<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 12:04:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 12:04:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ نے مذاکرات میں الجھا کر ایران پر زمینی حملوں کا منصوبہ بنا لیا: امریکی میڈیا کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502983/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی آڑ میں الجھا کر ایران پر زمینی حملوں کا منصوبہ بنا لیا ہے جبکہ ہزاروں امریکی فوجی پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/national-security/2026/04/01/trump-commando-plan-seize-iran-uranium/"&gt;واشنگٹن پوسٹ&lt;/a&gt; کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے۔ پہلا آپریشن ایران کے اہم تیل بردار مرکز خارگ جزیرے پر قبضے کے لیے ہوگا جبکہ دوسرا آپریشن افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے مقصد سے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا پہلے ہی ساڑھے تین ہزار میرینز اور نیول اہلکار خطے میں تعینات کرچکا ہے، جبکہ آئندہ ہفتوں میں مزید ساڑھے تین ہزار فوجیوں کی آمد متوقع ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ مکمل حملے سے کم درجے کا ہے، تاہم اس کے دوران امریکی اہلکاروں کو ایرانی ڈرونز، میزائلوں، زمینی فائرنگ اور بارودی سرنگوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ پینٹاگون کا کام مختلف آپشنز تیار کرنا ہے تاکہ صدر کو فیصلے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کوئی حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی میڈیا کے مطابق خارگ جزیرے پر قبضہ ایران کے لیے شدید معاشی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے ایران کے فوجی آپریشنز کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502979/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر قدم رکھنا ایک نہایت خطرناک اور پیچیدہ مشن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی آپریشن سے نہ تو ایران کی حکومت گرے گی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کھلنے کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر امریکا نے زمینی کارروائی کی تو یہ جنگ جلد ختم ہونے کے بجائے طویل ہوسکتی ہے اور اسے ہفتوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502982/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502982"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن بظاہر مذاکرات کی بات کرتا ہے لیکن خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج امریکی فوجیوں کے انتظار میں ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران کی عسکری تیاری مکمل ہے، میزائل نظام فعال ہے اور دشمن کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا بیان براہ راست واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے ردعمل میں دیا گیا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی آڑ میں الجھا کر ایران پر زمینی حملوں کا منصوبہ بنا لیا ہے جبکہ ہزاروں امریکی فوجی پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/national-security/2026/04/01/trump-commando-plan-seize-iran-uranium/">واشنگٹن پوسٹ</a> کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے۔ پہلا آپریشن ایران کے اہم تیل بردار مرکز خارگ جزیرے پر قبضے کے لیے ہوگا جبکہ دوسرا آپریشن افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے مقصد سے کیا جائے گا۔</p>
<p>رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا پہلے ہی ساڑھے تین ہزار میرینز اور نیول اہلکار خطے میں تعینات کرچکا ہے، جبکہ آئندہ ہفتوں میں مزید ساڑھے تین ہزار فوجیوں کی آمد متوقع ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھ جائے گی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ مکمل حملے سے کم درجے کا ہے، تاہم اس کے دوران امریکی اہلکاروں کو ایرانی ڈرونز، میزائلوں، زمینی فائرنگ اور بارودی سرنگوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ پینٹاگون کا کام مختلف آپشنز تیار کرنا ہے تاکہ صدر کو فیصلے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کوئی حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔</p>
<p>امریکی میڈیا کے مطابق خارگ جزیرے پر قبضہ ایران کے لیے شدید معاشی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے ایران کے فوجی آپریشنز کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502979/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر قدم رکھنا ایک نہایت خطرناک اور پیچیدہ مشن ہوگا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی آپریشن سے نہ تو ایران کی حکومت گرے گی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کھلنے کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔</p>
<p>مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر امریکا نے زمینی کارروائی کی تو یہ جنگ جلد ختم ہونے کے بجائے طویل ہوسکتی ہے اور اسے ہفتوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502982/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502982"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن بظاہر مذاکرات کی بات کرتا ہے لیکن خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج امریکی فوجیوں کے انتظار میں ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران کی عسکری تیاری مکمل ہے، میزائل نظام فعال ہے اور دشمن کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا بیان براہ راست واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے ردعمل میں دیا گیا یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502983</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 09:59:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/020854137b94ba7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/020854137b94ba7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
