<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 09:36:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 09:36:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سردیوں میں منہ سے بھاپ نکلتی ہے، گرمیوں میں کیوں نہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498914/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ شدیدی سردی میں جب ہم بات کرتے ہیں یا لمبی سانس باہر چھوڑتے ہیں تو منہ سے دھواں یا بھاپ نکلتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچپن میں بیشتر لوگ اس منظر کو انجن کی طرح  ”دھواں چھوڑنے“ کا کھیل سمجھ کر لطف اندوز ہوتے رہے ہیں، مگر یہی منظر گرمیوں میں مکمل طور پر کیوں غائب ہو جاتا ہے؟ حالانکہ چاہے موسم سرد ہو یا گرم انسانی جسم کا درجۂ حرارت  تقریباً ایک جیسا ہی رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس دلچسپ مظہر کے پیچھے سائنس کا سادہ مگر حیران کن اصول کارفرما ہے، جسے کنڈینسیشن (Condensation) کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498866/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498866"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سردیوں میں بیرونی فضا کا درجۂ حرارت کم ہوتا ہے، جبکہ ہمارے پھیپھڑے سانس کے ذریعے اندر لی جانے والی ہوا کو نہ صرف گرم کرتے ہیں، بلکہ اس میں نمی بھی شامل کردیتے ہیں تاکہ ہوا سانس کی نالیوں کو نقصان نہ پہنچائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ گرم اور نم سانس کے ساتھ باہر نکل کر ٹھنڈی اور خشک فضا سے ٹکراتی ہے تو درجۂ حرارت میں اچانک کمی کے باعث پانی کے ذرات فوراً چھوٹے چھوٹے قطروں میں بدل جاتے ہیں اور یہی قطرے ہمیں سفید بھاپ یا دھوئیں کی صورت دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جتنا زیادہ سرد موسم ہوگا بھاپ بھی اتنی ہی واضح نظر آئے گی کیونکہ زیادہ نمی والی سانس میں بھاپ زیادہ بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز واضح کرتے ہیں کہ یہ کوئی دھواں نہیں بلکہ صرف پانی کے باریک ذرات ہوتے ہیں اور یہ عمل مکمل طور پر قدرتی اور محفوظ ہے۔ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ پھیپھڑے اپنی ذمہ داری درست طریقے سے نبھا رہے ہیں اور اندر جانے والی ہوا کو جسم کے لیے موزوں بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی شخص کو سردیوں میں بار بار کھانسی، سینے میں جلن، سانس لینے میں دشواری یا بلغم کی شکایت ہو تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ پھیپھڑوں کی ہوا کو گرم اور نم کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورت میں الرجی، اندرونی سوزش یا سانس کی دیگر بیماریاں بھی وجہ بن سکتی ہیں، جس کے باعث سرد موسم میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30423721/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30423721"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بچوں اور بزرگ افراد میں یہ بھاپ کبھی زیادہ اور کبھی کم دکھائی دیتی ہے کیونکہ بچوں کے پھیپھڑے تیزی سے ہوا کو گرم کرتے ہیں اور بزرگوں میں سانس کی نالیاں نسبتاً حساس ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمیوں کے موسم میں چونکہ بیرونی درجۂ حرارت پہلے ہی زیادہ ہوتا ہے، اس لیے سانس کے ساتھ خارج ہونے والی نم ہوا فوری طور پر کنڈینس نہیں ہوتی اور بھاپ جیسا منظر تشکیل نہیں پاتا، حالانکہ ہوا میں نمی موجود رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین سردیوں میں سانس کی تکالیف سے بچنے کے لیے مشورہ دیتے ہیں کہ خود کو گرم رکھیں۔ ناک سے سانس لینے کی عادت ڈالیں۔ زیادہ سرد ہوا میں منہ کھول کر سانس لینے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید سرد ماحول سے پرہیز کیا جائے اورباہر نکلتے وقت ناک اور منہ کو اسکارف یا کپڑے سے ڈھانپ لیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح ٹھنڈی ہوا کسی حد تک گرم ہو کر اندر داخل ہوتی ہے اور پھیپھڑوں پر اس کے مضر اثرات کم ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ شدیدی سردی میں جب ہم بات کرتے ہیں یا لمبی سانس باہر چھوڑتے ہیں تو منہ سے دھواں یا بھاپ نکلتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔</strong></p>
<p>بچپن میں بیشتر لوگ اس منظر کو انجن کی طرح  ”دھواں چھوڑنے“ کا کھیل سمجھ کر لطف اندوز ہوتے رہے ہیں، مگر یہی منظر گرمیوں میں مکمل طور پر کیوں غائب ہو جاتا ہے؟ حالانکہ چاہے موسم سرد ہو یا گرم انسانی جسم کا درجۂ حرارت  تقریباً ایک جیسا ہی رہتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس دلچسپ مظہر کے پیچھے سائنس کا سادہ مگر حیران کن اصول کارفرما ہے، جسے کنڈینسیشن (Condensation) کہا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498866/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498866"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سردیوں میں بیرونی فضا کا درجۂ حرارت کم ہوتا ہے، جبکہ ہمارے پھیپھڑے سانس کے ذریعے اندر لی جانے والی ہوا کو نہ صرف گرم کرتے ہیں، بلکہ اس میں نمی بھی شامل کردیتے ہیں تاکہ ہوا سانس کی نالیوں کو نقصان نہ پہنچائے۔</p>
<p>جب یہ گرم اور نم سانس کے ساتھ باہر نکل کر ٹھنڈی اور خشک فضا سے ٹکراتی ہے تو درجۂ حرارت میں اچانک کمی کے باعث پانی کے ذرات فوراً چھوٹے چھوٹے قطروں میں بدل جاتے ہیں اور یہی قطرے ہمیں سفید بھاپ یا دھوئیں کی صورت دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>جتنا زیادہ سرد موسم ہوگا بھاپ بھی اتنی ہی واضح نظر آئے گی کیونکہ زیادہ نمی والی سانس میں بھاپ زیادہ بنتی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹرز واضح کرتے ہیں کہ یہ کوئی دھواں نہیں بلکہ صرف پانی کے باریک ذرات ہوتے ہیں اور یہ عمل مکمل طور پر قدرتی اور محفوظ ہے۔ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ پھیپھڑے اپنی ذمہ داری درست طریقے سے نبھا رہے ہیں اور اندر جانے والی ہوا کو جسم کے لیے موزوں بنا رہے ہیں۔</p>
<p>اگر کسی شخص کو سردیوں میں بار بار کھانسی، سینے میں جلن، سانس لینے میں دشواری یا بلغم کی شکایت ہو تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ پھیپھڑوں کی ہوا کو گرم اور نم کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p>ایسی صورت میں الرجی، اندرونی سوزش یا سانس کی دیگر بیماریاں بھی وجہ بن سکتی ہیں، جس کے باعث سرد موسم میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30423721/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30423721"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بچوں اور بزرگ افراد میں یہ بھاپ کبھی زیادہ اور کبھی کم دکھائی دیتی ہے کیونکہ بچوں کے پھیپھڑے تیزی سے ہوا کو گرم کرتے ہیں اور بزرگوں میں سانس کی نالیاں نسبتاً حساس ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>گرمیوں کے موسم میں چونکہ بیرونی درجۂ حرارت پہلے ہی زیادہ ہوتا ہے، اس لیے سانس کے ساتھ خارج ہونے والی نم ہوا فوری طور پر کنڈینس نہیں ہوتی اور بھاپ جیسا منظر تشکیل نہیں پاتا، حالانکہ ہوا میں نمی موجود رہتی ہے۔</p>
<p>طبی ماہرین سردیوں میں سانس کی تکالیف سے بچنے کے لیے مشورہ دیتے ہیں کہ خود کو گرم رکھیں۔ ناک سے سانس لینے کی عادت ڈالیں۔ زیادہ سرد ہوا میں منہ کھول کر سانس لینے سے گریز کریں۔</p>
<p>شدید سرد ماحول سے پرہیز کیا جائے اورباہر نکلتے وقت ناک اور منہ کو اسکارف یا کپڑے سے ڈھانپ لیا جائے۔</p>
<p>اس طرح ٹھنڈی ہوا کسی حد تک گرم ہو کر اندر داخل ہوتی ہے اور پھیپھڑوں پر اس کے مضر اثرات کم ہو جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498914</guid>
      <pubDate>Sun, 25 Jan 2026 15:29:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/25150003d1ba88a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/25150003d1ba88a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
