<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:10:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:10:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریاض پر ایران کا میزائل حملہ ناکام، پہلی بار شہریوں کو موبائل فون پر خطرے کے الرٹس موصول</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502143/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر داغے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو فضاء میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق یہ میزائل ایران کی جانب سے داغے گئے تھے، تاہم سعودی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ تباہ شدہ میزائلوں کا ملبہ شہر کے مختلف علاقوں میں گرا، لیکن ابتدائی جائزے کے مطابق کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے دوران شہر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور پہلی بار کئی شہریوں کو موبائل فون پر فضائی خطرے کے الرٹس بھی موصول ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/riyadh-residents-receive-phone-alerts-first-time-warning-hostile-threat-2026-03-18/"&gt;’رائٹرز‘ &lt;/a&gt;کو بتایا کہ شہر کے مغربی حصے، خاص طور پر سفارتی علاقے کے قریب، فضا میں میزائلوں کو تباہ ہوتے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملے کے بعد حکام نے سائرن بجائے اور شہریوں سمیت غیر ملکی افراد کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہجوم والی جگہوں سے دور رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/1823381735e34de.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/1823381735e34de.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہونے والا تھا، جس میں خطے کی سیکیورٹی اور ایران جنگ کے اثرات پر غور کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس اجلاس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، پاکستان، قطر، شام، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502123/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502123"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں سے جاری ایران سے متعلق جنگ کے دوران سعودی عرب پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بدھ کا حملہ اس لحاظ سے مختلف تھا کہ پہلی بار ریاض کے بہت سے شہریوں نے براہ راست دھماکوں کی آوازیں سنیں اور باضابطہ وارننگ سسٹم کا تجربہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502124/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً تین ہفتوں سے جاری اس جنگ میں کشیدگی کم ہونے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے، جبکہ اس کے اثرات خطے کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی منڈی پر بھی پڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکام نے اس واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر داغے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو فضاء میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق یہ میزائل ایران کی جانب سے داغے گئے تھے، تاہم سعودی فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔</strong></p>
<p>وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ تباہ شدہ میزائلوں کا ملبہ شہر کے مختلف علاقوں میں گرا، لیکن ابتدائی جائزے کے مطابق کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>واقعے کے دوران شہر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور پہلی بار کئی شہریوں کو موبائل فون پر فضائی خطرے کے الرٹس بھی موصول ہوئے۔</p>
<p>عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/riyadh-residents-receive-phone-alerts-first-time-warning-hostile-threat-2026-03-18/">’رائٹرز‘ </a>کو بتایا کہ شہر کے مغربی حصے، خاص طور پر سفارتی علاقے کے قریب، فضا میں میزائلوں کو تباہ ہوتے دیکھا گیا۔</p>
<p>حملے کے بعد حکام نے سائرن بجائے اور شہریوں سمیت غیر ملکی افراد کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہجوم والی جگہوں سے دور رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/1823381735e34de.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/1823381735e34de.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہونے والا تھا، جس میں خطے کی سیکیورٹی اور ایران جنگ کے اثرات پر غور کیا جانا تھا۔</p>
<p>رائٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس اجلاس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، پاکستان، قطر، شام، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502123/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502123"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں سے جاری ایران سے متعلق جنگ کے دوران سعودی عرب پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔</p>
<p>تاہم بدھ کا حملہ اس لحاظ سے مختلف تھا کہ پہلی بار ریاض کے بہت سے شہریوں نے براہ راست دھماکوں کی آوازیں سنیں اور باضابطہ وارننگ سسٹم کا تجربہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502124/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً تین ہفتوں سے جاری اس جنگ میں کشیدگی کم ہونے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے، جبکہ اس کے اثرات خطے کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی منڈی پر بھی پڑ رہے ہیں۔</p>
<p>سعودی حکام نے اس واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502143</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Mar 2026 23:39:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/18233653ac83cd2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/18233653ac83cd2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
