<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 17:45:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Apr 2026 17:45:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی پالیسیوں کی ناکامی: کیا ٹرمپ نے ایشیا میں اثر و رسوخ کھو دیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503152/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ کی پالیسیاں ایشیا میں امریکی تسلط کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ایران بحران سے نکلنے میں پاکستان، نیپال جیسی معیشتیں چین کی مدد سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/authors/AS4aIU7RcB4/mihir-sharma"&gt;بلومبرگ&lt;/a&gt; کے کالم نگارمہر شرما کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران پر جاری امریکی و اسرائیلی حملوں اور اس کے بعد کے ردعمل کے بعد، ایشیا کے ترقی پذیر ممالک میں واضح فرق سامنے آ رہا ہے۔ وہ ممالک جو چین کی سپلائی چین اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں، بحران میں زیادہ مستحکم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ وہ ممالک جو امریکا کی غیر یقینی پالیسیوں پر بھروسہ کرتے آئے ہیں، مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ وہ ممالک جو چین کی سپلائی چین اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں، بحران میں زیادہ مستحکم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ جو ممالک امریکا کی غیر یقینی پالیسیوں پر بھروسہ کرتے آئے ہیں، وہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان کی مثال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ چین پر انحصار بحران میں استحکام فراہم کر سکتا ہے۔ 130 ارب ڈالر کے بیرونی قرض اور مسلسل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باوجود، پاکستان نے حیران کن اقتصادی استحکام دکھایا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502877/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502877"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس کی بڑی وجہ چین سے درآمد شدہ سولر پینلز ہیں، جنہیں 2024 سے سالانہ تقریباً 17 گیگاواٹ کی تعداد میں انسٹال کیا گیا ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی گھروں نے اپنی بجلی کی ضروریات کے لیے سولر پینلز نصب کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت نے زیادہ سبسڈیز یا بجٹ خرچ کیے بغیر، چینی مصنوعات کی اضافی پیداوار اور سبسڈیز کا فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، وہ ممالک جو مقامی صنعت یا سیاسی خطرات کے خوف سے چین کی مصنوعات محدود کرتے رہے، وہ توانائی بحران اور معاشی مشکلات میں زیادہ متاثر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپال بھی اسی سلسلے میں ایک مثال ہے، جہاں سستی چینی برآمد شدہ الیکٹرک گاڑیاں ملک کو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھتی ہیں، جبکہ یہ گاڑیاں ہائیڈرو پاور سے چلتی ہیں، جس کی انفراسٹرکچر کی ترقی میں چین کی مالی مدد شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہر شرما کے مطابق یہ منظرنامہ ظاہر کرتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک اب چین پر انحصار کو زیادہ خطرناک نہیں بلکہ زیادہ مستحکم آپشن کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ امریکا پر بھروسہ کرنے والے ممالک بحران کے اثرات زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502878/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انکے مطابق اگر صدر ٹرمپ خلیج سے امریکی افواج واپس لے جاتے ہیں بغیر ہرمز کے راستے کھولے، تو دنیا کے لیے یہ  مشکل ہو جائے گا، امریکا توانائی کی سپلائی کے فیصلے کرے گا، نتائج کی ذمہ داری نہیں لے گا، اور پھر واپس چلا جائے گا۔ چین اس دوران وہ ٹیکنالوجی فراہم کرے گا جس سے ممالک امریکی فیصلوں کی فکر کیے بغیر اپنی ضروریات پوری کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید لکھا کہ یہ ایران میں امریکی ناکامی سے بھی بڑا جیوپولیٹیکل نقصان ہے، اور تاریخ میں ٹرمپ کو وہ صدر یاد رکھا جائے گا جس نے غیر ارادی طور پر ایشیا میں چین کی برتری قائم کر دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹرمپ کی پالیسیاں ایشیا میں امریکی تسلط کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ایران بحران سے نکلنے میں پاکستان، نیپال جیسی معیشتیں چین کی مدد سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/authors/AS4aIU7RcB4/mihir-sharma">بلومبرگ</a> کے کالم نگارمہر شرما کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران پر جاری امریکی و اسرائیلی حملوں اور اس کے بعد کے ردعمل کے بعد، ایشیا کے ترقی پذیر ممالک میں واضح فرق سامنے آ رہا ہے۔ وہ ممالک جو چین کی سپلائی چین اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں، بحران میں زیادہ مستحکم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ وہ ممالک جو امریکا کی غیر یقینی پالیسیوں پر بھروسہ کرتے آئے ہیں، مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ وہ ممالک جو چین کی سپلائی چین اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں، بحران میں زیادہ مستحکم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ جو ممالک امریکا کی غیر یقینی پالیسیوں پر بھروسہ کرتے آئے ہیں، وہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق پاکستان کی مثال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ چین پر انحصار بحران میں استحکام فراہم کر سکتا ہے۔ 130 ارب ڈالر کے بیرونی قرض اور مسلسل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باوجود، پاکستان نے حیران کن اقتصادی استحکام دکھایا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502877/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502877"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق اس کی بڑی وجہ چین سے درآمد شدہ سولر پینلز ہیں، جنہیں 2024 سے سالانہ تقریباً 17 گیگاواٹ کی تعداد میں انسٹال کیا گیا ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی گھروں نے اپنی بجلی کی ضروریات کے لیے سولر پینلز نصب کیے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت نے زیادہ سبسڈیز یا بجٹ خرچ کیے بغیر، چینی مصنوعات کی اضافی پیداوار اور سبسڈیز کا فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>دوسری جانب، وہ ممالک جو مقامی صنعت یا سیاسی خطرات کے خوف سے چین کی مصنوعات محدود کرتے رہے، وہ توانائی بحران اور معاشی مشکلات میں زیادہ متاثر ہوئے۔</p>
<p>نیپال بھی اسی سلسلے میں ایک مثال ہے، جہاں سستی چینی برآمد شدہ الیکٹرک گاڑیاں ملک کو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھتی ہیں، جبکہ یہ گاڑیاں ہائیڈرو پاور سے چلتی ہیں، جس کی انفراسٹرکچر کی ترقی میں چین کی مالی مدد شامل ہے۔</p>
<p>مہر شرما کے مطابق یہ منظرنامہ ظاہر کرتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک اب چین پر انحصار کو زیادہ خطرناک نہیں بلکہ زیادہ مستحکم آپشن کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ امریکا پر بھروسہ کرنے والے ممالک بحران کے اثرات زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502878/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انکے مطابق اگر صدر ٹرمپ خلیج سے امریکی افواج واپس لے جاتے ہیں بغیر ہرمز کے راستے کھولے، تو دنیا کے لیے یہ  مشکل ہو جائے گا، امریکا توانائی کی سپلائی کے فیصلے کرے گا، نتائج کی ذمہ داری نہیں لے گا، اور پھر واپس چلا جائے گا۔ چین اس دوران وہ ٹیکنالوجی فراہم کرے گا جس سے ممالک امریکی فیصلوں کی فکر کیے بغیر اپنی ضروریات پوری کر سکیں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید لکھا کہ یہ ایران میں امریکی ناکامی سے بھی بڑا جیوپولیٹیکل نقصان ہے، اور تاریخ میں ٹرمپ کو وہ صدر یاد رکھا جائے گا جس نے غیر ارادی طور پر ایشیا میں چین کی برتری قائم کر دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503152</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 14:35:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/0614111393cb065.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/0614111393cb065.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
