<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 13:28:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 13:28:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں امریکا اور اسرائیل کو معلومات یا تصاویر فراہم کرنے پر پھانسی کی سزا کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502913/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی عدلیہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ کسی بھی فرد کا امریکی یا اسرائیلی حکومت کو معلومات، تصاویر یا ویڈیوز فراہم کرنا سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے اور اس پر موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کے عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ اکتوبر میں منظور ہونے والے جدید جاسوسی قانون کے تحت دشمن ممالک کو تصاویر یا ویڈیوز بھیجنا نہ صرف تمام اثاثوں کی ضبطی کا موجب بن سکتا ہے بلکہ جرم کے مرتکب کو پھانسی بھی دی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصغر جہانگیر نے کہا کہ جب کسی علاقے کی تصاویر لی جاتی ہیں تو دشمن کو یہ اطلاع مل جاتی ہے کہ ہدف کی شناخت درست ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے اقدام کو دشمن کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کے مترادف سمجھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502854/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502854"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن پر حساس مقامات کی ویڈیوز بنانے، حکومت مخالف مواد آن لائن شیئر کرنے یا دشمن کے ساتھ تعاون کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد سے یہ تنازع خطے بھر میں پھیل گیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ توانائی کی فراہمی متاثر ہونے سے عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502809/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالتی ترجمان کے مطابق ان مقدمات میں اب تک تقریباً 200 فردِ جرم عائد کی جا چکی ہیں اور حکام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ملزمان کے اثاثے ضبط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگی حالات میں قوانین پر عملدرآمد مزید سخت کر دیا گیا ہے اور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے یہ بھی خبردار کیا کہ غلط معلومات کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے والے افراد کو بھی قید کی سزائیں دی جا سکتی ہیں، جن کی مدت جنگی حالات کے باعث مزید بڑھا دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی عدلیہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ کسی بھی فرد کا امریکی یا اسرائیلی حکومت کو معلومات، تصاویر یا ویڈیوز فراہم کرنا سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے اور اس پر موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔</strong></p>
<p>عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کے عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ اکتوبر میں منظور ہونے والے جدید جاسوسی قانون کے تحت دشمن ممالک کو تصاویر یا ویڈیوز بھیجنا نہ صرف تمام اثاثوں کی ضبطی کا موجب بن سکتا ہے بلکہ جرم کے مرتکب کو پھانسی بھی دی جا سکتی ہے۔</p>
<p>اصغر جہانگیر نے کہا کہ جب کسی علاقے کی تصاویر لی جاتی ہیں تو دشمن کو یہ اطلاع مل جاتی ہے کہ ہدف کی شناخت درست ہوئی ہے۔</p>
<p>ایسے اقدام کو دشمن کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کے مترادف سمجھا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502854/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502854"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن پر حساس مقامات کی ویڈیوز بنانے، حکومت مخالف مواد آن لائن شیئر کرنے یا دشمن کے ساتھ تعاون کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد سے یہ تنازع خطے بھر میں پھیل گیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ توانائی کی فراہمی متاثر ہونے سے عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502809/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>عدالتی ترجمان کے مطابق ان مقدمات میں اب تک تقریباً 200 فردِ جرم عائد کی جا چکی ہیں اور حکام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ملزمان کے اثاثے ضبط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگی حالات میں قوانین پر عملدرآمد مزید سخت کر دیا گیا ہے اور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔</p>
<p>ترجمان نے یہ بھی خبردار کیا کہ غلط معلومات کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے والے افراد کو بھی قید کی سزائیں دی جا سکتی ہیں، جن کی مدت جنگی حالات کے باعث مزید بڑھا دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502913</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 14:44:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/3114414950748c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/3114414950748c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
