<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 14:22:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Apr 2026 14:22:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عافیہ صدیقی کیس: وزیر اعظم اور کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30500048/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈاکٹرعافیہ صدیقی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا، عدالت نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ختم کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے توہین عدالت کی کارروائی کا حکم واپس لے لیا، فیصلے میں کہا گیا کہ 21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا، جو قانونی طور پرتشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا، 21 جولائی کا سنگل بینچ کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے، قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے فیصلہ دیا کہ چیف جسٹس بینچ تشکیل دینے کا خصوصی اختیار رکھتے ہیں، کسی مقدمے کی سماعت کا عدالتی اختیار صرف اُس وقت ہوگا جب چیف جسٹس کے اختیار سے قانونی طور پر بینچ تشکیل دیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473774/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473774"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لارجر بینچ نے فیصلہ دیا کہ کوئی جج اس فریم ورک سے باہر یکطرفہ طور پر دائرۂ اختیار استعمال نہیں کر سکتا، روسٹر یا بنچ کی تشکیل چیلنج کرنے کا معاملہ اندرونی انتظامی طریقۂ کار کے ذریعے اٹھایا جائے گا، یہ معاملہ خود ساختہ عدالتی کارروائی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں جسٹس فیلکس فرینکفرٹر کے اقوال بھی شامل کیے گئے، جسٹس اعجاز اسحاق خان نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈاکٹرعافیہ صدیقی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا، عدالت نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ختم کردی ہے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے توہین عدالت کی کارروائی کا حکم واپس لے لیا، فیصلے میں کہا گیا کہ 21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا، جو قانونی طور پرتشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا، 21 جولائی کا سنگل بینچ کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے، قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے فیصلہ دیا کہ چیف جسٹس بینچ تشکیل دینے کا خصوصی اختیار رکھتے ہیں، کسی مقدمے کی سماعت کا عدالتی اختیار صرف اُس وقت ہوگا جب چیف جسٹس کے اختیار سے قانونی طور پر بینچ تشکیل دیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473774/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473774"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لارجر بینچ نے فیصلہ دیا کہ کوئی جج اس فریم ورک سے باہر یکطرفہ طور پر دائرۂ اختیار استعمال نہیں کر سکتا، روسٹر یا بنچ کی تشکیل چیلنج کرنے کا معاملہ اندرونی انتظامی طریقۂ کار کے ذریعے اٹھایا جائے گا، یہ معاملہ خود ساختہ عدالتی کارروائی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>فیصلے میں جسٹس فیلکس فرینکفرٹر کے اقوال بھی شامل کیے گئے، جسٹس اعجاز اسحاق خان نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30500048</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Feb 2026 20:05:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/23200358f28c82a.webp" type="image/webp" medium="image" height="423" width="752">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/23200358f28c82a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
