<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 16 May 2026 04:28:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 16 May 2026 04:28:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اور اسرائیل کا حملے کے لیے 900 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹرز کا استعمال، اصفہان میں کیا تھا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502879/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے صوبہ اصفہان میں شدید بمباری کی اطلاعات کے بعد حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم جانی اور مالی نقصان کی صورتحال تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق صوبائی گورنر آفس کے سیکیورٹی عہدیدار اکبر صالحی نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ حملوں کا ہدف بعض فوجی مقامات تھے، تاہم انہوں نے ان مقامات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق فوری طور پر نقصانات کی نوعیت اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اصفہان کی آبادی تقریباً 23 لاکھ ہے جہاں ایران کی دفاعی صنعت کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں اہم جوہری تنصیبات بھی موجود ہیں، جن میں نطنز کا جوہری مرکز شامل ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں کئی اہم فوجی اڈے بھی قائم ہیں، جن میں بدر ایئر بیس، آٹھواں شکاری ایئر بیس اور چوتھا فضائیہ بیس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ بمباری کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے رات گئے ایران کے مختلف شہروں پر تازہ فضائی حملے کیے جس کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر حملے کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دارالحکومت تہران، کرج اور اصفہان کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اصفہان میں ہونے والے حملوں میں بھاری نوعیت کے بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکے سنے گئے اور متعدد عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اصفہان میں ہونے والے حملے میں اسلحے کے ایک اہم ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/BRICSinfo/status/2038792064037482755?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BRICSinfo/status/2038792064037482755?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر حملے کی ویڈیو شیئر کی تھی، جس میں ایران کے شہر اصفہان میں بڑے دھماکوں کے بعد آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502878/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے پیر کو نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا نے ایران کو نیوکلئیر ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے جو فوجی اور سفارتی اقدامات کیے ہیں، ان میں اب تک پیش رفت کے لیے ایران کو دس دن کا آخری موقع دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیوٹ نے کہا کہ اگر ایران نے یہ موقع ضائع کیا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر ممکنہ آپشن استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502850/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502850"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا ہر گزرتے دن ایران پر مزید مہلک حملے کر رہا ہے تاکہ ہتھیاروں کی تیاری کے منصوبے کو ناکام بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیرولائن لیوٹ نے مزید کہا کہ باقی رہ جانے والے ایرانی رہنما ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، لیکن اگر یہ موقع ضائع ہوا تو ایران کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے حملے صرف ایران کے نیوکلئیر اور عسکری ہدف پر مرکوز ہیں تاکہ خطے میں خطرات کو محدود کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس ترجمان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس صورتحال میں جنگی اخراجات کے لیے عرب ممالک سے مدد طلب کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، تاکہ آپریشن کی کامیابی یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے صوبہ اصفہان میں شدید بمباری کی اطلاعات کے بعد حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملوں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم جانی اور مالی نقصان کی صورتحال تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی خبر ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق صوبائی گورنر آفس کے سیکیورٹی عہدیدار اکبر صالحی نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ حملوں کا ہدف بعض فوجی مقامات تھے، تاہم انہوں نے ان مقامات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق فوری طور پر نقصانات کی نوعیت اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ اصفہان کی آبادی تقریباً 23 لاکھ ہے جہاں ایران کی دفاعی صنعت کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں اہم جوہری تنصیبات بھی موجود ہیں، جن میں نطنز کا جوہری مرکز شامل ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں کئی اہم فوجی اڈے بھی قائم ہیں، جن میں بدر ایئر بیس، آٹھواں شکاری ایئر بیس اور چوتھا فضائیہ بیس شامل ہیں۔</p>
<p>حالیہ بمباری کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے رات گئے ایران کے مختلف شہروں پر تازہ فضائی حملے کیے جس کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر حملے کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔</p>
<p>امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دارالحکومت تہران، کرج اور اصفہان کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اصفہان میں ہونے والے حملوں میں بھاری نوعیت کے بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکے سنے گئے اور متعدد عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی تھیں۔</p>
<p>امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اصفہان میں ہونے والے حملے میں اسلحے کے ایک اہم ڈپو کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/BRICSinfo/status/2038792064037482755?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BRICSinfo/status/2038792064037482755?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر حملے کی ویڈیو شیئر کی تھی، جس میں ایران کے شہر اصفہان میں بڑے دھماکوں کے بعد آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502878/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے پیر کو نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا نے ایران کو نیوکلئیر ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے جو فوجی اور سفارتی اقدامات کیے ہیں، ان میں اب تک پیش رفت کے لیے ایران کو دس دن کا آخری موقع دیا گیا ہے۔</p>
<p>لیوٹ نے کہا کہ اگر ایران نے یہ موقع ضائع کیا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر ممکنہ آپشن استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502850/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502850"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا ہر گزرتے دن ایران پر مزید مہلک حملے کر رہا ہے تاکہ ہتھیاروں کی تیاری کے منصوبے کو ناکام بنایا جاسکے۔</p>
<p>کیرولائن لیوٹ نے مزید کہا کہ باقی رہ جانے والے ایرانی رہنما ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، لیکن اگر یہ موقع ضائع ہوا تو ایران کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے حملے صرف ایران کے نیوکلئیر اور عسکری ہدف پر مرکوز ہیں تاکہ خطے میں خطرات کو محدود کیا جاسکے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس ترجمان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس صورتحال میں جنگی اخراجات کے لیے عرب ممالک سے مدد طلب کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، تاکہ آپریشن کی کامیابی یقینی بنائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502879</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 15:22:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/31151721c45eb40.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/31151721c45eb40.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
