<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 24 May 2026 10:39:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 24 May 2026 10:39:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی قرضے: ہر پاکستانی شہری 3 لاکھ 25 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہو گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503016/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان پر مجموعی قرض 81 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کے بعد ہر پاکستانی شہری اوسطاً 3 لاکھ 25 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آئی ایم ایف سمیت بیرونی اور مقامی قرضوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پر مجموعی قرض کا حجم 81 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اس میں سے 26 ہزار ارب روپے بیرونی قرض جبکہ 55 ہزار ارب روپے مقامی قرضوں پر مشتمل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30337551'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337551"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ملک کی 25 کروڑ آبادی کے حساب سے فی کس قرض کا بوجھ تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار روپے بنتا ہے، جو ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں قرضوں کے بڑھتے حجم اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ کمیٹی نے متعلقہ حکام سے آئندہ حکمت عملی اور قرضوں کے مؤثر انتظام سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان پر مجموعی قرض 81 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کے بعد ہر پاکستانی شہری اوسطاً 3 لاکھ 25 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آئی ایم ایف سمیت بیرونی اور مقامی قرضوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پر مجموعی قرض کا حجم 81 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق اس میں سے 26 ہزار ارب روپے بیرونی قرض جبکہ 55 ہزار ارب روپے مقامی قرضوں پر مشتمل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30337551'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337551"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ملک کی 25 کروڑ آبادی کے حساب سے فی کس قرض کا بوجھ تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار روپے بنتا ہے، جو ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اجلاس میں قرضوں کے بڑھتے حجم اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ کمیٹی نے متعلقہ حکام سے آئندہ حکمت عملی اور قرضوں کے مؤثر انتظام سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503016</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 15:05:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/021502068ce8919.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/021502068ce8919.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
