<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 02:43:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 02:43:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی حکام نے قاسم سلیمانی کی بھانجی کو بیٹی سمیت گرفتار کر لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503101/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی حکام نے ایران کے مرحوم جنرل قاسم سلیمانی کی بھانجی اور ان کی بیٹی کو گرفتار کرتے ہوئے ان کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا، ان کی گرفتاری امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفارسمینٹ کی تحویل میں ہونے کے بعد سامنے آئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/us-agents-arrest-niece-irans-qassem-soleimani-after-rubio-revoked-green-card-2026-04-04/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق امریکی وفاقی حکام نے سابق ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی شہید کی بھانجی حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ اقدام اس کے بعد کیا گیا جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان کا قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ) کا درجہ منسوخ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق، حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی اب امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی حراست میں ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرین کارڈ کی منسوخی اور گرفتاری امریکی قوانین کے مطابق کی گئی کارروائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ’ایکس‘ پر پوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کا قانونی رہائشی اسٹیٹس منسوخ کر دیا ہے اور دونوں کو ملک بدر کرنے کی کارروائی جاری ہے۔&lt;br&gt;مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ حمیدہ سلیمانی ایرانی حکومت کی حامی ہیں جنہوں نے امریکیوں پر حملوں کا جشن منایا اور امریکا کو ’شیطان‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے ملک کو ایسے غیر ملکی شہریوں کا گھر نہیں بننے دے گی جو امریکا مخالف حکومتوں کی حمایت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SecRubio/status/2040454251260809340'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SecRubio/status/2040454251260809340"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے جنرل قاسم سلیمانی کو جنوری 2020 کی صبح بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکی فضائی حملے میں شہید کیا گیا تھا۔ اسی حملے میں عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/04203750ac7e4ef.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/04203750ac7e4ef.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مرحوم جنرل قاسم سلیمانی ایران کی اسلامی انقلاب گارڈز کور پاسدارانِ انقلاب کی بیرونی شاخ، قدس فورس کے سربراہ تھے۔ وہ ایران اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ بڑھانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے تھے اور عراق و شام میں لڑائیوں میں اہم قائد کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی شہرت ایران کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی اداے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2020/1/3/who-was-qassem-soleimani-irans-irgcs-quds-force-leader"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی 1998 میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ بنے۔ ابتدا میں انہوں نے اپنا پروفائل کم رکھا اور زیادہ نظر نہیں آنا چاہتے تھے۔ انھوں نے لبنان کی حزب اللہ، شام کے الاسد اور عراق کی شیعہ ملیشیا گروپوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے۔ بعد میں وہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر شیعہ رہنماؤں کے ساتھ منظرِعام پرآئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاسم سلیمانی جنوب مشرقی ایران کے صوبہ کرمان کے غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ 13 سال کی عمر سے انہوں نے اپنے خاندان کی مدد کے لیے کام شروع کیا اور فزیکل ٹریننگ اور مذہبی مجالس میں حصہ لیا۔ 1979 کی ایرانی انقلاب کے دوران انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور ایران-عراق جنگ میں سرحدی مشنز کی قیادت کر کے قومی ہیرو بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2005 کے بعد سلیمانی کا اثر عراق کی سیاست میں بھی بڑھ گیا، خاص طور پر سابق وزرائے اعظم ابراہیم الجعفری اور نوری المالکی کے دور میں۔ شام کی خانہ جنگی میں انہوں نے اپنے عراقی ملیشیا گروپوں کو الاسد حکومت کی مدد کے لیے بھیجا۔ عراق میں داعش کے خلاف لڑائی میں بھی وہ اہم کردار ادا کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی حکام نے ایران کے مرحوم جنرل قاسم سلیمانی کی بھانجی اور ان کی بیٹی کو گرفتار کرتے ہوئے ان کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا، ان کی گرفتاری امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفارسمینٹ کی تحویل میں ہونے کے بعد سامنے آئی۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/us-agents-arrest-niece-irans-qassem-soleimani-after-rubio-revoked-green-card-2026-04-04/">رائٹرز</a> کے مطابق امریکی وفاقی حکام نے سابق ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی شہید کی بھانجی حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ اقدام اس کے بعد کیا گیا جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان کا قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ) کا درجہ منسوخ کر دیا۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق، حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی اب امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی حراست میں ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرین کارڈ کی منسوخی اور گرفتاری امریکی قوانین کے مطابق کی گئی کارروائی ہے۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ’ایکس‘ پر پوسٹ میں تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کا قانونی رہائشی اسٹیٹس منسوخ کر دیا ہے اور دونوں کو ملک بدر کرنے کی کارروائی جاری ہے۔<br>مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ حمیدہ سلیمانی ایرانی حکومت کی حامی ہیں جنہوں نے امریکیوں پر حملوں کا جشن منایا اور امریکا کو ’شیطان‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے ملک کو ایسے غیر ملکی شہریوں کا گھر نہیں بننے دے گی جو امریکا مخالف حکومتوں کی حمایت کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SecRubio/status/2040454251260809340'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SecRubio/status/2040454251260809340"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے جنرل قاسم سلیمانی کو جنوری 2020 کی صبح بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکی فضائی حملے میں شہید کیا گیا تھا۔ اسی حملے میں عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی مارے گئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/04203750ac7e4ef.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/04203750ac7e4ef.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مرحوم جنرل قاسم سلیمانی ایران کی اسلامی انقلاب گارڈز کور پاسدارانِ انقلاب کی بیرونی شاخ، قدس فورس کے سربراہ تھے۔ وہ ایران اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ بڑھانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے تھے اور عراق و شام میں لڑائیوں میں اہم قائد کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی شہرت ایران کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ تھی۔</p>
<p>قطری نشریاتی اداے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2020/1/3/who-was-qassem-soleimani-irans-irgcs-quds-force-leader">الجزیرہ</a> کی رپورٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی 1998 میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ بنے۔ ابتدا میں انہوں نے اپنا پروفائل کم رکھا اور زیادہ نظر نہیں آنا چاہتے تھے۔ انھوں نے لبنان کی حزب اللہ، شام کے الاسد اور عراق کی شیعہ ملیشیا گروپوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے۔ بعد میں وہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر شیعہ رہنماؤں کے ساتھ منظرِعام پرآئے۔</p>
<p>قاسم سلیمانی جنوب مشرقی ایران کے صوبہ کرمان کے غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ 13 سال کی عمر سے انہوں نے اپنے خاندان کی مدد کے لیے کام شروع کیا اور فزیکل ٹریننگ اور مذہبی مجالس میں حصہ لیا۔ 1979 کی ایرانی انقلاب کے دوران انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور ایران-عراق جنگ میں سرحدی مشنز کی قیادت کر کے قومی ہیرو بنے۔</p>
<p>2005 کے بعد سلیمانی کا اثر عراق کی سیاست میں بھی بڑھ گیا، خاص طور پر سابق وزرائے اعظم ابراہیم الجعفری اور نوری المالکی کے دور میں۔ شام کی خانہ جنگی میں انہوں نے اپنے عراقی ملیشیا گروپوں کو الاسد حکومت کی مدد کے لیے بھیجا۔ عراق میں داعش کے خلاف لڑائی میں بھی وہ اہم کردار ادا کرتے رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503101</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 22:40:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/042041119b1e0a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/042041119b1e0a1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
