<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:01:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:01:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی سیاست دی ہنڈریڈ لیگ تک پہنچ گئی، پاکستانی کھلاڑیوں کو پک نہ کیے جانے کا خدشہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30499911/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی سیاست انگلینڈ کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ دی ہنڈریڈ لیگ کو بھی آلودہ کرنے لگی ہے اور اس میں پاکستانی کھلاڑیوں کے پک نہ کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/sport/cricket/articles/cx2gnv5w091o"&gt;بی بی سی &lt;/a&gt;کے مطابق دی ہنڈریڈ لیگ میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے منسلک ٹیموں کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کو پک نہ کرنے کا خدشہ ہے جب کہ پاکستانی کرکٹرز کو صرف وہ ہی پک کرسکتے ہیں، جن کی ملکیت میں آئی پی ایل فرنچائز حصہ دار نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ کے ایک افسر نے اس حوالے سے ایک پلیئر ایجنٹ کو آگاہ کردیا ہے اور بتایا ہے کہ آئی پی ایل ٹیموں کی ملکیت والی ٹیمیں پاکستانی پلیئرز سے دور رہ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ انگلینڈ کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ دی ہنڈریڈ کی 8 ٹیموں میں سے 4 کی 49 فیصد ملکیت آئی پی ایل ٹیموں کے پاس ہے۔ مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سن رائزر لیڈز اور سدرن بریو میں بھارتی سرمایہ کاری آچکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30438514/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30438514"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے مطابق ایک ایجنٹ نے شکوہ کیا کہ انڈین ملکیت میں کام کرنے والی ٹیموں کا پاکستانی پلیئرز کو نہ لینا ایک غیر اعلانیہ قانون بن چکا ہے۔ یہ ٹرینڈ جنوبی افریقا کی ایس اے ٹی 20 اور یو اے ای کی آئی ایل ٹی 20 میں بھی دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال ہونے والی دی ہنڈریڈ کا پلیئرز  آکشن 11 اور 12 مارچ کو منعقد ہوگا۔ پاکستان کے حارث رؤف سمیت متعدد کھلاڑی آکشن میں شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی سیاست انگلینڈ کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ دی ہنڈریڈ لیگ کو بھی آلودہ کرنے لگی ہے اور اس میں پاکستانی کھلاڑیوں کے پک نہ کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/sport/cricket/articles/cx2gnv5w091o">بی بی سی </a>کے مطابق دی ہنڈریڈ لیگ میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے منسلک ٹیموں کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کو پک نہ کرنے کا خدشہ ہے جب کہ پاکستانی کرکٹرز کو صرف وہ ہی پک کرسکتے ہیں، جن کی ملکیت میں آئی پی ایل فرنچائز حصہ دار نہ ہوں۔</p>
<p>بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ کے ایک افسر نے اس حوالے سے ایک پلیئر ایجنٹ کو آگاہ کردیا ہے اور بتایا ہے کہ آئی پی ایل ٹیموں کی ملکیت والی ٹیمیں پاکستانی پلیئرز سے دور رہ سکتی ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ انگلینڈ کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ دی ہنڈریڈ کی 8 ٹیموں میں سے 4 کی 49 فیصد ملکیت آئی پی ایل ٹیموں کے پاس ہے۔ مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سن رائزر لیڈز اور سدرن بریو میں بھارتی سرمایہ کاری آچکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30438514/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30438514"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بی بی سی کے مطابق ایک ایجنٹ نے شکوہ کیا کہ انڈین ملکیت میں کام کرنے والی ٹیموں کا پاکستانی پلیئرز کو نہ لینا ایک غیر اعلانیہ قانون بن چکا ہے۔ یہ ٹرینڈ جنوبی افریقا کی ایس اے ٹی 20 اور یو اے ای کی آئی ایل ٹی 20 میں بھی دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>اس سال ہونے والی دی ہنڈریڈ کا پلیئرز  آکشن 11 اور 12 مارچ کو منعقد ہوگا۔ پاکستان کے حارث رؤف سمیت متعدد کھلاڑی آکشن میں شامل ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30499911</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Feb 2026 00:03:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/200001007c4e522.webp" type="image/webp" medium="image" height="351" width="624">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/200001007c4e522.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
