<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 19:31:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Apr 2026 19:31:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آیت اللہ خامنہ ای کون تھے اور امریکا نے اُنہیں کیوں نشانہ بنایا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30500233/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی حملوں میں شہید کر دیا گیا ہے۔ ان حملوں میں ان کے دفاتر اور رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت کی تصدیق ایرانی سرکاری ذرائع نے بھی کی ہے اور ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیت اللہ علی خامنہ ای 1939ء میں ایران کے شہر مشہد میں ایک مقامی مذہبی رہنما جواد خامنہ ای کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش نسبتاً سادہ اور محدود وسائل میں ہوئی۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تعلیم انہوں نے مشہد کے ایک مدرسے میں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے عراق کے شہر نجف گئے، جہاں وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے شاگرد رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خامنہ ای کی شخصیت میں ادب اور خاص طور پر شاعری کا ذوق نمایاں رہا۔ وہ اپنی تقاریر میں اشعار کا حوالہ دیتے اور مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ بعض مواقع پر حکومت کے حامی شعراء ان کے سامنے اپنا کلام پیش کرتے اور ان کی رائے لیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذہبی علما کے درمیان ادب سے یہ گہری وابستگی نسبتاً کم دیکھی جاتی ہے۔ اسی طرح باغبانی سے ان کی دلچسپی بھی ان کی عوامی شخصیت کا حصہ سمجھی جاتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بطور سپریم لیڈر، خامنہ ای کو ایران کے سیاسی نظام میں مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ انہیں اہم حکومتی معاملات پر ویٹو کا اختیار تھا اور وہ ملک کے آئینی ڈھانچے کے تحت اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں مؤثر کردار ادا کرتے تھے۔ وہ ریاست کے سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف بھی رہے، جس کے باعث انہیں ایران کی سب سے طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500232/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وہ عام طور پر ایران سے باہر کم سفر کرتے تھے اور تہران کے مرکزی حصے میں ایک محفوظ کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کی ذاتی زندگی نسبتاً خاموش رہی اور خاندان کے افراد بھی زیادہ تر عوامی منظر سے دور رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1960ء اور 1970ء کی دہائی میں خامنہ ای شاہ ایران کے خلاف احتجاجی تحریکوں میں سرگرم رہے اور اس وقت جلاوطنی میں موجود آیت اللہ خمینی کے مضبوط حامیوں میں شامل تھے۔ شاہی دور میں انہیں متعدد مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ شاہ کی خفیہ پولیس نے انہیں کئی بار حراست میں لیا اور دورانِ حراست انہیں تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1979ء کے انقلاب کے بعد، جس کے نتیجے میں ایران میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی، خامنہ ای کو نئی حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اسلامی انقلابی کونسل کا حصہ بنے اور بعد ازاں 1981ء میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی عرصے میں ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے باعث ان کا دایاں بازو متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور عراق کی جنگ کے دوران انہوں نے مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ 1989ء میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد اسلامی علما پر مشتمل 88 رکنی ادارے اسمبلی آف ایکسپرٹس نے خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500228/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سپریم لیڈر کے طور پر ان کے اختیارات وسیع تھے۔ وہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر تھے، عدلیہ کے سربراہ کی تقرری میں مؤثر رائے رکھتے تھے اور ملکی پالیسی کی سمت طے کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں نہ صرف مذہبی پیشوا بلکہ ریاست کے سب سے بااثر فیصلہ ساز کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اپنے دورِ قیادت میں خامنہ ای نے روایتی ریاستی جنگ کی بجائے خطے میں ایک وسیع اثر و رسوخ کا نیٹ ورک تشکیل دیا، جسے بعض تجزیہ کار “مزاحمت کا محور” کہتے ہیں۔ اس میں لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثی گروہ اور شام میں سابق حکومت جیسے عناصر شامل سمجھے جاتے تھے۔ تاہم حالیہ برسوں میں خطے کی بدلتی صورتحال کے باعث اس اثر و رسوخ میں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ایٹمی پروگرام کو بھی ان کے دور میں تیزی سے آگے بڑھایا گیا، جس پر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی بڑھتی رہی۔ 2018ء میں امریکا کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندرونِ ملک، معاشی مشکلات اور سیاسی اختلافات کے باعث خامنہ ای کو مختلف ادوار میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریکوں کا سامنا کرنا پڑا، حالیہ برسوں میں معاشی صورتحال پر عوامی ناراضی بھی سامنے آتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شخصیت ایران کی جدید تاریخ میں ایک مرکزی کردار کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ ان کی قیادت نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ مشرق وسطیٰ کی علاقائی سیاست اور عالمی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی حملوں میں شہید کر دیا گیا ہے۔ ان حملوں میں ان کے دفاتر اور رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت کی تصدیق ایرانی سرکاری ذرائع نے بھی کی ہے اور ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>آیت اللہ علی خامنہ ای 1939ء میں ایران کے شہر مشہد میں ایک مقامی مذہبی رہنما جواد خامنہ ای کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش نسبتاً سادہ اور محدود وسائل میں ہوئی۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔</p>
<p>ابتدائی تعلیم انہوں نے مشہد کے ایک مدرسے میں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے عراق کے شہر نجف گئے، جہاں وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے شاگرد رہے۔</p>
<p>خامنہ ای کی شخصیت میں ادب اور خاص طور پر شاعری کا ذوق نمایاں رہا۔ وہ اپنی تقاریر میں اشعار کا حوالہ دیتے اور مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ بعض مواقع پر حکومت کے حامی شعراء ان کے سامنے اپنا کلام پیش کرتے اور ان کی رائے لیتے۔</p>
<p>مذہبی علما کے درمیان ادب سے یہ گہری وابستگی نسبتاً کم دیکھی جاتی ہے۔ اسی طرح باغبانی سے ان کی دلچسپی بھی ان کی عوامی شخصیت کا حصہ سمجھی جاتی رہی۔</p>
<p>بطور سپریم لیڈر، خامنہ ای کو ایران کے سیاسی نظام میں مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ انہیں اہم حکومتی معاملات پر ویٹو کا اختیار تھا اور وہ ملک کے آئینی ڈھانچے کے تحت اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں مؤثر کردار ادا کرتے تھے۔ وہ ریاست کے سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف بھی رہے، جس کے باعث انہیں ایران کی سب سے طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500232/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وہ عام طور پر ایران سے باہر کم سفر کرتے تھے اور تہران کے مرکزی حصے میں ایک محفوظ کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کی ذاتی زندگی نسبتاً خاموش رہی اور خاندان کے افراد بھی زیادہ تر عوامی منظر سے دور رہے۔</p>
<p>1960ء اور 1970ء کی دہائی میں خامنہ ای شاہ ایران کے خلاف احتجاجی تحریکوں میں سرگرم رہے اور اس وقت جلاوطنی میں موجود آیت اللہ خمینی کے مضبوط حامیوں میں شامل تھے۔ شاہی دور میں انہیں متعدد مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ شاہ کی خفیہ پولیس نے انہیں کئی بار حراست میں لیا اور دورانِ حراست انہیں تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔</p>
<p>1979ء کے انقلاب کے بعد، جس کے نتیجے میں ایران میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی، خامنہ ای کو نئی حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں شامل کیا گیا۔</p>
<p>وہ اسلامی انقلابی کونسل کا حصہ بنے اور بعد ازاں 1981ء میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی عرصے میں ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے باعث ان کا دایاں بازو متاثر ہوا۔</p>
<p>ایران اور عراق کی جنگ کے دوران انہوں نے مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ 1989ء میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد اسلامی علما پر مشتمل 88 رکنی ادارے اسمبلی آف ایکسپرٹس نے خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500228/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سپریم لیڈر کے طور پر ان کے اختیارات وسیع تھے۔ وہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر تھے، عدلیہ کے سربراہ کی تقرری میں مؤثر رائے رکھتے تھے اور ملکی پالیسی کی سمت طے کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں نہ صرف مذہبی پیشوا بلکہ ریاست کے سب سے بااثر فیصلہ ساز کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔</p>
<p>بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اپنے دورِ قیادت میں خامنہ ای نے روایتی ریاستی جنگ کی بجائے خطے میں ایک وسیع اثر و رسوخ کا نیٹ ورک تشکیل دیا، جسے بعض تجزیہ کار “مزاحمت کا محور” کہتے ہیں۔ اس میں لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثی گروہ اور شام میں سابق حکومت جیسے عناصر شامل سمجھے جاتے تھے۔ تاہم حالیہ برسوں میں خطے کی بدلتی صورتحال کے باعث اس اثر و رسوخ میں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔</p>
<p>ایران کے ایٹمی پروگرام کو بھی ان کے دور میں تیزی سے آگے بڑھایا گیا، جس پر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی بڑھتی رہی۔ 2018ء میں امریکا کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔</p>
<p>اندرونِ ملک، معاشی مشکلات اور سیاسی اختلافات کے باعث خامنہ ای کو مختلف ادوار میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریکوں کا سامنا کرنا پڑا، حالیہ برسوں میں معاشی صورتحال پر عوامی ناراضی بھی سامنے آتی رہی۔</p>
<p>مجموعی طور پر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شخصیت ایران کی جدید تاریخ میں ایک مرکزی کردار کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ ان کی قیادت نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ مشرق وسطیٰ کی علاقائی سیاست اور عالمی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30500233</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Mar 2026 10:43:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ماجد علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/02/281629565d5eccf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/02/281629565d5eccf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
