<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 12:51:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 04 Apr 2026 12:51:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب میں امریکی ایمبیسی پر ایرانی حملہ، نقصان بہت زیادہ ہوا: امریکی اخبار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503075/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی جانب سے 3 مارچ کو سعودیہ عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم امریکی ایمبیسی پر کیے گئے ڈرون حملے سے ہونے والا نقصان سرکاری طور پر ظاہر کیے گئے تخمینے سے کہیں زیادہ تھا، جس کا انکشاف امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق رات کے وقت کیے گئے اس حملے میں ایرانی ڈرونز نے سفارت خانے کے محفوظ حصے کو نشانہ بنایا تھا، جہاں دن کے اوقات میں سینکڑوں افراد کام میں مصروف ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ اور سابق امریکی حکام اور معاملے سے آگاہ ذرائع کے مطابق حملے میں عمارت کی تین منزلیں شدید متاثر ہوئی تھیں، جن میں سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کا ایک اسٹیشن بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502986/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502986"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ تقریباً آدھے دن تک بھڑکتی رہی، جس سے کمپاؤنڈ کے بعض حصوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا تھا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے خبردار کیا کہ اگر یہ حملہ دفتری اوقات میں ہوتا تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حملے کے وقت سعودی وزارتِ دفاع نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ واقعے میں صرف محدود نوعیت کی آگ اور معمولی نقصان ہوا ہے، تاہم تازہ رپورٹ اس دعوے کے برعکس زیادہ سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی جانب سے 3 مارچ کو سعودیہ عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم امریکی ایمبیسی پر کیے گئے ڈرون حملے سے ہونے والا نقصان سرکاری طور پر ظاہر کیے گئے تخمینے سے کہیں زیادہ تھا، جس کا انکشاف امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق رات کے وقت کیے گئے اس حملے میں ایرانی ڈرونز نے سفارت خانے کے محفوظ حصے کو نشانہ بنایا تھا، جہاں دن کے اوقات میں سینکڑوں افراد کام میں مصروف ہوتے ہیں۔</p>
<p>موجودہ اور سابق امریکی حکام اور معاملے سے آگاہ ذرائع کے مطابق حملے میں عمارت کی تین منزلیں شدید متاثر ہوئی تھیں، جن میں سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کا ایک اسٹیشن بھی شامل تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502986/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502986"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ تقریباً آدھے دن تک بھڑکتی رہی، جس سے کمپاؤنڈ کے بعض حصوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا تھا</p>
<p>حکام نے خبردار کیا کہ اگر یہ حملہ دفتری اوقات میں ہوتا تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو سکتا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب حملے کے وقت سعودی وزارتِ دفاع نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ واقعے میں صرف محدود نوعیت کی آگ اور معمولی نقصان ہوا ہے، تاہم تازہ رپورٹ اس دعوے کے برعکس زیادہ سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503075</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 09:49:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/040941290e42b32.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/040941290e42b32.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
