<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 09:14:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 09:14:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے عراق کو آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503105/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے عراق کو آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں سے باضابطہ طور پر مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے عراقی عوام سے امریکا کے خلاف کھل کر مؤقف اپنانے اور اپنی سرزمین سے امریکی فوجی موجودگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے عراقی عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ اس جنگ میں ایران تنہا نہیں بلکہ عراقی عوام کی حمایت ان کے ساتھ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم ذوالفقاری نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز پر عائد پابندیاں عراق پر لاگو نہیں ہوں گی اور اس کے بحری جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کی مکمل اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عراقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی اڈے ختم کرے اور امریکا کی جانب سے عراقی وسائل کے مبینہ استحصال کو روکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2040467252806295790'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2040467252806295790"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عراق کے عوام ایک ہی مورچے پر کھڑے ہیں اور امریکا و اس کے اتحادیوں کے خلاف اس تاریخی جنگ میں مل کر شکست دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عراق کے مختلف شہروں میں ایران کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔ ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف بغداد کے تحریر اسکوائر میں جمع ہو کر احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2040430763737301337'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2040430763737301337"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق فروری 2026 میں عراق کی کُل خام پیداوار تقریباً 4.19 ملین بیرل یومیہ (بی پی ڈی) یعنی کُل عالمی پیداوار کا تقریباً 4 فیصد تھی۔ یہ تقریباً 8 لاکھ بی پی ڈی تک گر چکی ہے، کیوں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل برآمد نہیں جاسکا تھا جس کے نتیجے میں اسٹوریج ٹینک بھر گئے تھے۔&lt;br&gt;قطری نشریاتی ادارے [الجزیرہ](https://مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عراق کو تیل کی برآمد میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بغیر اس کے پاس متبادل راستے نہ ہونے کے برابر ہیں۔) کے مطابق عراق کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی برآمد میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر کینتھ کیٹزمین کا کہنا ہے کہ عراق اس جنگ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور جنوبی علاقوں سے تیل کی ترسیل کے لیے اس کے پاس آبنائے ہرمز کے علاوہ بہت کم متبادل موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے عراق کو آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں سے استثنیٰ دینا امریکا، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے کیوں کہ اس راستے سے جتنا زیادہ تیل برآمد ہوگا، اتنا ہی عالمی منڈی کے لیے بہتر ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے عراق کو آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں سے باضابطہ طور پر مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے عراقی عوام سے امریکا کے خلاف کھل کر مؤقف اپنانے اور اپنی سرزمین سے امریکی فوجی موجودگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے عراقی عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ اس جنگ میں ایران تنہا نہیں بلکہ عراقی عوام کی حمایت ان کے ساتھ ہے۔</p>
<p>ابراہیم ذوالفقاری نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز پر عائد پابندیاں عراق پر لاگو نہیں ہوں گی اور اس کے بحری جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کی مکمل اجازت ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے عراقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی اڈے ختم کرے اور امریکا کی جانب سے عراقی وسائل کے مبینہ استحصال کو روکے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2040467252806295790'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2040467252806295790"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عراق کے عوام ایک ہی مورچے پر کھڑے ہیں اور امریکا و اس کے اتحادیوں کے خلاف اس تاریخی جنگ میں مل کر شکست دیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب عراق کے مختلف شہروں میں ایران کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں۔ ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف بغداد کے تحریر اسکوائر میں جمع ہو کر احتجاج کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2040430763737301337'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2040430763737301337"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق فروری 2026 میں عراق کی کُل خام پیداوار تقریباً 4.19 ملین بیرل یومیہ (بی پی ڈی) یعنی کُل عالمی پیداوار کا تقریباً 4 فیصد تھی۔ یہ تقریباً 8 لاکھ بی پی ڈی تک گر چکی ہے، کیوں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل برآمد نہیں جاسکا تھا جس کے نتیجے میں اسٹوریج ٹینک بھر گئے تھے۔<br>قطری نشریاتی ادارے [الجزیرہ](https://مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عراق کو تیل کی برآمد میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بغیر اس کے پاس متبادل راستے نہ ہونے کے برابر ہیں۔) کے مطابق عراق کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی برآمد میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>الجزیرہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر کینتھ کیٹزمین کا کہنا ہے کہ عراق اس جنگ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور جنوبی علاقوں سے تیل کی ترسیل کے لیے اس کے پاس آبنائے ہرمز کے علاوہ بہت کم متبادل موجود ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے عراق کو آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں سے استثنیٰ دینا امریکا، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے کیوں کہ اس راستے سے جتنا زیادہ تیل برآمد ہوگا، اتنا ہی عالمی منڈی کے لیے بہتر ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503105</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 00:00:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/042356385c395d6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/042356385c395d6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
