<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:08:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 16:08:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کو کمیٹیوں سے مستعفی ہونا مہنگا پڑگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498487/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں پنجاب اسمبلی کے اندر اپوزیشن کو کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق اپوزیشن ارکان کی جانب سے دیے گئے استعفوں کو تین ماہ گزرنے کے باوجود تاحال منظور نہیں کیا گیا، جس کے باعث اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں حکومتی ارکان کے ذریعے یک طرفہ قانون سازی کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی عدم شرکت کے دوران پنجاب اسمبلی سے 28 بل اپوزیشن کی رائے اور مشاورت کے بغیر منظور کر لیے گئے۔ اس صورتحال نے اپوزیشن کے پارلیمانی کردار کو مزید کمزور کر دیا ہے، جبکہ حکومت کو قانون سازی میں مکمل آزادی حاصل ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی ذرائع کے مطابق اپوزیشن نہ صرف مؤثر احتجاجی سیاست کی کوئی واضح حکمت عملی بنا سکی بلکہ کمیٹیوں سے علیحدگی کے بعد عملی طور پر خود کو قانون سازی کے عمل سے بھی باہر کر لیا۔ اس دوران اپوزیشن چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کی اہم نشست سے بھی محروم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30469534'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30469534"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کو آٹھ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا، جس کے نتیجے میں اسمبلی کے اندر ان کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اگر اپوزیشن نے اپنی پارلیمانی حکمت عملی پر نظر ثانی نہ کی تو مستقبل میں بھی قانون سازی کے عمل میں اس کا کردار محدود رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں پنجاب اسمبلی کے اندر اپوزیشن کو کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق اپوزیشن ارکان کی جانب سے دیے گئے استعفوں کو تین ماہ گزرنے کے باوجود تاحال منظور نہیں کیا گیا، جس کے باعث اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں حکومتی ارکان کے ذریعے یک طرفہ قانون سازی کا سلسلہ جاری ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی عدم شرکت کے دوران پنجاب اسمبلی سے 28 بل اپوزیشن کی رائے اور مشاورت کے بغیر منظور کر لیے گئے۔ اس صورتحال نے اپوزیشن کے پارلیمانی کردار کو مزید کمزور کر دیا ہے، جبکہ حکومت کو قانون سازی میں مکمل آزادی حاصل ہو گئی ہے۔</p>
<p>سیاسی ذرائع کے مطابق اپوزیشن نہ صرف مؤثر احتجاجی سیاست کی کوئی واضح حکمت عملی بنا سکی بلکہ کمیٹیوں سے علیحدگی کے بعد عملی طور پر خود کو قانون سازی کے عمل سے بھی باہر کر لیا۔ اس دوران اپوزیشن چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کی اہم نشست سے بھی محروم ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30469534'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30469534"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مزید بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کو آٹھ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا، جس کے نتیجے میں اسمبلی کے اندر ان کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اگر اپوزیشن نے اپنی پارلیمانی حکمت عملی پر نظر ثانی نہ کی تو مستقبل میں بھی قانون سازی کے عمل میں اس کا کردار محدود رہنے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498487</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Jan 2026 11:15:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/151113135c25f5b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/151113135c25f5b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
