<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 01 May 2026 05:28:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 01 May 2026 05:28:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی اڈے میزائلوں کی رینج میں ہیں، حملہ ہوا تو فیصلہ کن جواب دیں گے، ایران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30499104/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی فوجی قیادت نے امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر کوئی نیا حملہ کیا گیا تو اس کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://english.alarabiya.net/amp/News/middle-east/2026/01/30/iran-to-respond-instantly-in-case-of-us-attack-army-spokesman-says"&gt;العربیہ&lt;/a&gt; کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کا حملہ کیا گیا تو اس کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے واضح کیا کہ امریکی فوجی اڈے اور طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اڈے ایران کے درمیانے فاصلے کے میزائلوں کی رینج میں آتے ہیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج مکمل طور پر تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوجی حکام نے مزید کہا کہ دفاعی تیاریوں کا مقصد کسی کشیدگی کو ہوا دینا نہیں بلکہ ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498847'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498847"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ اس کا ردعمل صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور کسی بھی اقدام کا دارومدار سامنے آنے والی صورتحال پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی فوجی قیادت نے امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر کوئی نیا حملہ کیا گیا تو اس کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://english.alarabiya.net/amp/News/middle-east/2026/01/30/iran-to-respond-instantly-in-case-of-us-attack-army-spokesman-says">العربیہ</a> کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کا حملہ کیا گیا تو اس کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے واضح کیا کہ امریکی فوجی اڈے اور طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اڈے ایران کے درمیانے فاصلے کے میزائلوں کی رینج میں آتے ہیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج مکمل طور پر تیار ہے۔</p>
<p>ایرانی فوجی حکام نے مزید کہا کہ دفاعی تیاریوں کا مقصد کسی کشیدگی کو ہوا دینا نہیں بلکہ ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498847'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498847"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ اس کا ردعمل صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور کسی بھی اقدام کا دارومدار سامنے آنے والی صورتحال پر ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30499104</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Jan 2026 09:07:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/01/3008573386affd3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/01/3008573386affd3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
