<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 24 May 2026 05:53:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 24 May 2026 05:53:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صرف 11 منٹ کی اضافی نیند آپ کو ہارٹ اٹیک سے بچا سکتی ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502829/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آپ جانتے ہیں کہ روزانہ صرف چند منٹ کی اضافی نیند اور تھوڑی سی جسمانی محنت آپ کو دل کے دورے  جیسے بڑے خطرے سے بچا سکتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.escardio.org/news/press/press-releases/combining-small/"&gt; یورپی جرنل آف پریوینٹو کارڈیالوجی&lt;/a&gt; میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ طرزِ زندگی میں انتہائی معمولی تبدیلیاں بھی انسانی دل کے لیے معجزاتی ثابت ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص صرف 10 سے 15 منٹ زیادہ نیند لے، چند منٹ اضافی چہل قدمی کرے اور خوراک میں تھوڑی سی سبزیوں کا اضافہ کرے تو دل کے دورے اور فالج جیسے خطرناک امراض کے امکانات نمایاں حد تک کم ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498260'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498260"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق 53 ہزار سے زائد افراد پر کی گئی، جس میں آٹھ سال تک ان کی روزمرہ عادات کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے پتا چلا کہ چھوٹی مگر مسلسل تبدیلیاں اپنانے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ تقریباً 10 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لوگ اپنی طرزِ زندگی میں مزید بہتری لائیں، جیسے روزانہ 8 سے 9 گھنٹے کی مکمل نیند، باقاعدہ ورزش اور متوازن غذا کو معمول بنا لیں، تو یہ خطرہ 50 فیصد سے بھی زیادہ کم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران شرکاء کی نیند اور جسمانی سرگرمیوں کو اسمارٹ واچز جیسے آلات کی مدد سے مانیٹر کیا گیا، جبکہ ان کی خوراک کے بارے میں معلومات خود ان سے حاصل کی گئیں۔ اس عرصے میں دو ہزار سے زائد افراد میں دل سے متعلق سنگین مسائل ریکارڈ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30491034'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30491034"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑی تبدیلیاں لانے کے بجائے چھوٹے اور آسان اقدامات کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا زیادہ مؤثر اور قابلِ عمل حکمت عملی ہے، جس سے طویل مدت میں صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے بائیو بینک کے 53 ہزار سے زائد افراد پر آٹھ سال تک کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزمرہ زندگی میں معمولی سی مثبت تبدیلیاں بھی دل کی صحت پر بڑا اثر ڈال سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڈنی یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر نکولس کومل کے مطابق، زندگی میں ایک دم بڑی تبدیلی لانے کے بجائے چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کرنا زیادہ آسان اور پائیدار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ روزمرہ کے معمولات میں کیے گئے یہ چھوٹے سے اضافے طویل مدت میں دل کی صحت پر گہرا مثبت اثر ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ماہر &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://themorningnews.com/news/2026/03/24/just-11-extra-minutes-of-sleep-can-cut-heart-attack-risk-study-finds"&gt;ایملی میک گرا&lt;/a&gt; نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ لوگوں کو صحت مند رہنے کے لیے اپنی زندگی مکمل طور پر بدلنے کی ضرورت نہیں، بلکہ چند منٹوں کی تبدیلی بھی کافی ہے۔ کیونکہ یہی عادات طویل مدت میں بڑی صحت بخش تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا آپ جانتے ہیں کہ روزانہ صرف چند منٹ کی اضافی نیند اور تھوڑی سی جسمانی محنت آپ کو دل کے دورے  جیسے بڑے خطرے سے بچا سکتی ہے؟</strong><br></p>
<p>حال ہی میں<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.escardio.org/news/press/press-releases/combining-small/"> یورپی جرنل آف پریوینٹو کارڈیالوجی</a> میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ طرزِ زندگی میں انتہائی معمولی تبدیلیاں بھی انسانی دل کے لیے معجزاتی ثابت ہوتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص صرف 10 سے 15 منٹ زیادہ نیند لے، چند منٹ اضافی چہل قدمی کرے اور خوراک میں تھوڑی سی سبزیوں کا اضافہ کرے تو دل کے دورے اور فالج جیسے خطرناک امراض کے امکانات نمایاں حد تک کم ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498260'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498260"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ تحقیق 53 ہزار سے زائد افراد پر کی گئی، جس میں آٹھ سال تک ان کی روزمرہ عادات کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>نتائج سے پتا چلا کہ چھوٹی مگر مسلسل تبدیلیاں اپنانے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ تقریباً 10 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لوگ اپنی طرزِ زندگی میں مزید بہتری لائیں، جیسے روزانہ 8 سے 9 گھنٹے کی مکمل نیند، باقاعدہ ورزش اور متوازن غذا کو معمول بنا لیں، تو یہ خطرہ 50 فیصد سے بھی زیادہ کم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>تحقیق کے دوران شرکاء کی نیند اور جسمانی سرگرمیوں کو اسمارٹ واچز جیسے آلات کی مدد سے مانیٹر کیا گیا، جبکہ ان کی خوراک کے بارے میں معلومات خود ان سے حاصل کی گئیں۔ اس عرصے میں دو ہزار سے زائد افراد میں دل سے متعلق سنگین مسائل ریکارڈ کیے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30491034'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30491034"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑی تبدیلیاں لانے کے بجائے چھوٹے اور آسان اقدامات کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا زیادہ مؤثر اور قابلِ عمل حکمت عملی ہے، جس سے طویل مدت میں صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔</p>
<p>برطانیہ کے بائیو بینک کے 53 ہزار سے زائد افراد پر آٹھ سال تک کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزمرہ زندگی میں معمولی سی مثبت تبدیلیاں بھی دل کی صحت پر بڑا اثر ڈال سکتی ہیں۔</p>
<p>سڈنی یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر نکولس کومل کے مطابق، زندگی میں ایک دم بڑی تبدیلی لانے کے بجائے چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کرنا زیادہ آسان اور پائیدار ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ روزمرہ کے معمولات میں کیے گئے یہ چھوٹے سے اضافے طویل مدت میں دل کی صحت پر گہرا مثبت اثر ڈالتے ہیں۔</p>
<p>برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ماہر <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://themorningnews.com/news/2026/03/24/just-11-extra-minutes-of-sleep-can-cut-heart-attack-risk-study-finds">ایملی میک گرا</a> نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ لوگوں کو صحت مند رہنے کے لیے اپنی زندگی مکمل طور پر بدلنے کی ضرورت نہیں، بلکہ چند منٹوں کی تبدیلی بھی کافی ہے۔ کیونکہ یہی عادات طویل مدت میں بڑی صحت بخش تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502829</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Mar 2026 14:15:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/29141433c8ec1a9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/29141433c8ec1a9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
