<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 17:59:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 17:59:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران اپنے حساس فوجی مقامات کو قلعہ بند بنا رہا ہے؟ سیٹلائٹ تصاویر جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30499893/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی حملے کے پیشِ نظر ایران نے اپنے حساس فوجی مقامات پر ضروری اقدامات کر لیے ہیں جن کی تازہ تصاویر سیٹلائٹ کے ذریعے جاری کی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/aerospace-defense/satellite-images-show-iran-repairing-fortifying-sites-amid-us-tensions-2026-02-18/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے بڑھتے ہوئے امریکی خطرے کے باعث اپنے حساس فوجی مقام کی قلعہ بندی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل میں کنکریٹ کے ڈھانچے کی تعمیر، سرنگوں کے داخلی راستوں کو چھپانا اور سابقہ بمباری کا نشانہ بننے والے میزائل اڈوں کی تعمیرِ نو شامل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/19133513dab1182.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/19133513dab1182.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ وہی مقام ہے جسے اسرائیل نے 2024 میں بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے گزشتہ برس اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران امریکا کی بمباری سے متاثرہ جوہری سائٹ کی سرنگ کے داخلی راستے دفن کر دیے ہیں، دوسرے مقامات پر سرنگ کے داخلے راستوں کو مضبوط کیا ہے اور میزائل بیس کی مرمت کی ہے جو اُس دوران جھڑپوں میں متاثر ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارچین فوجی کمپلیکس تہران سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع پارچین کمپلیکس ایران کے حساس ترین فوجی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصفہان کمپلیکس وہ مقام ہے جس میں جون میں امریکا نے تین یورینیم افزودگی پلانٹس پر بمباری کی تھی۔ اس میں زیر زمین حصہ بھی شامل ہے جہاں ایران کے مطابق زیادہ تر افزودہ یورینیم ذخیرہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/1913333301e966a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/1913333301e966a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق نطنز کے قریب کمپلیکس جو ایران کا اہم فوجی مقام ہے، جس کے گرد بھی قلعہ بندی کی گئی ہے۔ دس فروری سے نطنز سے تقریباً 2 کلومیٹر فاصلے پر واقع ایک پہاڑی کے نیچے سرنگی داخلی راستوں کو مضبوط اور دفاعی طور پر محفوظ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/19133227e4fc845.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/19133227e4fc845.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایران کا ایک جنوبی میزائل بیس شیراز سے تقریباً 10 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہ بیس درمیانے فاصلے کے بیلسٹک میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گزشتہ برس کی جنگ میں اس بیس کی سطحِ زمین کومعمولی نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/1913055643ab258.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/1913055643ab258.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور میزائل اڈہ جو ایرانی شہر قم سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، جس درمیانی درجے کا نقصان پہنچا تھا۔ رائٹرز کے مطابق پرانی اور حالیہ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی عمارت پر ایک نئی چھت نصب کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی حملے کے پیشِ نظر ایران نے اپنے حساس فوجی مقامات پر ضروری اقدامات کر لیے ہیں جن کی تازہ تصاویر سیٹلائٹ کے ذریعے جاری کی گئی ہیں۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/aerospace-defense/satellite-images-show-iran-repairing-fortifying-sites-amid-us-tensions-2026-02-18/">رپورٹ</a> کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے بڑھتے ہوئے امریکی خطرے کے باعث اپنے حساس فوجی مقام کی قلعہ بندی کی ہے۔</p>
<p>اس عمل میں کنکریٹ کے ڈھانچے کی تعمیر، سرنگوں کے داخلی راستوں کو چھپانا اور سابقہ بمباری کا نشانہ بننے والے میزائل اڈوں کی تعمیرِ نو شامل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/19133513dab1182.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/19133513dab1182.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق یہ وہی مقام ہے جسے اسرائیل نے 2024 میں بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے گزشتہ برس اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران امریکا کی بمباری سے متاثرہ جوہری سائٹ کی سرنگ کے داخلی راستے دفن کر دیے ہیں، دوسرے مقامات پر سرنگ کے داخلے راستوں کو مضبوط کیا ہے اور میزائل بیس کی مرمت کی ہے جو اُس دوران جھڑپوں میں متاثر ہوئے تھے۔</p>
<p>پارچین فوجی کمپلیکس تہران سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع پارچین کمپلیکس ایران کے حساس ترین فوجی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔</p>
<p>اصفہان کمپلیکس وہ مقام ہے جس میں جون میں امریکا نے تین یورینیم افزودگی پلانٹس پر بمباری کی تھی۔ اس میں زیر زمین حصہ بھی شامل ہے جہاں ایران کے مطابق زیادہ تر افزودہ یورینیم ذخیرہ کیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/1913333301e966a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/1913333301e966a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق نطنز کے قریب کمپلیکس جو ایران کا اہم فوجی مقام ہے، جس کے گرد بھی قلعہ بندی کی گئی ہے۔ دس فروری سے نطنز سے تقریباً 2 کلومیٹر فاصلے پر واقع ایک پہاڑی کے نیچے سرنگی داخلی راستوں کو مضبوط اور دفاعی طور پر محفوظ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/19133227e4fc845.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/19133227e4fc845.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ ایران کا ایک جنوبی میزائل بیس شیراز سے تقریباً 10 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہ بیس درمیانے فاصلے کے بیلسٹک میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گزشتہ برس کی جنگ میں اس بیس کی سطحِ زمین کومعمولی نقصان پہنچا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/1913055643ab258.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/02/1913055643ab258.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور میزائل اڈہ جو ایرانی شہر قم سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، جس درمیانی درجے کا نقصان پہنچا تھا۔ رائٹرز کے مطابق پرانی اور حالیہ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی عمارت پر ایک نئی چھت نصب کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30499893</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Feb 2026 13:36:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/19130334494c7b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/19130334494c7b3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
