<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 22:39:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 22:39:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب امریکا نے بوسنیا سے اپنا چیونٹیاں اور پودے کھا کر زندہ رہنے والا پائلٹ نکالا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503125/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے ایک دور دراز علاقے میں پھنسے ایک امریکی فضائی اہلکار کی حالیہ ریسکیو کارروائی پیچیدہ فوجی مشنز کی ایک اور مثال ہے، جن کا مقصد زیرِ قبضہ علاقوں میں پھنسے فوجیوں کو تلاش کرکے محفوظ نکالنا ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ہی ایک مشہور کارروائی 1995 میں بوسنیا میں پیش آئی تھی جب امریکی پائلٹ کیپٹن اسکاٹ او گریڈی کو ریسکیو کیا گیا تھا جو زندہ رہنے کے لیے چیونٹوں اور پودے کھانے پر مجبور تھا۔ ان کا ایف-16 طیارہ سرب افواج نے مار گرایا تھا، جس کے بعد وہ چھ دن تک جنگلاتی پہاڑی علاقوں میں چھپے رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمین پر پیراشوٹ کے ذریعے اترتے وقت ہی گریڈی نے دیکھا کہ مقامی فورسز تیزی سے ان کی جانب بڑھ رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2015 میں سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے فوراً اپنا پیراشوٹ اتارا، ضروری سامان اٹھایا اور جنگل کی طرف دوڑ لگائی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/05145829d483dc5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/05145829d483dc5.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ چند ہی لمحوں میں لوگ میرے قریب سے گزر رہے تھے۔ پہلے دو افراد ایک آدمی اور ایک بچہ تھا، جو مجھ سے صرف چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریڈی رات کے وقت حرکت کرتے اور کبھی کبھار اپنے ریڈیو کے ذریعے مدد کے لیے سگنل دینے کی کوشش کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سخت موسمی حالات، پیاس اور بھوک کا مقابلہ کیا تھا۔ انہوں نے چیونٹیاں اور پودے کھائے جبکہ ایمرجنسی پیک میں موجود پانی چوتھے دن ختم ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/051456577664b0a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/051456577664b0a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چھٹی رات امریکی پائلٹ اپنے اسکواڈرن کے ایک طیارے سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوا، جس کا کال سائن ”باشر فائیو-ٹو“ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد چار میرین ہیلی کاپٹرز دشمن کے علاقے میں 80 میل سے زیادہ اندر داخل ہوئے، جبکہ تقریباً 40 دیگر طیارے قریب ہی نگرانی کر رہے تھے تاکہ اگر سرب افواج کو ریسکیو کی خبر ہو جائے تو فوری ردعمل دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/051442106af5a8c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/051442106af5a8c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگلی صبح ریسکیو ٹیم نے گریڈی کو تلاش کیا، جو جنگل سے نکل کر ایک کھلے مقام کی طرف دوڑ رہا تھا اور ممکنہ دشمن کے حملے سے بچاؤ کے لیے ان کے ہاتھ میں 9 ایم ایم پستول موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید سردی، بھوک اور پانی کی کمی کا شکار گریڈی کو سی ایچ- 53 اسی سپر اسٹالین ہیلی کاپٹر میں سوار کرایا گیا تھا۔ ہیلی کاپٹر کے فضا میں بلند ہوتے ہی پائلٹ پر فائرنگ بھی کی گئی تھی، تاہم وہ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے ایک دور دراز علاقے میں پھنسے ایک امریکی فضائی اہلکار کی حالیہ ریسکیو کارروائی پیچیدہ فوجی مشنز کی ایک اور مثال ہے، جن کا مقصد زیرِ قبضہ علاقوں میں پھنسے فوجیوں کو تلاش کرکے محفوظ نکالنا ہوتا ہے۔</strong></p>
<p>ایسی ہی ایک مشہور کارروائی 1995 میں بوسنیا میں پیش آئی تھی جب امریکی پائلٹ کیپٹن اسکاٹ او گریڈی کو ریسکیو کیا گیا تھا جو زندہ رہنے کے لیے چیونٹوں اور پودے کھانے پر مجبور تھا۔ ان کا ایف-16 طیارہ سرب افواج نے مار گرایا تھا، جس کے بعد وہ چھ دن تک جنگلاتی پہاڑی علاقوں میں چھپے رہا۔</p>
<p>زمین پر پیراشوٹ کے ذریعے اترتے وقت ہی گریڈی نے دیکھا کہ مقامی فورسز تیزی سے ان کی جانب بڑھ رہی تھیں۔</p>
<p>2015 میں سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے فوراً اپنا پیراشوٹ اتارا، ضروری سامان اٹھایا اور جنگل کی طرف دوڑ لگائی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/05145829d483dc5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/05145829d483dc5.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ چند ہی لمحوں میں لوگ میرے قریب سے گزر رہے تھے۔ پہلے دو افراد ایک آدمی اور ایک بچہ تھا، جو مجھ سے صرف چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے تھے۔</p>
<p>گریڈی رات کے وقت حرکت کرتے اور کبھی کبھار اپنے ریڈیو کے ذریعے مدد کے لیے سگنل دینے کی کوشش کرتے۔</p>
<p>انہوں نے سخت موسمی حالات، پیاس اور بھوک کا مقابلہ کیا تھا۔ انہوں نے چیونٹیاں اور پودے کھائے جبکہ ایمرجنسی پیک میں موجود پانی چوتھے دن ختم ہو گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/051456577664b0a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/051456577664b0a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>چھٹی رات امریکی پائلٹ اپنے اسکواڈرن کے ایک طیارے سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوا، جس کا کال سائن ”باشر فائیو-ٹو“ تھا۔</p>
<p>اس کے بعد چار میرین ہیلی کاپٹرز دشمن کے علاقے میں 80 میل سے زیادہ اندر داخل ہوئے، جبکہ تقریباً 40 دیگر طیارے قریب ہی نگرانی کر رہے تھے تاکہ اگر سرب افواج کو ریسکیو کی خبر ہو جائے تو فوری ردعمل دیا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/051442106af5a8c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/051442106af5a8c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اگلی صبح ریسکیو ٹیم نے گریڈی کو تلاش کیا، جو جنگل سے نکل کر ایک کھلے مقام کی طرف دوڑ رہا تھا اور ممکنہ دشمن کے حملے سے بچاؤ کے لیے ان کے ہاتھ میں 9 ایم ایم پستول موجود تھا۔</p>
<p>شدید سردی، بھوک اور پانی کی کمی کا شکار گریڈی کو سی ایچ- 53 اسی سپر اسٹالین ہیلی کاپٹر میں سوار کرایا گیا تھا۔ ہیلی کاپٹر کے فضا میں بلند ہوتے ہی پائلٹ پر فائرنگ بھی کی گئی تھی، تاہم وہ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503125</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 15:06:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/05150609ade3279.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/05150609ade3279.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
