<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 06:20:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 04 Apr 2026 06:20:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مذاکرات کا نیا دور: ’روس یوکرین جنگ کا حل نکلنے کا امکان‘</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30499717/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے سلسلے میں سہ فریقی مذاکرات کا نیا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں 17 اور 18 فروری کو منعقد ہوگا۔ خبر ایجنسی کے مطابق مذاکرات کے اس مرحلے میں تینوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شرکت کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق روسی وفد کی قیادت کریملن کے صدارتی معاون ولادیمیر میدنسکی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سہ فریقی مذاکرات کے دو ادوار متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ہوچکے ہیں، جہاں فریقین نے جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور ممکنہ سیاسی فریم ورک پر ابتدائی تبادلۂ خیال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ ہفتے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یوکرین پر حد سے زیادہ رعایتیں دینے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے جبکہ روس سے اسی نوعیت کی لچک کا مطالبہ نہیں کیا جارہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499684/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499684"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ روس مرکزی مذاکرات کار کو تبدیل کرکے فیصلوں میں تاخیر کرنا چاہتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر سنجیدہ سفارتی دباؤ ڈالا جائے تو پیش رفت ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی صدر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ روس کو معاہدے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیلنسکی کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے پر عوامی ریفرنڈم کرانے سے قبل مکمل اور مؤثر جنگ بندی ناگزیر ہوگی، کیونکہ فعال جنگی صورتحال میں شفاف عوامی رائے شماری ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے سلسلے میں سہ فریقی مذاکرات کا نیا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں 17 اور 18 فروری کو منعقد ہوگا۔ خبر ایجنسی کے مطابق مذاکرات کے اس مرحلے میں تینوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شرکت کریں گے۔</strong></p>
<p>رپورٹس کے مطابق روسی وفد کی قیادت کریملن کے صدارتی معاون ولادیمیر میدنسکی کریں گے۔</p>
<p>اس سے قبل سہ فریقی مذاکرات کے دو ادوار متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ہوچکے ہیں، جہاں فریقین نے جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور ممکنہ سیاسی فریم ورک پر ابتدائی تبادلۂ خیال کیا تھا۔</p>
<p>یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ ہفتے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یوکرین پر حد سے زیادہ رعایتیں دینے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے جبکہ روس سے اسی نوعیت کی لچک کا مطالبہ نہیں کیا جارہا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499684/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499684"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>صدر زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ روس مرکزی مذاکرات کار کو تبدیل کرکے فیصلوں میں تاخیر کرنا چاہتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر سنجیدہ سفارتی دباؤ ڈالا جائے تو پیش رفت ممکن ہے۔</p>
<p>یوکرینی صدر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ روس کو معاہدے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔</p>
<p>زیلنسکی کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے پر عوامی ریفرنڈم کرانے سے قبل مکمل اور مؤثر جنگ بندی ناگزیر ہوگی، کیونکہ فعال جنگی صورتحال میں شفاف عوامی رائے شماری ممکن نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30499717</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Feb 2026 08:49:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/150840419160def.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/150840419160def.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
