<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 09:08:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 10 Apr 2026 09:08:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران سے کشیدگی، امریکہ نے قطر اور بحرین سے سیکڑوں فوجی واپس بلا لیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30500004/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے سیکڑوں فوجیوں کو قطر اور بحرین کے اڈوں سے واپس بلا لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/world/gulf/us-withdraws-hundreds-of-troops-from-qatar-and-bahrain-as-iran-tensions-rise-1.500451377"&gt;گلف نیوز&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ لڑائی کے پیشِ نظر اپنے چند سو فوجیوں کو قطر اور بحرین کے اڈوں سے واپس بلانے کا احتیاطی فیصلہ کیا ہے، جسے دفاعی حکمت عملی اور سلامتی وجوہات سے جوڑا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتایا گیا ہے کہ سینکڑوں فوجیوں کی واپسی کا عمل سعودی، خلیجی اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد شروع کیا گیا، اور اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں فوجی استعداد اور ردعمل کو زیادہ مؤثر انداز سے منظم کرنا بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس پر کسی بھی حملے کی صورت میں وسیع ردعمل دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھیجے گئے خط میں ایران کے مستقل مشن نے کہا کہ اگر ایران کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی اڈے اور تنصیبات ممکنہ اہداف سمجھے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500003/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے نتائج غیر متوقع اور بے قابو ہو سکتے ہیں، اور اس کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری سکیورٹی حالات، دفاعی توازن اور سفارتی کوششیں ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں تاکہ عدم استحکام کی صورت میں باہمی تعاون اور امدادی حکمت عملی مضبوط رہے، جبکہ عالمی طاقتوں کے درمیان رابطے اور مشاورت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے سیکڑوں فوجیوں کو قطر اور بحرین کے اڈوں سے واپس بلا لیا۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/world/gulf/us-withdraws-hundreds-of-troops-from-qatar-and-bahrain-as-iran-tensions-rise-1.500451377">گلف نیوز</a> کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ لڑائی کے پیشِ نظر اپنے چند سو فوجیوں کو قطر اور بحرین کے اڈوں سے واپس بلانے کا احتیاطی فیصلہ کیا ہے، جسے دفاعی حکمت عملی اور سلامتی وجوہات سے جوڑا جا رہا ہے۔</p>
<p>بتایا گیا ہے کہ سینکڑوں فوجیوں کی واپسی کا عمل سعودی، خلیجی اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد شروع کیا گیا، اور اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں فوجی استعداد اور ردعمل کو زیادہ مؤثر انداز سے منظم کرنا بتایا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس پر کسی بھی حملے کی صورت میں وسیع ردعمل دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھیجے گئے خط میں ایران کے مستقل مشن نے کہا کہ اگر ایران کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی اڈے اور تنصیبات ممکنہ اہداف سمجھے جائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500003/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خط میں کہا گیا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے نتائج غیر متوقع اور بے قابو ہو سکتے ہیں، اور اس کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہو گی۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری سکیورٹی حالات، دفاعی توازن اور سفارتی کوششیں ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں تاکہ عدم استحکام کی صورت میں باہمی تعاون اور امدادی حکمت عملی مضبوط رہے، جبکہ عالمی طاقتوں کے درمیان رابطے اور مشاورت جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30500004</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Feb 2026 16:03:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/221559403e45b56.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/221559403e45b56.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
