<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:16:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:16:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپ اسٹورز میں عریاں تصاویر بنانے والی ایپس کے چھپے ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30499084/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) نے حالیہ برسوں میں کئی صنعتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے، لیکن اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے غلط استعمال اور اس سے جڑی تشویش اورسنگین خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر میں ان خدشات کو اس وقت تقویت ملی جب ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے چیٹ بوٹ گروک پر الزام لگا کہ وہ صارفین کی تصاویر میں جنسی نوعیت کی تبدیلیاں کرنے کی درخواستیں قبول کر رہا تھا۔ بعد میں کمپنی نے اس کی حفاظتی حدود بہتر بنانے کا دعویٰ کیا، لیکن &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.gadgets360.com/ai/news/nudifying-ai-apps-google-play-store-apple-app-store-sexually-suggestive-content-report-10899609?pfrom=home-ndtv_tech"&gt;گیجیٹس 360 کے مطابق&lt;/a&gt; اب ایک نئی رپورٹ نے اے آئی سے چلنے والی ”نیوڈیفائنگ“ ایپس کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30493724'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30493724"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹیک ٹرانسپیرنسی پراجیکٹ (ٹی ٹی پی) جوکہ واچ ڈاگ تنظیم کیمپین فار اکاؤنٹیبلٹی سے وابستہ ہے، اس کی ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techtransparencyproject.org/articles/nudify-apps-widely-available-in-apple-and-google-app-stores"&gt;تحقیق کے مطابق&lt;/a&gt; درجنوں ایسی موبائل ایپس آن لائن دستیاب ہیں جو صارف کی اپ لوڈ کردہ تصاویر سے مکمل یا جزوی طور پر بغیر کپڑوں کی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوگل پلے اسٹور پر ایسی کم از کم 55 اور ایپل کے ایپ اسٹور پر 47 ایپس کی نشاندہی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ ایپس مجموعی طور پر دنیا بھر میں 705 ملین سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہیں۔ ایپ اینالیٹکس فرم ایپ میجک کے اعداد و شمار کے مطابق، ان ایپس نے اب تک تقریباً 117 ملین ڈالر کی آمدن حاصل کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ڈویلپرز مالی فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492807'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492807"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹی ٹی پی کے مطابق، یہ ایپس گوگل اور ایپل کے پلیٹ فارمز پر ”نیوڈیفائی“ اور ”انڈریس“ جیسے الفاظ تلاش کرنے سے سامنے آئیں، اور بعض صورتوں میں یہ ایپس سرچنگ کے نتائج میں نمایاں طور پر دکھائی دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.gadgets360.com/ai/news/nudifying-ai-apps-google-play-store-apple-app-store-sexually-suggestive-content-report-10899609?pfrom=home-ndtv_tech"&gt;گیجٹس 360&lt;/a&gt; کے عملے نے بھی ان میں سے چند ایپس کو جانچنے کے لیے مصنوعی طور پر بنائے گئے ماڈلز استعمال کیے اور رپورٹ کے دعوؤں کی تصدیق کی۔ تاہم، صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے پیش نظر ان ایپس کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30403178/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30403178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، ان میں سے بیشتر ایپس بنیادی فیچر کے طور پر تصاویر کو ”عریاں“ دکھانے کی سہولت مفت فراہم کرتی ہیں، جبکہ کچھ ایپس اس سے آگے جا کر افراد کی مشابہت کو فحش مناظر میں پیش بھی کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیک ٹرانسپیرنسی پراجیکٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شناخت کی گئی ایپس کی فہرست ایپل اور گوگل دونوں کو فراہم کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل نے اس معاملے پر گیجٹس 360 کو فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا، تاہم سی این بی سی کو دیے گئے بیان میں گوگل کے ترجمان نے کہا کہ رپورٹ میں شامل کئی ایپس کو پالیسیوں کی خلاف ورزی پر معطل کر دیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ایپل کے ترجمان نے سی این بی سی کو بتایا کہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی 28 ایپس کو ایپ اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) نے حالیہ برسوں میں کئی صنعتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے، لیکن اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے غلط استعمال اور اس سے جڑی تشویش اورسنگین خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔</strong></p>
<p>دسمبر میں ان خدشات کو اس وقت تقویت ملی جب ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے چیٹ بوٹ گروک پر الزام لگا کہ وہ صارفین کی تصاویر میں جنسی نوعیت کی تبدیلیاں کرنے کی درخواستیں قبول کر رہا تھا۔ بعد میں کمپنی نے اس کی حفاظتی حدود بہتر بنانے کا دعویٰ کیا، لیکن <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.gadgets360.com/ai/news/nudifying-ai-apps-google-play-store-apple-app-store-sexually-suggestive-content-report-10899609?pfrom=home-ndtv_tech">گیجیٹس 360 کے مطابق</a> اب ایک نئی رپورٹ نے اے آئی سے چلنے والی ”نیوڈیفائنگ“ ایپس کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30493724'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30493724"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹیک ٹرانسپیرنسی پراجیکٹ (ٹی ٹی پی) جوکہ واچ ڈاگ تنظیم کیمپین فار اکاؤنٹیبلٹی سے وابستہ ہے، اس کی ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.techtransparencyproject.org/articles/nudify-apps-widely-available-in-apple-and-google-app-stores">تحقیق کے مطابق</a> درجنوں ایسی موبائل ایپس آن لائن دستیاب ہیں جو صارف کی اپ لوڈ کردہ تصاویر سے مکمل یا جزوی طور پر بغیر کپڑوں کی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوگل پلے اسٹور پر ایسی کم از کم 55 اور ایپل کے ایپ اسٹور پر 47 ایپس کی نشاندہی کی گئی ہے۔</p>
<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ ایپس مجموعی طور پر دنیا بھر میں 705 ملین سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہیں۔ ایپ اینالیٹکس فرم ایپ میجک کے اعداد و شمار کے مطابق، ان ایپس نے اب تک تقریباً 117 ملین ڈالر کی آمدن حاصل کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ڈویلپرز مالی فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492807'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492807"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹی ٹی پی کے مطابق، یہ ایپس گوگل اور ایپل کے پلیٹ فارمز پر ”نیوڈیفائی“ اور ”انڈریس“ جیسے الفاظ تلاش کرنے سے سامنے آئیں، اور بعض صورتوں میں یہ ایپس سرچنگ کے نتائج میں نمایاں طور پر دکھائی دیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.gadgets360.com/ai/news/nudifying-ai-apps-google-play-store-apple-app-store-sexually-suggestive-content-report-10899609?pfrom=home-ndtv_tech">گیجٹس 360</a> کے عملے نے بھی ان میں سے چند ایپس کو جانچنے کے لیے مصنوعی طور پر بنائے گئے ماڈلز استعمال کیے اور رپورٹ کے دعوؤں کی تصدیق کی۔ تاہم، صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے پیش نظر ان ایپس کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30403178/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30403178"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق، ان میں سے بیشتر ایپس بنیادی فیچر کے طور پر تصاویر کو ”عریاں“ دکھانے کی سہولت مفت فراہم کرتی ہیں، جبکہ کچھ ایپس اس سے آگے جا کر افراد کی مشابہت کو فحش مناظر میں پیش بھی کر سکتی ہیں۔</p>
<p>ٹیک ٹرانسپیرنسی پراجیکٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شناخت کی گئی ایپس کی فہرست ایپل اور گوگل دونوں کو فراہم کر دی ہے۔</p>
<p>گوگل نے اس معاملے پر گیجٹس 360 کو فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا، تاہم سی این بی سی کو دیے گئے بیان میں گوگل کے ترجمان نے کہا کہ رپورٹ میں شامل کئی ایپس کو پالیسیوں کی خلاف ورزی پر معطل کر دیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، ایپل کے ترجمان نے سی این بی سی کو بتایا کہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی 28 ایپس کو ایپ اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30499084</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 15:06:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/29151318a9f9070.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/29151318a9f9070.webp"/>
        <media:title>علامتی تصویر: اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
