<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 13:06:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 13:06:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابق سی آئی اے چیف کو ٹرمپ سے زیادہ ایران پر بھروسہ کرنے پر شدید تنقید کا سامنا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502648/</link>
      <description>&lt;h3&gt;&lt;a id="امریکی-انٹیلی-جنس-کے-سابق-سربراہ-جان-برینن-نے-صدر-ڈونلڈ-ٹرمپ-کے-بیانات-پر-سخت-تنقید-کرتے-ہوئے-کہا-ہے-کہ-وہ-ایران-کے-مؤقف-کو-ٹرمپ-کے-دعوؤں-سے-زیادہ-قابلِ-اعتماد-سمجھتے-ہیں" href="#امریکی-انٹیلی-جنس-کے-سابق-سربراہ-جان-برینن-نے-صدر-ڈونلڈ-ٹرمپ-کے-بیانات-پر-سخت-تنقید-کرتے-ہوئے-کہا-ہے-کہ-وہ-ایران-کے-مؤقف-کو-ٹرمپ-کے-دعوؤں-سے-زیادہ-قابلِ-اعتماد-سمجھتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;امریکی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جان برینن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے مؤقف کو ٹرمپ کے دعوؤں سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2026/03/24/us-news/john-brennan-slammed-for-saying-he-believes-iran-more-than-trump/"&gt;مطابق&lt;/a&gt; جان برینن نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے بیانات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کے مقابلے میں زیادہ قابلِ یقین سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ متعدد حقائق سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنی پالیسی کی ناکامی سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینن کے مطابق یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق سی آئی اے سربراہ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان کسی قسم کی باضابطہ بات چیت نہیں ہو رہی اور دونوں جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جان برینن نے واضح طور پر کہا کہ ان کے نزدیک ایران کے بیانات زیادہ حقیقت کے قریب ہیں جبکہ امریکی صدر کے دعوؤں میں تضاد پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے برینن کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ایک ایسے ملک پر یقین کرنا جو دہائیوں سے امریکا کے خلاف نعرے لگاتا آیا ہے، شرمناک ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2036413839701369190?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2036413839701369190?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ایک اور عہدیدار پیٹرک ایڈمز نے بھی برینن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر بھی برینن کے بیان پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں بعض صارفین نے ان کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے اسے موجودہ صورتحال کا عکاس قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h3><a id="امریکی-انٹیلی-جنس-کے-سابق-سربراہ-جان-برینن-نے-صدر-ڈونلڈ-ٹرمپ-کے-بیانات-پر-سخت-تنقید-کرتے-ہوئے-کہا-ہے-کہ-وہ-ایران-کے-مؤقف-کو-ٹرمپ-کے-دعوؤں-سے-زیادہ-قابلِ-اعتماد-سمجھتے-ہیں" href="#امریکی-انٹیلی-جنس-کے-سابق-سربراہ-جان-برینن-نے-صدر-ڈونلڈ-ٹرمپ-کے-بیانات-پر-سخت-تنقید-کرتے-ہوئے-کہا-ہے-کہ-وہ-ایران-کے-مؤقف-کو-ٹرمپ-کے-دعوؤں-سے-زیادہ-قابلِ-اعتماد-سمجھتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>امریکی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جان برینن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے مؤقف کو ٹرمپ کے دعوؤں سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔</strong></h3>
<p>امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2026/03/24/us-news/john-brennan-slammed-for-saying-he-believes-iran-more-than-trump/">مطابق</a> جان برینن نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے بیانات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کے مقابلے میں زیادہ قابلِ یقین سمجھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ متعدد حقائق سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنی پالیسی کی ناکامی سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>برینن کے مطابق یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p>سابق سی آئی اے سربراہ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان کسی قسم کی باضابطہ بات چیت نہیں ہو رہی اور دونوں جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p>جان برینن نے واضح طور پر کہا کہ ان کے نزدیک ایران کے بیانات زیادہ حقیقت کے قریب ہیں جبکہ امریکی صدر کے دعوؤں میں تضاد پایا جاتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے برینن کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ایک ایسے ملک پر یقین کرنا جو دہائیوں سے امریکا کے خلاف نعرے لگاتا آیا ہے، شرمناک ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2036413839701369190?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2036413839701369190?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وائٹ ہاؤس کے ایک اور عہدیدار پیٹرک ایڈمز نے بھی برینن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر بھی برینن کے بیان پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں بعض صارفین نے ان کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے اسے موجودہ صورتحال کا عکاس قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502648</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 10:24:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/25101046a412b34.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/25101046a412b34.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
