<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 16 May 2026 07:10:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 16 May 2026 07:10:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عراق میں امریکی ملٹری بیس پر ایران کا حملہ، جہاز کو آگ لگ گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502846/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عراق کے دارالحکومت بغداد میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جو ڈرون حملوں کے بجائے راکٹ فائر کیے جانے کے باعث تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ کے مطابق یہ راکٹ امریکی فوج کے زیرِ استعمال وکٹوریا بیس کو نشانہ بنا کر داغے گئے، جو بغداد سے تقریباً 20 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق فضائی دفاعی نظام ان راکٹوں کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں ایک ’اے 32 بی‘ عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو نشانہ بنایا گیا اور وہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع ہے کہ وکٹوریا بیس کو اس طرح براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم اس وقت اس اڈے پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں تھے کیونکہ امریکا پہلے ہی اس فوجی تنصیب کو خالی کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502841/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502841"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ حملہ زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے، کیونکہ عراق پر امریکی حملے کے عروج کے دوران یہی علاقہ ملک کا سب سے محفوظ اور سخت سیکیورٹی والا مقام سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسی جگہ پر حملہ ہونا سیکیورٹی صورتحال میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین کے مطابق رات بھر بغداد کی فضاؤں میں امریکی جنگی طیاروں کی پروازیں بھی دیکھی گئیں، جس سے کشیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کرد خودمختار علاقے کے دارالحکومت اربیل میں بھی ایک ڈرون حملے کی کوشش کی گئی، جہاں امریکی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہاں موجود فضائی دفاعی نظام نے ان ڈرونز کو بروقت تباہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عراق کے دارالحکومت بغداد میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جو ڈرون حملوں کے بجائے راکٹ فائر کیے جانے کے باعث تھیں۔</strong></p>
<p>الجزیرہ کے مطابق یہ راکٹ امریکی فوج کے زیرِ استعمال وکٹوریا بیس کو نشانہ بنا کر داغے گئے، جو بغداد سے تقریباً 20 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق فضائی دفاعی نظام ان راکٹوں کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں ایک ’اے 32 بی‘ عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو نشانہ بنایا گیا اور وہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔</p>
<p>یہ پہلا موقع ہے کہ وکٹوریا بیس کو اس طرح براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم اس وقت اس اڈے پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں تھے کیونکہ امریکا پہلے ہی اس فوجی تنصیب کو خالی کر چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502841/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502841"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق یہ حملہ زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے، کیونکہ عراق پر امریکی حملے کے عروج کے دوران یہی علاقہ ملک کا سب سے محفوظ اور سخت سیکیورٹی والا مقام سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسی جگہ پر حملہ ہونا سیکیورٹی صورتحال میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>عینی شاہدین کے مطابق رات بھر بغداد کی فضاؤں میں امریکی جنگی طیاروں کی پروازیں بھی دیکھی گئیں، جس سے کشیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب کرد خودمختار علاقے کے دارالحکومت اربیل میں بھی ایک ڈرون حملے کی کوشش کی گئی، جہاں امریکی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہاں موجود فضائی دفاعی نظام نے ان ڈرونز کو بروقت تباہ کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502846</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 12:26:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/3012285338657ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/3012285338657ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
