<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 20:01:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 20:01:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی سائبر سیکیورٹی کے سربراہ نے حساس دستاویزات چیٹ جی پی ٹی پر ڈال دیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30499080/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی سائبر اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (CISA) کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکالا سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی ایجنسی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد حساس معاہداتی دستاویزات چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کیں۔ یہ انکشاف امریکی جریدے  پولیٹیکو نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیٹیکو کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.politico.com/news/2026/01/27/cisa-madhu-gottumukkala-chatgpt-00749361"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں متعدد خودکار سیکیورٹی وارننگز فعال ہو گئیں، جو وفاقی نیٹ ورکس سے حکومتی مواد کی چوری کو روکنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی نژاد ڈاکٹر مدھو گوتمکلا جو ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون ہیں، کی یہ سنگین غلطی اس لیے بھی نمایاں ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے مئی میں ایجنسی میں شمولیت کے بعد چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کے لیے سیسا کے چیف انفارمیشن آفیسر کے دفتر سے خاص اجازت لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیٹیکو کے مطابق گوتمکالا کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کی گئی تمام معلومات اے آئی ٹول کی مالک کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کے ساتھ شیئر ہوتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مواد دیگر صارفین کے پرامپٹس کے جواب دینے میں استعمال ہو سکتا ہے۔ اوپن اے آئی کے ایپ کے 700 ملین سے زائد فعال صارفین ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498322'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498322"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ہوم لینڈ سیکیورٹی کے دیگر ملازمین کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال روک دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گوتمکالا نے  سیکیورٹی ایجنسی پر دباؤ ڈالا کہ انہیں چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے دیا جائے، اور پھر انہوں نے اس کا غلط استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیٹیکو نے رپورٹ کیا کہ گوتمکالا کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کی گئی فائلز خفیہ نہیں تھیں، تاہم ان میں سیکیورٹی ایجنسی کے معاہداتی دستاویزات شامل تھیں جو صرف سرکاری استعمال کے لیے کے نشان کے ساتھ مارک کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498466'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498466"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ اگست میں سیسا کے سیکیورٹی سسٹمز نے ان اپ لوڈز پر متعدد بار وارننگز بھی جاری کی تھیں جس کے بعد گوتمکلا کے خلاف اندرونی چھان بین شروع کی گئی تھی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اس چھان بین کے کیا نتائج نکلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سائبر ایجنسی کی پبلک افیئرز ڈائریکٹر مارسی میکارٹی نے پولیٹیکو کو بتایا کہ گوتمکالا ہوم لینڈ سیکیورٹی کنٹرولز کے تحت عارضی طور پر چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی نژاد گوتمکالا اس وقت سیسا میں سب سے سینئر سیاسی اہلکار ہیں، جو روس اور چین جیسے حریف ممالک کے جدید ہیکرز سے حکومتی نیٹ ورکس کی حفاظت کے لیے ذمہ دار وفاقی ایجنسی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 24 سال سے زائد کا تجربہ موجود ہے۔ انہوں نے ڈکوٹا اسٹیٹ یونیورسٹی سے انفارمیشن سسٹمز میں پی ایچ ڈی، یونیورسٹی آف ڈلاس سے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی مینجمنٹ میں ایم بی اے، یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آرلنگٹن سے کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس اور آندھرا یونیورسٹی سے الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن انجینئرنگ میں بی ای کی ڈگری حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی سائبر اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (CISA) کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکالا سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی ایجنسی کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد حساس معاہداتی دستاویزات چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کیں۔ یہ انکشاف امریکی جریدے  پولیٹیکو نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔</strong></p>
<p>پولیٹیکو کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.politico.com/news/2026/01/27/cisa-madhu-gottumukkala-chatgpt-00749361">رپورٹ</a> کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں متعدد خودکار سیکیورٹی وارننگز فعال ہو گئیں، جو وفاقی نیٹ ورکس سے حکومتی مواد کی چوری کو روکنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔</p>
<p>بھارتی نژاد ڈاکٹر مدھو گوتمکلا جو ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون ہیں، کی یہ سنگین غلطی اس لیے بھی نمایاں ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے مئی میں ایجنسی میں شمولیت کے بعد چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کے لیے سیسا کے چیف انفارمیشن آفیسر کے دفتر سے خاص اجازت لی تھی۔</p>
<p>پولیٹیکو کے مطابق گوتمکالا کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کی گئی تمام معلومات اے آئی ٹول کی مالک کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کے ساتھ شیئر ہوتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مواد دیگر صارفین کے پرامپٹس کے جواب دینے میں استعمال ہو سکتا ہے۔ اوپن اے آئی کے ایپ کے 700 ملین سے زائد فعال صارفین ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498322'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498322"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس وقت ہوم لینڈ سیکیورٹی کے دیگر ملازمین کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال روک دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گوتمکالا نے  سیکیورٹی ایجنسی پر دباؤ ڈالا کہ انہیں چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے دیا جائے، اور پھر انہوں نے اس کا غلط استعمال کیا۔</p>
<p>پولیٹیکو نے رپورٹ کیا کہ گوتمکالا کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی میں اپ لوڈ کی گئی فائلز خفیہ نہیں تھیں، تاہم ان میں سیکیورٹی ایجنسی کے معاہداتی دستاویزات شامل تھیں جو صرف سرکاری استعمال کے لیے کے نشان کے ساتھ مارک کی گئی تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498466'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498466"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ اگست میں سیسا کے سیکیورٹی سسٹمز نے ان اپ لوڈز پر متعدد بار وارننگز بھی جاری کی تھیں جس کے بعد گوتمکلا کے خلاف اندرونی چھان بین شروع کی گئی تھی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اس چھان بین کے کیا نتائج نکلے۔</p>
<p>امریکی سائبر ایجنسی کی پبلک افیئرز ڈائریکٹر مارسی میکارٹی نے پولیٹیکو کو بتایا کہ گوتمکالا ہوم لینڈ سیکیورٹی کنٹرولز کے تحت عارضی طور پر چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔</p>
<p>بھارتی نژاد گوتمکالا اس وقت سیسا میں سب سے سینئر سیاسی اہلکار ہیں، جو روس اور چین جیسے حریف ممالک کے جدید ہیکرز سے حکومتی نیٹ ورکس کی حفاظت کے لیے ذمہ دار وفاقی ایجنسی ہے۔</p>
<p>ان کے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 24 سال سے زائد کا تجربہ موجود ہے۔ انہوں نے ڈکوٹا اسٹیٹ یونیورسٹی سے انفارمیشن سسٹمز میں پی ایچ ڈی، یونیورسٹی آف ڈلاس سے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی مینجمنٹ میں ایم بی اے، یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آرلنگٹن سے کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس اور آندھرا یونیورسٹی سے الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن انجینئرنگ میں بی ای کی ڈگری حاصل کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30499080</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 14:23:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/291325452263403.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/291325452263403.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
