<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 07:31:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 07:31:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیبیا کے قریب مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، دو بچوں سمیت 53 افراد لاپتا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30499501/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیبیا کے ساحل کے قریب ایک افسوسناک حادثے میں ربڑ کی کشتی الٹنے سے کم از کم 53 افراد جاں بحق یا لاپتہ ہو گئے ہیں جن میں دو کم سن بچے بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ شمال مغربی لیبیا کے ساحلی شہر زوارہ کے شمال میں پیش آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے پیر کے روز جاری بیان میں بتایا کہ یہ کشتی چھ فروری کو سمندر میں الٹی تھی۔ کشتی میں درجنوں افراد سوار تھے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں سمندر کے خطرناک راستے سے یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IOMSpokesperson/status/2020796982336368850?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IOMSpokesperson/status/2020796982336368850?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں تاہم اب تک بڑی تعداد میں افراد کے لاپتہ ہونے یا جان کی بازی ہارنے کی اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاں بحق یا لاپتہ افراد کی حتمی تعداد کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ لیبیا کا ساحلی علاقہ برسوں سے غیر قانونی مہاجرت کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے افریقہ اور دیگر خطوں کے افراد کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے ادارے اس خطرناک سفر کے دوران پیش آنے والے مسلسل حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لیبیا کے ساحل کے قریب ایک افسوسناک حادثے میں ربڑ کی کشتی الٹنے سے کم از کم 53 افراد جاں بحق یا لاپتہ ہو گئے ہیں جن میں دو کم سن بچے بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ شمال مغربی لیبیا کے ساحلی شہر زوارہ کے شمال میں پیش آیا۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے پیر کے روز جاری بیان میں بتایا کہ یہ کشتی چھ فروری کو سمندر میں الٹی تھی۔ کشتی میں درجنوں افراد سوار تھے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں سمندر کے خطرناک راستے سے یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IOMSpokesperson/status/2020796982336368850?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IOMSpokesperson/status/2020796982336368850?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ادارے کے مطابق حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں تاہم اب تک بڑی تعداد میں افراد کے لاپتہ ہونے یا جان کی بازی ہارنے کی اطلاعات ہیں۔</p>
<p>جاں بحق یا لاپتہ افراد کی حتمی تعداد کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ لیبیا کا ساحلی علاقہ برسوں سے غیر قانونی مہاجرت کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے افریقہ اور دیگر خطوں کے افراد کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>انسانی حقوق کے ادارے اس خطرناک سفر کے دوران پیش آنے والے مسلسل حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30499501</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Feb 2026 15:45:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/09154438eb5bda2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/09154438eb5bda2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
