<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 14:50:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Apr 2026 14:50:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آم فریج میں رکھتے ہیں؟ جانیے پھلوں کے بادشاہ کو کاغذ میں محفوظ رکھنے کی سائنسی وجوہات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503140/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی آموں کی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، لیکن اس کی نزاکت اس کے ذائقے جتنی ہی اہم ہے۔ اکثر لوگ آموں کو ریفریجریٹر میں رکھنے یا پلاسٹک کے تھیلوں میں بند کرنے کی غلطی کرتے ہیں، جس سے ان کا ذائقہ اور ساخت متاثر ہوتی ہے۔ ماہرینِ خوراک کے مطابق، آموں کو پکانے اور محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ کاغذ کے تھیلوں کا استعمال ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آم ایک ایسا پھل ہے جو ٹوٹنے کے بعد بھی پکنے کا عمل جاری رکھتا ہے۔ اس عمل کے دوران آم سے ’ایتھیلین گیس‘ خارج ہوتی ہے۔ جب ہم آم کو کاغذ کے تھیلے میں رکھتے ہیں، تو یہ گیس تھیلے کے اندر ہی قید ہو جاتی ہے لیکن مکمل طور پر بند نہیں ہوتی۔ یہ گیس آم کو قدرتی طور پر، یکساں اور تیزی سے پکنے میں مدد دیتی ہے، جس سے اس کی مٹھاس میں اضافہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30381712'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381712"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پلاسٹک کے برعکس، کاغذ کا مواد مسام دار ہوتا ہے۔ یہ خصوصیت ہوا کی سرکولیشن کو برقرار رکھتی ہے۔ اگر آموں کو ہوا نہ ملے، تو وہ اندرونی حرارت کی وجہ سے بہت جلد گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کاغذ کے تھیلے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پھل کو سانس لینے کا موقع ملے اور وہ حبس کا شکار نہ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/06100902e90f646.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/06100902e90f646.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گرمیوں میں نمی یا موئسچر پھلوں کے جلد خراب ہونے کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے۔ کاغذ کے تھیلے آم کی سطح پر آنے والی اضافی نمی کو جذب کر لیتے ہیں۔ اس سے پھپھوندی لگنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور آم کی جلد تازہ اور صاف رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30383693'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30383693"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں آموں کو مصنوعی طریقوں سے پکانے کے لیے اکثر کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے جو صحت کے لیے مضر ہو سکتے ہیں۔ گھر میں کاغذ کے تھیلے کا استعمال ایک مکمل طور پر قدرتی اور محفوظ طریقہ ہے، جو کسی بھی قسم کے بیرونی کیمیکل کے بغیر پھل کو کھانے کے قابل بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آموں کو کاغذ کے تھیلے میں رکھنا محض ایک روایتی طریقہ نہیں بلکہ ایک سائنسی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف آموں کو جلد پکنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ان کے اصل ذائقے، خوشبو اور غذائیت کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ لہٰذا، اس موسمِ گرما میں اپنے آموں کو پلاسٹک یا فریج کی ٹھنڈک کے بجائے کاغذ کے تھیلوں کی قدرتی پناہ میں رکھیں تاکہ آپ اس کے بھرپور ذائقے سے لطف اندوز ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی آموں کی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، لیکن اس کی نزاکت اس کے ذائقے جتنی ہی اہم ہے۔ اکثر لوگ آموں کو ریفریجریٹر میں رکھنے یا پلاسٹک کے تھیلوں میں بند کرنے کی غلطی کرتے ہیں، جس سے ان کا ذائقہ اور ساخت متاثر ہوتی ہے۔ ماہرینِ خوراک کے مطابق، آموں کو پکانے اور محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ کاغذ کے تھیلوں کا استعمال ہے۔</strong></p>
<p>آم ایک ایسا پھل ہے جو ٹوٹنے کے بعد بھی پکنے کا عمل جاری رکھتا ہے۔ اس عمل کے دوران آم سے ’ایتھیلین گیس‘ خارج ہوتی ہے۔ جب ہم آم کو کاغذ کے تھیلے میں رکھتے ہیں، تو یہ گیس تھیلے کے اندر ہی قید ہو جاتی ہے لیکن مکمل طور پر بند نہیں ہوتی۔ یہ گیس آم کو قدرتی طور پر، یکساں اور تیزی سے پکنے میں مدد دیتی ہے، جس سے اس کی مٹھاس میں اضافہ ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30381712'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381712"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پلاسٹک کے برعکس، کاغذ کا مواد مسام دار ہوتا ہے۔ یہ خصوصیت ہوا کی سرکولیشن کو برقرار رکھتی ہے۔ اگر آموں کو ہوا نہ ملے، تو وہ اندرونی حرارت کی وجہ سے بہت جلد گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کاغذ کے تھیلے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پھل کو سانس لینے کا موقع ملے اور وہ حبس کا شکار نہ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/06100902e90f646.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/06100902e90f646.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>گرمیوں میں نمی یا موئسچر پھلوں کے جلد خراب ہونے کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے۔ کاغذ کے تھیلے آم کی سطح پر آنے والی اضافی نمی کو جذب کر لیتے ہیں۔ اس سے پھپھوندی لگنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور آم کی جلد تازہ اور صاف رہتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30383693'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30383693"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مارکیٹ میں آموں کو مصنوعی طریقوں سے پکانے کے لیے اکثر کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے جو صحت کے لیے مضر ہو سکتے ہیں۔ گھر میں کاغذ کے تھیلے کا استعمال ایک مکمل طور پر قدرتی اور محفوظ طریقہ ہے، جو کسی بھی قسم کے بیرونی کیمیکل کے بغیر پھل کو کھانے کے قابل بناتا ہے۔</p>
<p>آموں کو کاغذ کے تھیلے میں رکھنا محض ایک روایتی طریقہ نہیں بلکہ ایک سائنسی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف آموں کو جلد پکنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ان کے اصل ذائقے، خوشبو اور غذائیت کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ لہٰذا، اس موسمِ گرما میں اپنے آموں کو پلاسٹک یا فریج کی ٹھنڈک کے بجائے کاغذ کے تھیلوں کی قدرتی پناہ میں رکھیں تاکہ آپ اس کے بھرپور ذائقے سے لطف اندوز ہو سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503140</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 10:09:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/060947008c047cf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/060947008c047cf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
