<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:51:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:51:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپسٹین کیس: تعلق سامنے آنے پر برطانوی سیاستدان کا استعفیٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30499239/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایپسٹین کیس میں نام سامنے آنے کے بعد برطانوی سیاستدان لارڈ مینڈلسن نے لیبر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لارڈ مینڈلسن کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے لیے مزید شرمندگی کا باعث نہیں بننا چاہتے، اسی لیے انہوں نے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لارڈ مینڈلسن کے مطابق اگرچہ ان پر کسی جرم کا الزام ثابت نہیں ہوا، تاہم حالیہ انکشافات کے بعد سیاسی اور اخلاقی دباؤ میں اضافہ ہو گیا تھا، جس کے پیشِ نظر انہوں نے پارٹی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ریلیز فائلز کے مطابق بدنامِ زمانہ امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین نے لارڈ مینڈلسن کے لیے پچپن ہزار پاؤنڈ بنوائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دو ہزار تین سے دو ہزار چار کے درمیان ایپسٹین نے لارڈ مینڈلسن کے ریفرنس پر مختلف مواقع پر رقم منتقل کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499207'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فائلز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد برطانیہ میں سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر پارٹی قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ معاملے کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور پارٹی شفافیت، احتساب اور اخلاقی اقدار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایپسٹین کیس میں نام سامنے آنے کے بعد برطانوی سیاستدان لارڈ مینڈلسن نے لیبر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔</strong></p>
<p>لارڈ مینڈلسن کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے لیے مزید شرمندگی کا باعث نہیں بننا چاہتے، اسی لیے انہوں نے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>لارڈ مینڈلسن کے مطابق اگرچہ ان پر کسی جرم کا الزام ثابت نہیں ہوا، تاہم حالیہ انکشافات کے بعد سیاسی اور اخلاقی دباؤ میں اضافہ ہو گیا تھا، جس کے پیشِ نظر انہوں نے پارٹی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی۔</p>
<p>امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ریلیز فائلز کے مطابق بدنامِ زمانہ امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین نے لارڈ مینڈلسن کے لیے پچپن ہزار پاؤنڈ بنوائے تھے۔</p>
<p>دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دو ہزار تین سے دو ہزار چار کے درمیان ایپسٹین نے لارڈ مینڈلسن کے ریفرنس پر مختلف مواقع پر رقم منتقل کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499207'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فائلز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد برطانیہ میں سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔</p>
<p>لیبر پارٹی قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ معاملے کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور پارٹی شفافیت، احتساب اور اخلاقی اقدار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30499239</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 12:18:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/02123905a34ba52.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/02123905a34ba52.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
