<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:11:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:11:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی شہری نے پرانے سم کارڈز کو سونے میں بدل دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30499277/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے جنوب مشرقی صوبے گوانگ ڈونگ کے شہری نے پرانے سم کارڈز سے 191 گرام سونا نکال کر سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے، جس کے بعد آن لائن مارکیٹ میں پرانے سم کارڈز کی خریداری کا رجحان زور پکڑ گیا۔ تاہم، اس شخص نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ یہ عمل نہایت خطرناک اور بعض اوقات غیر قانونی بھی ہوسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.scmp.com/news/people-culture/trending-china/article/3341638/viral-video-chinese-man-extracting-gold-sim-cards-triggers-sales-boom"&gt;ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ&lt;/a&gt; کے مطابق، ”چیاؤ“ نامی یہ شخص ہوئی ژو کا رہائشی ہے اور الیکٹرانک ویسٹیج سے قیمتی دھاتیں نکالنے اور صاف کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ 20 جنوری کو اس نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں اس کے سونا نکالنے کے پیچیدہ عمل کو دکھایا گیا، اور یہ ویڈیو پانچ ملین سے زائد مرتبہ دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30456030'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30456030"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ چیاؤ پرانے سم کارڈز کو کیمیائی مادوں سے بھرے ڈرم میں ڈال کر کئی مراحل سے گزارا، جن میں دھات کی تبدیلی اور انتہائی حرارت شامل تھی۔ اس کے بعد فلٹرنگ اور ہِیٹ کے مراحل کے بعد وہ 191 گرام سونا حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جس کی قیمت تقریباً 2 لاکھ یوان (81 لاکھ پاکستانی روپوں سے زیادہ) بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیاؤ نے ”شیاؤ شیانگ مارننگ پوسٹ“ کو بتایا کہ اس نے تقریباً دو ٹن ویسٹیج استعمال کیا، اور یہ صرف سم کارڈز نہیں بلکہ ٹیلی کمیونیکیشن اور الیکٹرانک صنعت کے مختلف چپ ویسٹیج کا مجموعہ تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سم کارڈز کے اہم حصے سونے کی باریک کوٹنگ سے محفوظ کیے جاتے ہیں تاکہ وہ دیرپا اور زنگ سے محفوظ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مین لینڈ چین کی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایک عام سم کارڈ میں عام طور پر 0.001 گرام سے بھی کم سونا ہوتا ہے۔ اسی طرح، دیگر الیکٹرانک آلات جیسے بینک کارڈ چپس اور رابطہ کاری والے حصے بھی سونے کے لیے ری سائیکل کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/0313163615ae1ea.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/0313163615ae1ea.webp'  alt='(کیمیائی مادے اور انتہائی حرارت سے گزارنے کا عمل)   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(کیمیائی مادے اور انتہائی حرارت سے گزارنے کا عمل)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چیاؤ کو سوشل میڈیا صارفین نے ”کیمیاگر“ (الکیمسٹ) کا لقب دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ آن لائن ناظرین نے کہا، ”جب میں ایک انٹرنیٹ کیفے چلاتا تھا تو میں نے بہت سے کمپیوٹر چپ پھینک دیے۔ اب مجھے اس سونے کا افسوس ہے جو ضائع ہوا۔“ ایک اور شخص نے کہا، ”چیاؤ پروفیشنل ہیں، کیمیاگری کے لیے کیمیکل کا اعلیٰ علم ضروری ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، مین لینڈ چین کے سیکنڈ ہینڈ پلیٹ فارمز پر پرانے سم کارڈز کی خریداری میں تیزی دیکھی گئی۔ ایک شخص نے سم کارڈز کے بنڈلز فروخت کیے اور دعویٰ کیا کہ یہ ”کیمیاگری“ کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جس کے لنک کوبھی دس ہزار سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا اور 100 سے زائد آرڈرز فروخت ہوئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/0313165872b81b0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/0313165872b81b0.webp'  alt='(ہانگ کانگ کے شم شم پو علاقے میں لوگ سم کارڈ خریدتے ہوئے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(ہانگ کانگ کے شم شم پو علاقے میں لوگ سم کارڈ خریدتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور آن لائن دکان نے سونا نکالنے کے ٹولز اور تعلیمی ویڈیوز 485 یوان (تقریباً 19 ہزار500 پاکستانی روپے) میں فروخت کیں، اور تقریباً 2 ہزار کاپی بیچی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیاؤ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد لوگوں کو ”کیمیاگری“ سکھانا نہیں تھا، بلکہ وہ صرف قانونی طور پر مخصوص الیکٹرانک آلات کو سرٹیفیکیشن کے ساتھ صاف کرتے ہیں اور اپنے علم کو شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ عمل عام افراد کے لیے انتہائی خطرناک اور بعض صورتوں میں غیر قانونی بھی ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30476900'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30476900"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ چین میں سونا صاف کرنے اور اس کی گردش سخت ضوابط کے تحت عمل میں آتی ہے۔ قیمتی دھات کے ویسٹیج یا چپس کی صفائی کے لیے سرٹیفیکیشن ضروری ہے، اور پرانے سم کارڈز کو خطرناک ناقابلِ استعمال اشیاء سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے قوانین کے تحت غیر قانونی طور پر یہ عمل کو کرنے والوں کو 5 لاکھ یوان (2تقریباً  کروڑ پاکستانی روپے) جرمانہ یا ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں، جیانگ ژی صوبے میں سات افراد پرانے بیٹریوں سے غیر قانونی طور پر سیسہ نکالنے کے جرم میں 3.5 سال قید اور 9 لاکھ 30 ہزار یوان (1 لاکھ 34 ہزار امریکی ڈالر) کے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک وکیل نے یہ بھی کہا کہ آن لائن کیمیاگری کے آلات کی فروخت خطرناک کیمیکلز فروخت کرنے کے مترادف ہے، جس سے خریدار اور فروخت کنندہ دونوں قانونی ذمہ داری کے زمرے میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے جنوب مشرقی صوبے گوانگ ڈونگ کے شہری نے پرانے سم کارڈز سے 191 گرام سونا نکال کر سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے، جس کے بعد آن لائن مارکیٹ میں پرانے سم کارڈز کی خریداری کا رجحان زور پکڑ گیا۔ تاہم، اس شخص نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ یہ عمل نہایت خطرناک اور بعض اوقات غیر قانونی بھی ہوسکتا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.scmp.com/news/people-culture/trending-china/article/3341638/viral-video-chinese-man-extracting-gold-sim-cards-triggers-sales-boom">ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ</a> کے مطابق، ”چیاؤ“ نامی یہ شخص ہوئی ژو کا رہائشی ہے اور الیکٹرانک ویسٹیج سے قیمتی دھاتیں نکالنے اور صاف کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ 20 جنوری کو اس نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں اس کے سونا نکالنے کے پیچیدہ عمل کو دکھایا گیا، اور یہ ویڈیو پانچ ملین سے زائد مرتبہ دیکھی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30456030'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30456030"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ چیاؤ پرانے سم کارڈز کو کیمیائی مادوں سے بھرے ڈرم میں ڈال کر کئی مراحل سے گزارا، جن میں دھات کی تبدیلی اور انتہائی حرارت شامل تھی۔ اس کے بعد فلٹرنگ اور ہِیٹ کے مراحل کے بعد وہ 191 گرام سونا حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جس کی قیمت تقریباً 2 لاکھ یوان (81 لاکھ پاکستانی روپوں سے زیادہ) بنتی ہے۔</p>
<p>چیاؤ نے ”شیاؤ شیانگ مارننگ پوسٹ“ کو بتایا کہ اس نے تقریباً دو ٹن ویسٹیج استعمال کیا، اور یہ صرف سم کارڈز نہیں بلکہ ٹیلی کمیونیکیشن اور الیکٹرانک صنعت کے مختلف چپ ویسٹیج کا مجموعہ تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سم کارڈز کے اہم حصے سونے کی باریک کوٹنگ سے محفوظ کیے جاتے ہیں تاکہ وہ دیرپا اور زنگ سے محفوظ رہیں۔</p>
<p>مین لینڈ چین کی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایک عام سم کارڈ میں عام طور پر 0.001 گرام سے بھی کم سونا ہوتا ہے۔ اسی طرح، دیگر الیکٹرانک آلات جیسے بینک کارڈ چپس اور رابطہ کاری والے حصے بھی سونے کے لیے ری سائیکل کیے جا سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/0313163615ae1ea.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/0313163615ae1ea.webp'  alt='(کیمیائی مادے اور انتہائی حرارت سے گزارنے کا عمل)   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(کیمیائی مادے اور انتہائی حرارت سے گزارنے کا عمل)</figcaption>
    </figure>
<p>چیاؤ کو سوشل میڈیا صارفین نے ”کیمیاگر“ (الکیمسٹ) کا لقب دیا ہے۔</p>
<p>کچھ آن لائن ناظرین نے کہا، ”جب میں ایک انٹرنیٹ کیفے چلاتا تھا تو میں نے بہت سے کمپیوٹر چپ پھینک دیے۔ اب مجھے اس سونے کا افسوس ہے جو ضائع ہوا۔“ ایک اور شخص نے کہا، ”چیاؤ پروفیشنل ہیں، کیمیاگری کے لیے کیمیکل کا اعلیٰ علم ضروری ہے۔“</p>
<p>ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، مین لینڈ چین کے سیکنڈ ہینڈ پلیٹ فارمز پر پرانے سم کارڈز کی خریداری میں تیزی دیکھی گئی۔ ایک شخص نے سم کارڈز کے بنڈلز فروخت کیے اور دعویٰ کیا کہ یہ ”کیمیاگری“ کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جس کے لنک کوبھی دس ہزار سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا اور 100 سے زائد آرڈرز فروخت ہوئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/0313165872b81b0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/0313165872b81b0.webp'  alt='(ہانگ کانگ کے شم شم پو علاقے میں لوگ سم کارڈ خریدتے ہوئے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(ہانگ کانگ کے شم شم پو علاقے میں لوگ سم کارڈ خریدتے ہوئے</figcaption>
    </figure>
<p>ایک اور آن لائن دکان نے سونا نکالنے کے ٹولز اور تعلیمی ویڈیوز 485 یوان (تقریباً 19 ہزار500 پاکستانی روپے) میں فروخت کیں، اور تقریباً 2 ہزار کاپی بیچی گئیں۔</p>
<p>چیاؤ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد لوگوں کو ”کیمیاگری“ سکھانا نہیں تھا، بلکہ وہ صرف قانونی طور پر مخصوص الیکٹرانک آلات کو سرٹیفیکیشن کے ساتھ صاف کرتے ہیں اور اپنے علم کو شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ عمل عام افراد کے لیے انتہائی خطرناک اور بعض صورتوں میں غیر قانونی بھی ہو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30476900'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30476900"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ چین میں سونا صاف کرنے اور اس کی گردش سخت ضوابط کے تحت عمل میں آتی ہے۔ قیمتی دھات کے ویسٹیج یا چپس کی صفائی کے لیے سرٹیفیکیشن ضروری ہے، اور پرانے سم کارڈز کو خطرناک ناقابلِ استعمال اشیاء سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>چین کے قوانین کے تحت غیر قانونی طور پر یہ عمل کو کرنے والوں کو 5 لاکھ یوان (2تقریباً  کروڑ پاکستانی روپے) جرمانہ یا ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>2021 میں، جیانگ ژی صوبے میں سات افراد پرانے بیٹریوں سے غیر قانونی طور پر سیسہ نکالنے کے جرم میں 3.5 سال قید اور 9 لاکھ 30 ہزار یوان (1 لاکھ 34 ہزار امریکی ڈالر) کے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔</p>
<p>ایک وکیل نے یہ بھی کہا کہ آن لائن کیمیاگری کے آلات کی فروخت خطرناک کیمیکلز فروخت کرنے کے مترادف ہے، جس سے خریدار اور فروخت کنندہ دونوں قانونی ذمہ داری کے زمرے میں آتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30499277</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 13:42:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/031448173860256.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/031448173860256.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
