<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:32:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:32:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عراق میں ڈرون حملے سے فرانس کا ایک فوجی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30501455/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عراق کے شمالی شہر اربیل کے قریب ڈرون حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں، جس پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سخت ردعمل دیتے ہوئے حملے کی مذمت کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرانسیسی فوجی حکام نے بتایا کہ جمعرات کو اربیل کے علاقے میں ڈرون حملے کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف تربیت فراہم کرنے والے چھ فرانسیسی فوجی زخمی ہوگئے، جبکہ ایک اعلیٰ افسر چیف وارنٹ آفیسر ارناؤڈ فریون ہلاک ہوگیا۔ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب چند گھنٹے قبل ہی اسی علاقے میں ایک اطالوی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ چیف وارنٹ آفیسر ارناؤڈ فریون فرانس کے لیے جان قربان کر گئے، جبکہ حملے میں کئی دیگر فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015 سے داعش کے خلاف جاری کارروائیوں میں مصروف فرانسیسی افواج پر یہ حملہ ناقابل قبول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکرون نے مزید کہا کہ عراق میں فرانسیسی فوج کی موجودگی صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دائرہ کار میں ہے اور ایران میں جاری جنگ ایسے حملوں کا جواز فراہم نہیں کرسکتی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/EmmanuelMacron/status/2032254607695487354'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/EmmanuelMacron/status/2032254607695487354"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ڈرون کہاں سے داغا گیا تھا۔ تاہم عراقی سیکیورٹی ذرائع اور مسلح گروہوں کے قریبی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین سے چار روز کے دوران عراقی شیعہ ملیشیاؤں نے عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں میں تیزی لائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اربیل کے گورنر امید خوشناؤ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ڈرون حملہ مخمور کے علاقے میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اطالوی وزارت دفاع نے بھی جمعرات کو بتایا تھا کہ عراقی کردستان میں ایک اطالوی فوجی اڈے پر رات کے وقت کیا جانے والا فضائی حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا، جہاں نیٹو اہلکار تعینات ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501300'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501300"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا فرانس مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے بحیرۂ روم، بحیرۂ احمر اور ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں ایک درجن کے قریب بحری جہاز تعینات کر رہا ہے، جن میں اس کا طیارہ بردار بحری بیڑہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران، اسرائیل اور امریکا کی قیادت نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ دو ہفتوں کے قریب پہنچ چکی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک، لاکھوں متاثر اور عالمی مالیاتی منڈیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عراق کے شمالی شہر اربیل کے قریب ڈرون حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں، جس پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سخت ردعمل دیتے ہوئے حملے کی مذمت کی ہے۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرانسیسی فوجی حکام نے بتایا کہ جمعرات کو اربیل کے علاقے میں ڈرون حملے کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف تربیت فراہم کرنے والے چھ فرانسیسی فوجی زخمی ہوگئے، جبکہ ایک اعلیٰ افسر چیف وارنٹ آفیسر ارناؤڈ فریون ہلاک ہوگیا۔ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب چند گھنٹے قبل ہی اسی علاقے میں ایک اطالوی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ چیف وارنٹ آفیسر ارناؤڈ فریون فرانس کے لیے جان قربان کر گئے، جبکہ حملے میں کئی دیگر فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015 سے داعش کے خلاف جاری کارروائیوں میں مصروف فرانسیسی افواج پر یہ حملہ ناقابل قبول ہے۔</p>
<p>میکرون نے مزید کہا کہ عراق میں فرانسیسی فوج کی موجودگی صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دائرہ کار میں ہے اور ایران میں جاری جنگ ایسے حملوں کا جواز فراہم نہیں کرسکتی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/EmmanuelMacron/status/2032254607695487354'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/EmmanuelMacron/status/2032254607695487354"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ڈرون کہاں سے داغا گیا تھا۔ تاہم عراقی سیکیورٹی ذرائع اور مسلح گروہوں کے قریبی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین سے چار روز کے دوران عراقی شیعہ ملیشیاؤں نے عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں میں تیزی لائی ہے۔</p>
<p>اربیل کے گورنر امید خوشناؤ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ڈرون حملہ مخمور کے علاقے میں کیا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب اطالوی وزارت دفاع نے بھی جمعرات کو بتایا تھا کہ عراقی کردستان میں ایک اطالوی فوجی اڈے پر رات کے وقت کیا جانے والا فضائی حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا، جہاں نیٹو اہلکار تعینات ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501300'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501300"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>دریں اثنا فرانس مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے بحیرۂ روم، بحیرۂ احمر اور ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں ایک درجن کے قریب بحری جہاز تعینات کر رہا ہے، جن میں اس کا طیارہ بردار بحری بیڑہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>ادھر ایران، اسرائیل اور امریکا کی قیادت نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ دو ہفتوں کے قریب پہنچ چکی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک، لاکھوں متاثر اور عالمی مالیاتی منڈیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہوچکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30501455</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Mar 2026 13:07:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/13130659e2714c7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/13130659e2714c7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
