<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 20:32:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 20:32:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل: جاپان، آسٹریلیا اور برطانیہ کا مدد سے انکار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30501775/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے عالمی تعاون کی اپیل پر اب تک کسی بڑے ملک نے خطے میں بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔ جاپان، آسٹریلیا اور برطانیہ نے بھی اس معاملے میں محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے فوجی شرکت سے گریز کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدرٹرمپ نے اتحادی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے بحری راستے کو محفوظ رکھنے کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی سپلائی عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس اہم گزرگاہ کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر کو آگاہ کیا کہ برطانیہ اس مرحلے پر اس آپریشن میں شامل ہونے کیلئے تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح آسٹریلیا کی ٹرانسپورٹ وزیر کیتھرین کنگ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ آسٹریلیا آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق آسٹریلیا اس وقت متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے دفاعی تعاون کے تحت طیارے فراہم کر رہا ہے، تاہم بحری جہاز بھیجنا اس منصوبے کا حصہ نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501772/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501772"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائے چی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ جاپان نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے بحری جہاز بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جاپان اپنے قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کیا اقدامات کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے بھی ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر خاموشی اختیار کر لی، تاہم کہا کہ وہ متعلقہ فریقین سے رابطے بڑھا کر تعمیری کردار ادا کرے گا۔ امریکی اور برطانوی وزراء توانائی نے کہا کہ وہ خطے میں تعاون کے طریقے دیکھ رہے ہیں، جب کہ جنوبی کوریا بھی صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے۔ فرانس پہلے ہی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک کثیر ملکی اتحاد بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کا باضابطہ اعلان رواں ہفتے کے اوائل میں متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501748/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501748"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی ممالک نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مشترکہ اتحاد کے قیام پر ابتدائی طور پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ امریکا اب تک سات ممالک سے رابطہ کر چکا ہے، جن میں شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم کے اتحادی بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممالک اپنی توانائی کی سپلائی کے تحفظ کے لیے خود بھی کردار ادا کریں کیونکہ ان کی بڑی توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز کی اتنی ضرورت نہیں کیونکہ امریکا خود بڑی مقدار میں تیل پیدا کرتا ہے، تاہم دیگر ممالک اپنی توانائی کا بڑا حصہ اسی بحری راستے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ پر دباؤ بڑھتا ہے تو اس سے عالمی تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے عالمی تعاون کی اپیل پر اب تک کسی بڑے ملک نے خطے میں بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔ جاپان، آسٹریلیا اور برطانیہ نے بھی اس معاملے میں محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے فوجی شرکت سے گریز کیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدرٹرمپ نے اتحادی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے بحری راستے کو محفوظ رکھنے کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی سپلائی عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس اہم گزرگاہ کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر کو آگاہ کیا کہ برطانیہ اس مرحلے پر اس آپریشن میں شامل ہونے کیلئے تیار نہیں۔</p>
<p>اسی طرح آسٹریلیا کی ٹرانسپورٹ وزیر کیتھرین کنگ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ آسٹریلیا آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق آسٹریلیا اس وقت متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے دفاعی تعاون کے تحت طیارے فراہم کر رہا ہے، تاہم بحری جہاز بھیجنا اس منصوبے کا حصہ نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501772/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501772"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ادھر جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائے چی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ جاپان نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے بحری جہاز بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جاپان اپنے قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کیا اقدامات کر سکتا ہے۔</p>
<p>چین نے بھی ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر خاموشی اختیار کر لی، تاہم کہا کہ وہ متعلقہ فریقین سے رابطے بڑھا کر تعمیری کردار ادا کرے گا۔ امریکی اور برطانوی وزراء توانائی نے کہا کہ وہ خطے میں تعاون کے طریقے دیکھ رہے ہیں، جب کہ جنوبی کوریا بھی صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے۔ فرانس پہلے ہی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر چکا ہے۔</p>
<p>امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک کثیر ملکی اتحاد بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کا باضابطہ اعلان رواں ہفتے کے اوائل میں متوقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501748/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501748"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی ممالک نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مشترکہ اتحاد کے قیام پر ابتدائی طور پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ امریکا اب تک سات ممالک سے رابطہ کر چکا ہے، جن میں شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم کے اتحادی بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممالک اپنی توانائی کی سپلائی کے تحفظ کے لیے خود بھی کردار ادا کریں کیونکہ ان کی بڑی توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز کی اتنی ضرورت نہیں کیونکہ امریکا خود بڑی مقدار میں تیل پیدا کرتا ہے، تاہم دیگر ممالک اپنی توانائی کا بڑا حصہ اسی بحری راستے کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ پر دباؤ بڑھتا ہے تو اس سے عالمی تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30501775</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Mar 2026 14:17:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/16100325d32feec.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/16100325d32feec.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
