<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:29:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:29:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا کلسٹر وار ہیڈز والے میزائلوں سے اسرائیل پر حملہ، گاڑیوں اور مکانات کو نقصان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502583/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے اسرائیل پر کلسٹر وار ہیڈز سے لیس میزائلوں کی بارش کر دی، جس کے نتیجے میں متعدد علاقے نشانہ بنے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملوں میں جانی و مالی نقصان ہوا جبکہ اسرائیلی دفاعی نظام ایک بار پھر میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے رات گئے اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، جس کے دوران کلسٹر وار ہیڈز سے لیس میزائل داغے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ میزائل مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کی سمت فائر کیے گئے، جن میں سے متعدد رہائشی علاقوں میں آ گرے، نتیجتاً گاڑیوں اور مکانات کو نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق حملوں میں کلسٹر بموں سے لیس میزائل بھی استعمال کیے گئے، جب کہ اسرائیلی دفاعی نظام ایک بار پھر ان میزائلوں کو مؤثر طور پر روکنے میں ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502553/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502553"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز اسرائیلی ایٹمی مرکز ڈیمونا اور عراد پر ہونے والے میزائل حملوں میں دس افراد ہلاک اور ایک سو اسی زخمی ہوئے تھے، جب کہ متعدد عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل اٹامک توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی علاقے ڈیمونا کے قریب میزائل حملے کے بعد کسی قسم کے تابکاری کے شواہد نہیں ملے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ واقعے کی صورت حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اب تک اسرائیل کے حساس جوہری  مرکز  کو کسی نقصان پہنچنے کے شواہد موصول نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/23094017b023d4d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/23094017b023d4d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے جوہری تنصیبات کے اطراف میں زیادہ سے زیادہ فوجی احتیاط برتنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی جوہری تحفظ کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دوٹوک الفاظ میں امریکا اور اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ توانائی تنصیبات پر حملے کی صورت میں وہ آبنائے ہرمز مکمل بند کردیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے اسرائیل پر کلسٹر وار ہیڈز سے لیس میزائلوں کی بارش کر دی، جس کے نتیجے میں متعدد علاقے نشانہ بنے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملوں میں جانی و مالی نقصان ہوا جبکہ اسرائیلی دفاعی نظام ایک بار پھر میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔</strong></p>
<p>ایران نے رات گئے اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، جس کے دوران کلسٹر وار ہیڈز سے لیس میزائل داغے گئے۔</p>
<p>اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ میزائل مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کی سمت فائر کیے گئے، جن میں سے متعدد رہائشی علاقوں میں آ گرے، نتیجتاً گاڑیوں اور مکانات کو نقصان پہنچا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق حملوں میں کلسٹر بموں سے لیس میزائل بھی استعمال کیے گئے، جب کہ اسرائیلی دفاعی نظام ایک بار پھر ان میزائلوں کو مؤثر طور پر روکنے میں ناکام رہا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502553/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502553"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ روز اسرائیلی ایٹمی مرکز ڈیمونا اور عراد پر ہونے والے میزائل حملوں میں دس افراد ہلاک اور ایک سو اسی زخمی ہوئے تھے، جب کہ متعدد عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔</p>
<p>انٹرنیشنل اٹامک توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی علاقے ڈیمونا کے قریب میزائل حملے کے بعد کسی قسم کے تابکاری کے شواہد نہیں ملے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ واقعے کی صورت حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اب تک اسرائیل کے حساس جوہری  مرکز  کو کسی نقصان پہنچنے کے شواہد موصول نہیں ہوئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/23094017b023d4d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/23094017b023d4d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے جوہری تنصیبات کے اطراف میں زیادہ سے زیادہ فوجی احتیاط برتنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی جوہری تحفظ کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دوٹوک الفاظ میں امریکا اور اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ توانائی تنصیبات پر حملے کی صورت میں وہ آبنائے ہرمز مکمل بند کردیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502583</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Mar 2026 11:12:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/23111133e3df705.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/23111133e3df705.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
