<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:47:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:47:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسمان پر قدرت کا کرشمہ: چھ سیاروں کی قطار دیکھنے کا نادر موقع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30500210/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہفتہ کی رات آسمان پر ایک خوبصورت اور نایاب منظر دیکھنے کو ملے گا جب چھ سیارے ایک قطار کی صورت میں دکھائی دیں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر موسم صاف رہا تو دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ اس دلکش نظارے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/02/27/science/planetary-parade-alignment-when-where"&gt;سی این این&lt;/a&gt; کے مطابق امریکی خلائی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nasa.gov/blogs/watch-the-skies/2026/01/16/most-notable-2026-astronomical-events-a-year-of-watching-the-skies/"&gt;’ناسا‘&lt;/a&gt; کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ منظر سیاروں کے سورج کے گرد اپنے اپنے مدار میں گھومنے کے دوران ایک خاص ترتیب میں آنے کی وجہ سے بنتا ہے۔ ہائیڈی ہیولینڈ، ناسا کے مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر سے وابستہ ہیں، وہ انہوں نے بتایا کہ اس ترتیب کو ’سیاروی پریڈ‘ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اس موقع پر عطارد، زہرہ، زحل اور مشتری کو عام آنکھ سے دیکھا جا سکے گا، جبکہ یورینس اور نیپچون کو دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے کسی خاص حفاظتی عینک کی ضرورت نہیں، جیسا کہ سورج گرہن کے دوران ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497617'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497617"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ منظر زمین کے تقریباً ہر حصے سے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم بہترین وقت شام کے بعد یا صبح سویرے ہوگا۔ جو لوگ جلدی اٹھتے ہیں وہ طلوع آفتاب سے پہلے آسمان پر نظر ڈالیں، جبکہ رات کو جاگنے والے افراد غروب آفتاب کے فوراً بعد یہ نظارہ بہتر طور پر دیکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق سیاروں کو صاف دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ افق سے کم از کم دس ڈگری اوپر ہوں، کیونکہ بہت نیچے ہونے کی صورت میں فضا میں موجود  دھند انہیں چھپا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سیاروی ترتیب ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ سیارے سورج کے گرد کیسے گردش کرتے ہیں اور زمین کے مقابلے میں ان کی پوزیشن کیسے بدلتی رہتی ہے۔ یہی معلومات خلائی مشنز کی منصوبہ بندی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر انسائٹ مشن کو مریخ پر بھیجنے کے لیے زمین اور مریخ کی مناسب قربت کا انتظار کرنا پڑا تھا تاکہ سفر ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NASA_Marshall/status/2027428537708228935?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NASA_Marshall/status/2027428537708228935?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سیاروں کو پہچاننے کے لیے ماہرین نے چند آسان طریقے بھی بتائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیارہ زہرہ عموماً سب سے پہلے نظر آتا ہے اور سورج اور چاند کے بعد آسمان کا سب سے روشن جسم ہوتا ہے۔ یہ مغربی افق پر سفید اور چمکدار روشنی کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریخ سرخی مائل نقطے کی شکل میں نظر آتا ہے جبکہ زحل ہلکا پیلا دکھائی دیتا ہے۔ اگر سر کے عین اوپر نظر دوڑائی جائے تو مشتری کو دیکھا جا سکتا ہے۔ عطارد کو دیکھنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے اور اسے غروب آفتاب کے تیس سے ساٹھ منٹ بعد افق کے قریب تلاش کرنا بہتر رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے شہری روشنیوں سے دور کسی کھلے مقام کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ یہ نایاب منظر واضح طور پر دیکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30436205'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30436205"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آنے والے دنوں میں مزید دلچسپ آسمانی مناظر بھی متوقع ہیں۔ منگل کے روز ایشیا، آسٹریلیا، بحرالکاہل کے جزائر اور امریکا کے بعض علاقوں میں مکمل چاند گرہن دیکھا جا سکے گا۔ اس دوران چاند سرخ دکھائی دے گا جسے عام طور پر ’بلڈ مون‘ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ 31 مئی کو ایک ہی مہینے میں دوسرا مکمل چاند نظر آئے گا جسے ’بلیو مون‘ کہا جاتا ہے، اگرچہ اس کا رنگ نیلا نہیں ہوگا۔ جون کی 8 اور 9 تاریخ کو زہرہ اور مشتری آسمان پر ایک دوسرے کے بہت قریب دکھائی دیں گے اور یہ منظر بھی عام آنکھ سے دیکھا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام مناظر ہمیں کائنات کی وسعت اور نظامِ شمسی کی خوبصورتی کا احساس دلاتے ہیں اور عام لوگوں کے لیے بھی فلکیات میں دلچسپی بڑھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہفتہ کی رات آسمان پر ایک خوبصورت اور نایاب منظر دیکھنے کو ملے گا جب چھ سیارے ایک قطار کی صورت میں دکھائی دیں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر موسم صاف رہا تو دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ اس دلکش نظارے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/02/27/science/planetary-parade-alignment-when-where">سی این این</a> کے مطابق امریکی خلائی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nasa.gov/blogs/watch-the-skies/2026/01/16/most-notable-2026-astronomical-events-a-year-of-watching-the-skies/">’ناسا‘</a> کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ منظر سیاروں کے سورج کے گرد اپنے اپنے مدار میں گھومنے کے دوران ایک خاص ترتیب میں آنے کی وجہ سے بنتا ہے۔ ہائیڈی ہیولینڈ، ناسا کے مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر سے وابستہ ہیں، وہ انہوں نے بتایا کہ اس ترتیب کو ’سیاروی پریڈ‘ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اس موقع پر عطارد، زہرہ، زحل اور مشتری کو عام آنکھ سے دیکھا جا سکے گا، جبکہ یورینس اور نیپچون کو دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے کسی خاص حفاظتی عینک کی ضرورت نہیں، جیسا کہ سورج گرہن کے دوران ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497617'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497617"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ منظر زمین کے تقریباً ہر حصے سے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم بہترین وقت شام کے بعد یا صبح سویرے ہوگا۔ جو لوگ جلدی اٹھتے ہیں وہ طلوع آفتاب سے پہلے آسمان پر نظر ڈالیں، جبکہ رات کو جاگنے والے افراد غروب آفتاب کے فوراً بعد یہ نظارہ بہتر طور پر دیکھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق سیاروں کو صاف دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ افق سے کم از کم دس ڈگری اوپر ہوں، کیونکہ بہت نیچے ہونے کی صورت میں فضا میں موجود  دھند انہیں چھپا سکتی ہے۔</p>
<p>سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سیاروی ترتیب ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ سیارے سورج کے گرد کیسے گردش کرتے ہیں اور زمین کے مقابلے میں ان کی پوزیشن کیسے بدلتی رہتی ہے۔ یہی معلومات خلائی مشنز کی منصوبہ بندی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر انسائٹ مشن کو مریخ پر بھیجنے کے لیے زمین اور مریخ کی مناسب قربت کا انتظار کرنا پڑا تھا تاکہ سفر ممکن ہو سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NASA_Marshall/status/2027428537708228935?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NASA_Marshall/status/2027428537708228935?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سیاروں کو پہچاننے کے لیے ماہرین نے چند آسان طریقے بھی بتائے ہیں۔</p>
<p>سیارہ زہرہ عموماً سب سے پہلے نظر آتا ہے اور سورج اور چاند کے بعد آسمان کا سب سے روشن جسم ہوتا ہے۔ یہ مغربی افق پر سفید اور چمکدار روشنی کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>مریخ سرخی مائل نقطے کی شکل میں نظر آتا ہے جبکہ زحل ہلکا پیلا دکھائی دیتا ہے۔ اگر سر کے عین اوپر نظر دوڑائی جائے تو مشتری کو دیکھا جا سکتا ہے۔ عطارد کو دیکھنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے اور اسے غروب آفتاب کے تیس سے ساٹھ منٹ بعد افق کے قریب تلاش کرنا بہتر رہتا ہے۔</p>
<p>ماہرین نے شہری روشنیوں سے دور کسی کھلے مقام کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ یہ نایاب منظر واضح طور پر دیکھا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30436205'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30436205"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آنے والے دنوں میں مزید دلچسپ آسمانی مناظر بھی متوقع ہیں۔ منگل کے روز ایشیا، آسٹریلیا، بحرالکاہل کے جزائر اور امریکا کے بعض علاقوں میں مکمل چاند گرہن دیکھا جا سکے گا۔ اس دوران چاند سرخ دکھائی دے گا جسے عام طور پر ’بلڈ مون‘ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ 31 مئی کو ایک ہی مہینے میں دوسرا مکمل چاند نظر آئے گا جسے ’بلیو مون‘ کہا جاتا ہے، اگرچہ اس کا رنگ نیلا نہیں ہوگا۔ جون کی 8 اور 9 تاریخ کو زہرہ اور مشتری آسمان پر ایک دوسرے کے بہت قریب دکھائی دیں گے اور یہ منظر بھی عام آنکھ سے دیکھا جا سکے گا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام مناظر ہمیں کائنات کی وسعت اور نظامِ شمسی کی خوبصورتی کا احساس دلاتے ہیں اور عام لوگوں کے لیے بھی فلکیات میں دلچسپی بڑھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30500210</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2026 12:59:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/28101721db42dce.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/28101721db42dce.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
