<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 13:59:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 13:59:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کی امریکی سفیر کے غزہ سے متعلق ’اشتعال انگیز بیانات‘ کی مذمت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30499997/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک نے اسرائیل کے لیے امریکی سفیر کے حالیہ بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا ہے۔ اس حوالے سے وزرائے خارجہ کا مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسے بیانات عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کا کوئی بھی اشارہ ناقابل قبول ہے اور مسلم ممالک اس قسم کے اشتعال انگیز ریمارکس کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق یہ مشترکہ مذمتی اعلامیہ پاکستان، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری کیا گیا، جبکہ اس میں انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور کویت بھی شامل ہیں۔ مزید برآں عمان، بحرین، شام، لبنان اور فلسطین کے وزرائے خارجہ نے بھی اعلامیے کی تائید کی۔ اس کے علاوہ عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹریٹس بھی مشترکہ بیان میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات امن کے فروغ کے بجائے اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499984/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499984"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ دوسروں کی زمین پر قبضے کو جائز قرار دینا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے امن کے مقاصد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کا بنیادی مقصد کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا ہے، جبکہ حالیہ بیانات اس وژن سے براہ راست متصادم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم ممالک نے واضح کیا کہ مذکورہ منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے، لہٰذا ایسے اشتعال انگیز بیانات امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2025382424549753188/photo/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2025382424549753188/photo/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں اعادہ کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے جدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی توسیع کی شدید مخالفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ عرب ریاستوں کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی خطرے کو قطعی طور پر نامنظور قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499952/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ مذمتی بیان میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تنازع کو مزید بھڑکائے گا اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔ مسلم ممالک نے ایسے اشتعال انگیز بیانات کے فوری خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں وزارتوں نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک نے اسرائیل کے لیے امریکی سفیر کے حالیہ بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا ہے۔ اس حوالے سے وزرائے خارجہ کا مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسے بیانات عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں۔</strong></p>
<p>ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کا کوئی بھی اشارہ ناقابل قبول ہے اور مسلم ممالک اس قسم کے اشتعال انگیز ریمارکس کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق یہ مشترکہ مذمتی اعلامیہ پاکستان، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری کیا گیا، جبکہ اس میں انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور کویت بھی شامل ہیں۔ مزید برآں عمان، بحرین، شام، لبنان اور فلسطین کے وزرائے خارجہ نے بھی اعلامیے کی تائید کی۔ اس کے علاوہ عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹریٹس بھی مشترکہ بیان میں شامل ہیں۔</p>
<p>اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات امن کے فروغ کے بجائے اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499984/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499984"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ دوسروں کی زمین پر قبضے کو جائز قرار دینا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے امن کے مقاصد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔</p>
<p>مشترکہ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کا بنیادی مقصد کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا ہے، جبکہ حالیہ بیانات اس وژن سے براہ راست متصادم ہیں۔</p>
<p>مسلم ممالک نے واضح کیا کہ مذکورہ منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے، لہٰذا ایسے اشتعال انگیز بیانات امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2025382424549753188/photo/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2025382424549753188/photo/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اعلامیے میں اعادہ کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے جدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی توسیع کی شدید مخالفت کی ہے۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ عرب ریاستوں کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی خطرے کو قطعی طور پر نامنظور قرار دیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499952/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مشترکہ مذمتی بیان میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تنازع کو مزید بھڑکائے گا اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔ مسلم ممالک نے ایسے اشتعال انگیز بیانات کے فوری خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>اعلامیے میں وزارتوں نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زور دیا۔</p>
<p>مسلم ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30499997</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Feb 2026 11:04:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/22110327d9bb692.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/22110327d9bb692.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
