<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 04:48:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 04:48:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر حملے کے لیے اپنی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: یو اے ای کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30498969/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے خود کو الگ رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے کے لیے اپنی حدود کو استعمال نہیں ہونے دے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز جاری &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.mofa.gov.ae/en/MediaHub/News/2026/1/26/UAE-Iran"&gt;بیان&lt;/a&gt; میں کہا ہے یو اے ای کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ یو اے ای کی سرزمین یا وسائل ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں استعمال نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای کسی بھی حملے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ریاستی خودمختاری کا احترام موجودہ بحران سے نمٹنے کا بہترین راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/mofauae/status/2015791355080106414'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/mofauae/status/2015791355080106414"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے اور دونوں جانب سے شدید بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا ایران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ جس کے بعد امریکا نے ایران کے قریب جنگی بحری جہاز اور جدید طیاروں کو تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوج کو احتیاطاً ایران کے قریب تعینات کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498461/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498461"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے چیف کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے بھی اپنے بیان میں امریکا اور اسرائیل کو کسی بھی ممکنہ مہم جوئی سے باز رہنے کی سخت وارننگ دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران پہلے بھی واضح کرچکا ہے کہ اس کی سرزمین پر کسی بھی قسم کے محدود یا شدید حملے کو جنگ تصور کیا جائے گا جس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ اس سے قبل ایرانی حکام حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی وارننگ بھی دے چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی کے قریب واقع امریکی اڈے ’&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30498461/"&gt;الظفرہ ایئربیس&lt;/a&gt;‘ پر ہزاروں امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خلیج میں امریکا کے بڑے فوجی اڈوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے خود کو الگ رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے کے لیے اپنی حدود کو استعمال نہیں ہونے دے گا۔</strong></p>
<p>متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز جاری <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.mofa.gov.ae/en/MediaHub/News/2026/1/26/UAE-Iran">بیان</a> میں کہا ہے یو اے ای کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔</p>
<p>بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ یو اے ای کی سرزمین یا وسائل ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں استعمال نہیں ہوں گے۔</p>
<p>یو اے ای کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای کسی بھی حملے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ریاستی خودمختاری کا احترام موجودہ بحران سے نمٹنے کا بہترین راستہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/mofauae/status/2015791355080106414'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/mofauae/status/2015791355080106414"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے اور دونوں جانب سے شدید بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا ایران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ جس کے بعد امریکا نے ایران کے قریب جنگی بحری جہاز اور جدید طیاروں کو تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوج کو احتیاطاً ایران کے قریب تعینات کیا جارہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498461/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498461"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے چیف کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے بھی اپنے بیان میں امریکا اور اسرائیل کو کسی بھی ممکنہ مہم جوئی سے باز رہنے کی سخت وارننگ دی تھی۔</p>
<p>ایران پہلے بھی واضح کرچکا ہے کہ اس کی سرزمین پر کسی بھی قسم کے محدود یا شدید حملے کو جنگ تصور کیا جائے گا جس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ اس سے قبل ایرانی حکام حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی وارننگ بھی دے چکے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی کے قریب واقع امریکی اڈے ’<a href="https://www.aaj.tv/news/30498461/">الظفرہ ایئربیس</a>‘ پر ہزاروں امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خلیج میں امریکا کے بڑے فوجی اڈوں میں سے ایک ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30498969</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jan 2026 20:58:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/26205520194e9f7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/26205520194e9f7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
