<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:33:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:33:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ نے ایران پر حملوں کے لیے امریکا کو اپنے فوجی اڈّے دینے کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502392/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں میں مدد دی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/aerospace-defense/uk-approves-us-use-british-bases-strike-iran-missile-sites-targeting-ships-2026-03-20/"&gt; رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق برطانوی حکومت نے  باضابطہ طور پر امریکا کو اجازت دی کہ وہ برطانیہ میں موجود فوجی اڈوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائیاں کر سکے۔ اس فیصلے کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے جواب میں دفاعی اقدامات کو تقویت دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق برطانوی وزراء نے جنگ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ امریکا کو اڈوں کے استعمال کی اجازت اجتماعی دفاع کے تحت دی گئی ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں حملوں کے لیے استعمال ہونے والے میزائل سسٹمز کو ناکارہ بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے اس سے قبل کہا تھا کہ برطانیہ براہِ راست اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا، تاہم بعد ازاں ایران کی جانب سے خطے میں برطانوی اتحادیوں پر حملوں کے بعد امریکا کو محدود استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب امریکا برطانیہ کے دو اہم اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ اور ڈیاگو گارسیا استعمال کر سکے گا، جو مشترکہ امریکی و برطانوی تنصیبات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل برطانیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض اتحادی ممالک جنگ میں تعاون نہیں کر رہے، جبکہ برطانیہ نے اپنے مؤقف میں قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنے کی بات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤننگ اسٹریٹ کے بیان میں خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے جلد حل پر بھی زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر برطانیہ میں رائے عامہ کے سروے کے مطابق عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف ہے، اور ایک سروے میں تقریباً 59 فیصد افراد نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی مخالفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں میں مدد دی جا سکے۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/aerospace-defense/uk-approves-us-use-british-bases-strike-iran-missile-sites-targeting-ships-2026-03-20/"> رائٹرز</a> کے مطابق برطانوی حکومت نے  باضابطہ طور پر امریکا کو اجازت دی کہ وہ برطانیہ میں موجود فوجی اڈوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائیاں کر سکے۔ اس فیصلے کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے جواب میں دفاعی اقدامات کو تقویت دینا ہے۔</p>
<p>ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق برطانوی وزراء نے جنگ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ امریکا کو اڈوں کے استعمال کی اجازت اجتماعی دفاع کے تحت دی گئی ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں حملوں کے لیے استعمال ہونے والے میزائل سسٹمز کو ناکارہ بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے اس سے قبل کہا تھا کہ برطانیہ براہِ راست اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا، تاہم بعد ازاں ایران کی جانب سے خطے میں برطانوی اتحادیوں پر حملوں کے بعد امریکا کو محدود استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>اب امریکا برطانیہ کے دو اہم اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ اور ڈیاگو گارسیا استعمال کر سکے گا، جو مشترکہ امریکی و برطانوی تنصیبات ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل برطانیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض اتحادی ممالک جنگ میں تعاون نہیں کر رہے، جبکہ برطانیہ نے اپنے مؤقف میں قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنے کی بات کی تھی۔</p>
<p>ڈاؤننگ اسٹریٹ کے بیان میں خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے جلد حل پر بھی زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>ادھر برطانیہ میں رائے عامہ کے سروے کے مطابق عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف ہے، اور ایک سروے میں تقریباً 59 فیصد افراد نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی مخالفت کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502392</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Mar 2026 00:40:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/21003949e123239.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/21003949e123239.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
