<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 06:50:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 06:50:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلوی شہری نے ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی مدد سے کتے کے لیے کینسر ویکسین تیار کرلی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30501853/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے تعلق رکھنے والے شہری نے مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے اپنے بیمار کتے کے لیے کینسر کا نہ صرف علاج دریافت کیا بلکہ ویکسین بھی بنا ڈالی۔ پال کونینگھم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور بائیولوجی یا طب کے شعبے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی شہری پال کونینگھم نے ’چیٹ جی پی ٹی‘ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پالتو کتے کی جان بچالی۔ ان کی تیار کردہ ویکسین کو انسانی علاج کے لیے استعمال پر بھی تحقیق کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پال کے پالتو کتے کو جان لیوا کینسر تشخیص ہوا تھا۔ سرجری اور کیموتھراپی جیسے روایتی علاج ٹیومرز کو روکنے میں ناکام رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس صورت حال میں مصنوعی ذہانت کی مدد لینے کا فیصلہ کیا اور ’چیٹ جی پی ٹی‘ کا استعمال کرتے ہوئے کینسر کے ممکنہ علاج تلاش کیے اور پھر جدید ٹولز کی مدد سے اپنے کتے کے کینسر کے لیے ایک مخصوص ویکسین (mRNA) کا ڈیزائن تیار کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/gdb/status/2032867435704103006'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/gdb/status/2032867435704103006"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے پال نے اپنی جیب سے 3 ہزار ڈالر خرچ کر کے یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے ’راماچی اوٹی سینٹر فار جینومکس‘ سے روزی کے ڈی این اے کی سیکوینسنگ کروائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی کے سائنسدان پال کے ڈیزائن کردہ ڈیٹا سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس تجرباتی ویکسین کو تیار کرنے اور لگانے میں ان کی مدد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویکسین لگنے کے چند ہفتوں کے اندر ہی روزی کا ایک بڑا ٹیومر 50 فیصد تک سکڑ گیا اور اس کی صحت میں حیرت انگیز بہتری دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/paul_conyngham/status/1859793608989344042'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/paul_conyngham/status/1859793608989344042"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کے مطابق اگرچہ ٹیومر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تاہم روزی کی حالت میں واضح بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کتے کے لیے مصنوعی ذہانت سے ڈیزائن کردہ ویکسین تیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں نے اس اقدام کو مستقبل میں پالتو جانوروں کے موذی امراض کے علاج کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس کامیابی نے جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کے کینسر علاج کے امکانات کو بھی نئی روشنی دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے تعلق رکھنے والے شہری نے مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے اپنے بیمار کتے کے لیے کینسر کا نہ صرف علاج دریافت کیا بلکہ ویکسین بھی بنا ڈالی۔ پال کونینگھم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور بائیولوجی یا طب کے شعبے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے۔</strong></p>
<p>آسٹریلوی شہری پال کونینگھم نے ’چیٹ جی پی ٹی‘ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پالتو کتے کی جان بچالی۔ ان کی تیار کردہ ویکسین کو انسانی علاج کے لیے استعمال پر بھی تحقیق کی جارہی ہے۔</p>
<p>پال کے پالتو کتے کو جان لیوا کینسر تشخیص ہوا تھا۔ سرجری اور کیموتھراپی جیسے روایتی علاج ٹیومرز کو روکنے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p>انہوں نے اس صورت حال میں مصنوعی ذہانت کی مدد لینے کا فیصلہ کیا اور ’چیٹ جی پی ٹی‘ کا استعمال کرتے ہوئے کینسر کے ممکنہ علاج تلاش کیے اور پھر جدید ٹولز کی مدد سے اپنے کتے کے کینسر کے لیے ایک مخصوص ویکسین (mRNA) کا ڈیزائن تیار کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/gdb/status/2032867435704103006'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/gdb/status/2032867435704103006"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس مقصد کے لیے پال نے اپنی جیب سے 3 ہزار ڈالر خرچ کر کے یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے ’راماچی اوٹی سینٹر فار جینومکس‘ سے روزی کے ڈی این اے کی سیکوینسنگ کروائی۔</p>
<p>یونیورسٹی کے سائنسدان پال کے ڈیزائن کردہ ڈیٹا سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس تجرباتی ویکسین کو تیار کرنے اور لگانے میں ان کی مدد کی۔</p>
<p>ویکسین لگنے کے چند ہفتوں کے اندر ہی روزی کا ایک بڑا ٹیومر 50 فیصد تک سکڑ گیا اور اس کی صحت میں حیرت انگیز بہتری دیکھی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/paul_conyngham/status/1859793608989344042'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/paul_conyngham/status/1859793608989344042"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سائنسدانوں کے مطابق اگرچہ ٹیومر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تاہم روزی کی حالت میں واضح بہتری آئی ہے۔</p>
<p>یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کتے کے لیے مصنوعی ذہانت سے ڈیزائن کردہ ویکسین تیار کی گئی ہے۔</p>
<p>سائنسدانوں نے اس اقدام کو مستقبل میں پالتو جانوروں کے موذی امراض کے علاج کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس کامیابی نے جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کے کینسر علاج کے امکانات کو بھی نئی روشنی دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30501853</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Mar 2026 18:57:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/16184125e69bc58.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/16184125e69bc58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
