی نازیبا تصاویر بنائے جانے پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔</p>
<p>ایکس نے ان خطوط پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ اس کی ذیلی کمپنی ایکس اے آئی، جو گروک کو چلاتی ہے، نے مختصر ردعمل میں کہا کہ یہ سب روایتی میڈیا کے جھوٹ ہیں۔ ایپل اور گوگل کی جانب سے بھی اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498397'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498397"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایکس کا کہنا ہے کہ اس نے گروک کے رویے میں تبدیلی کی ہے تاکہ چیٹ بوٹ کی جانب سے بنائی یا ترمیم کی گئی تصاویر عوامی ٹائم لائن پر شائع نہ ہوں، تاہم رائٹرز کے ایک حالیہ تجربے میں یہ بات سامنے آئی کہ گروک اب بھی لوگوں کی تصاویر کو بیکنی میں تبدیل کر کے فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>جینا شرمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایپل اور گوگل دونوں بچوں کے تحفظ کے دعوے کرتے ہیں، لیکن ایکس کے معاملے میں ان کا طرزِ عمل ہی یہ واضح کرے گا کہ عملی طور پر ان کی ترجیحات اور اقدار کیا ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498482</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Jan 2026 11:26:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/15111752a18be6b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/15111752a18be6b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
