<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Crime</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 17:39:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 15 Jun 2026 17:39:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعلیٰ کی بے بسی، زمینوں پر قبضے میں ملوث افسر سندھ پولیس کے حساس عہدے پر تعینات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502987/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ میں ایک حیران کن پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں زمینوں پر قبضوں میں ملوث قرار دیے گئے ایک پولیس افسر کو دوبارہ ایک حساس یونٹ میں تعینات کر دیا گیا، ماضی میں خود وزیراعلیٰ سندھ اس افسر کے خلاف کھل کر بیان دے چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق سندھ پولیس کے متنازع افسر اور سابق ایس ایس پی کورنگی کامران خان کو ایک بار پھر اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ انہیں اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) جیسے حساس شعبے میں تعینات کیا گیا ہے، جس کے بعد اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق مذکورہ افسر کو ماضی میں زمینوں پر قبضوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال شارع فیصل پر ایک ماڈل تھانے کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نہ صرف ان کا نام لیا بلکہ انہیں قبضہ گروپ کا حصہ بھی قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ایسے متنازع افسران کو صوبے میں کسی صورت تعینات نہیں کیا جائے گا، تاہم حالیہ نوٹیفکیشن میں اسی افسر کی حساس یونٹ میں تعیناتی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498699/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ انتظامی معاملات میں اعلیٰ سطح کے فیصلوں اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد موجود ہے اور بظاہر وزیراعلیٰ کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی سندھ کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کے بعد صوبے میں گڈ گورننس اور احتساب کے دعووں پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ عوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی افسر پر سنگین نوعیت کے الزامات ہوں اور اسے خود صوبے کی اعلیٰ قیادت متنازع قرار دے چکی ہو تو ایسے میں اسے ایک حساس یونٹ میں تعینات کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، جن کے جوابات تاحال سامنے نہیں آ سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ میں ایک حیران کن پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں زمینوں پر قبضوں میں ملوث قرار دیے گئے ایک پولیس افسر کو دوبارہ ایک حساس یونٹ میں تعینات کر دیا گیا، ماضی میں خود وزیراعلیٰ سندھ اس افسر کے خلاف کھل کر بیان دے چکے ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق سندھ پولیس کے متنازع افسر اور سابق ایس ایس پی کورنگی کامران خان کو ایک بار پھر اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ انہیں اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) جیسے حساس شعبے میں تعینات کیا گیا ہے، جس کے بعد اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق مذکورہ افسر کو ماضی میں زمینوں پر قبضوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال شارع فیصل پر ایک ماڈل تھانے کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نہ صرف ان کا نام لیا بلکہ انہیں قبضہ گروپ کا حصہ بھی قرار دیا تھا۔</p>
<p>اس موقع پر وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ایسے متنازع افسران کو صوبے میں کسی صورت تعینات نہیں کیا جائے گا، تاہم حالیہ نوٹیفکیشن میں اسی افسر کی حساس یونٹ میں تعیناتی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498699/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ انتظامی معاملات میں اعلیٰ سطح کے فیصلوں اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد موجود ہے اور بظاہر وزیراعلیٰ کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔</p>
<p>آئی جی سندھ کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کے بعد صوبے میں گڈ گورننس اور احتساب کے دعووں پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ عوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی افسر پر سنگین نوعیت کے الزامات ہوں اور اسے خود صوبے کی اعلیٰ قیادت متنازع قرار دے چکی ہو تو ایسے میں اسے ایک حساس یونٹ میں تعینات کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، جن کے جوابات تاحال سامنے نہیں آ سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502987</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 09:21:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/020917545d8144a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/020917545d8144a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
