<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Crime</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:29:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 11:29:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں 100 سے زائد بچوں سے بدفعلی کرنے والا ’سیریل ریپسٹ‘ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498574/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں پولیس کی ایسٹ انویسٹگیشن ون ٹیم نے ٹیپو سلطان کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے ایک سیریل ریپسٹ کو گرفتار کیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے 100 سے زائد بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے متاثرہ بچوں کی نشاندہی پر کارروائی کی۔ پولیس حکام کے مطابق مرکزی ملزمان میں عمران اور وقاص خان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) انویسٹگیشن عثمان سدوزئی کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران سات شکایات پولیس میں رپورٹ ہوئیں، اور تمام کیسز میں ایک ہی شخص کا ڈی این اے ملا، جس سے پولیس بھی چونک گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=-ELdi8KHc7k'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/-ELdi8KHc7k?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عثمان سدوزئی نے بتایا کہ متاثرہ تمام بچے 12 سے 13 سال کے ہیں، اور ایک کیس میں بچے کے ساتھ دو سے زائد افراد نے زیادتی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے چھ جنوری کو اس تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی، جس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان سدوزئی نے واضح کیا کہ تمام کیسز میں فوری طور پر ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا، اور ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=C8ZdFkGqmrQ'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/C8ZdFkGqmrQ?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں، ہفتے کو پولیس نے ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے ملزم کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں پیشی کے موقع پر پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے مزید تفتیش ضروری ہے تاکہ کیس کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو ایک مغوی بچے کے شور کرنے پر موقع پر موجود افراد نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزم عمران پر درجنوں بچوں کے ساتھ بدفعلی کے الزامات ہیں اور خدشہ ہے کہ اس نے بعض بچوں کو بدفعلی کے بعد قتل بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے درجنوں بچوں کے ساتھ بدفعلی کا اعتراف کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دورانِ تفتیش کئی متاثرہ بچوں نے ملزم کی نشاندہی بھی کی ہے، جس سے کیس مزید مضبوط ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی افسر اسد نے عدالت سے ملزم کے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے فی الحال تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=dwaVjSW1OcI'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/dwaVjSW1OcI?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پولیس نے ماشاءاللہ بہت اچھا کام کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بدقسمتی سے اس طرح کے کیسز سے ہمارے معاشرے کا بھیانک روپ سامنے آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی پولیس نے اس کیس میں اچھی کامیابی حاصل کی ہے اور اس کیس کو مثالی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498297/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498297"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بچوں سے بدفعلی کے کیس میں گرفتاری پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پولیس کو شاباش دی ہے اور اسے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بچوں سے زیادتی کسی صورت قبول نہیں اور شہر میں کسی درندے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراد علی شاہ نے کہا کہ ابھی تک صرف سات متاثرین سامنے آئے ہیں، لیکن پولیس کو باقی متاثرین کو بھی تلاش کرنا چاہیے تاکہ تمام متاثرہ بچوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایڈیشنل آئی جی کو ہدایت دی کہ ملزم کے خلاف شواہد کی بنیاد پر مقدمہ عدالت میں لے جایا جائے اور کیس کی پیشرفت کی رپورٹ یومیہ بنیادوں پر وزیراعلیٰ کو فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498486/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498486"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے حکومت سندھ پہلے ہی مختلف اقدامات کر چکی ہے اور پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بچوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہو گی اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراد علی شاہ کے مطابق حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر متاثرہ بچے کو انصاف ملے اور شہر میں محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں پولیس کی ایسٹ انویسٹگیشن ون ٹیم نے ٹیپو سلطان کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے ایک سیریل ریپسٹ کو گرفتار کیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے 100 سے زائد بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنایا۔</strong></p>
<p>پولیس نے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے متاثرہ بچوں کی نشاندہی پر کارروائی کی۔ پولیس حکام کے مطابق مرکزی ملزمان میں عمران اور وقاص خان شامل ہیں۔</p>
<p>سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) انویسٹگیشن عثمان سدوزئی کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران سات شکایات پولیس میں رپورٹ ہوئیں، اور تمام کیسز میں ایک ہی شخص کا ڈی این اے ملا، جس سے پولیس بھی چونک گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=-ELdi8KHc7k'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/-ELdi8KHc7k?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عثمان سدوزئی نے بتایا کہ متاثرہ تمام بچے 12 سے 13 سال کے ہیں، اور ایک کیس میں بچے کے ساتھ دو سے زائد افراد نے زیادتی کی۔</p>
<p>ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے چھ جنوری کو اس تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی، جس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لیا۔</p>
<p>عثمان سدوزئی نے واضح کیا کہ تمام کیسز میں فوری طور پر ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا، اور ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=C8ZdFkGqmrQ'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/C8ZdFkGqmrQ?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بعدازاں، ہفتے کو پولیس نے ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے ملزم کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>عدالت میں پیشی کے موقع پر پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے مزید تفتیش ضروری ہے تاکہ کیس کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔</p>
<p>تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو ایک مغوی بچے کے شور کرنے پر موقع پر موجود افراد نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ملزم عمران پر درجنوں بچوں کے ساتھ بدفعلی کے الزامات ہیں اور خدشہ ہے کہ اس نے بعض بچوں کو بدفعلی کے بعد قتل بھی کیا۔</p>
<p>پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے درجنوں بچوں کے ساتھ بدفعلی کا اعتراف کیا ہے۔</p>
<p>پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دورانِ تفتیش کئی متاثرہ بچوں نے ملزم کی نشاندہی بھی کی ہے، جس سے کیس مزید مضبوط ہوا ہے۔</p>
<p>تفتیشی افسر اسد نے عدالت سے ملزم کے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے فی الحال تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=dwaVjSW1OcI'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/dwaVjSW1OcI?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پولیس نے ماشاءاللہ بہت اچھا کام کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بدقسمتی سے اس طرح کے کیسز سے ہمارے معاشرے کا بھیانک روپ سامنے آتا ہے۔</p>
<p>آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی پولیس نے اس کیس میں اچھی کامیابی حاصل کی ہے اور اس کیس کو مثالی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498297/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498297"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بچوں سے بدفعلی کے کیس میں گرفتاری پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پولیس کو شاباش دی ہے اور اسے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بچوں سے زیادتی کسی صورت قبول نہیں اور شہر میں کسی درندے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔</p>
<p>مراد علی شاہ نے کہا کہ ابھی تک صرف سات متاثرین سامنے آئے ہیں، لیکن پولیس کو باقی متاثرین کو بھی تلاش کرنا چاہیے تاکہ تمام متاثرہ بچوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے ایڈیشنل آئی جی کو ہدایت دی کہ ملزم کے خلاف شواہد کی بنیاد پر مقدمہ عدالت میں لے جایا جائے اور کیس کی پیشرفت کی رپورٹ یومیہ بنیادوں پر وزیراعلیٰ کو فراہم کی جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498486/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498486"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے حکومت سندھ پہلے ہی مختلف اقدامات کر چکی ہے اور پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں بچوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہو گی اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p>مراد علی شاہ کے مطابق حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر متاثرہ بچے کو انصاف ملے اور شہر میں محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498574</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jan 2026 13:41:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہزیب حسینشمیل احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/17102406ba69ce7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/17102406ba69ce7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/dQHAK1k7oYE/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/dQHAK1k7oYE/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=dQHAK1k7oYE"/>
        <media:title>Serial Criminal Arrested with Accomplice | 100 Cases Linked | Shocking Revelations - Breaking News
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
