<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 13:48:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 13:48:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں نوجوانوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کرنے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503281/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی حکومت نے دسمبر سے فوجی بھرتی (ڈرافٹ) کے اہل مردوں کی خودکار رجسٹریشن شروع کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے مجوزہ قانون گزشتہ ہفتے شائع کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو یارک پوسٹ کے مطابق حکومتی ادارے سلیکٹو سروس سسٹم جو فوجی بھرتی کے اہل امریکی شہریوں کا ڈیٹا بیس برقرار رکھتا ہے، نے 30 مارچ کو خودکار رجسٹریشن سے متعلق قواعد میں تبدیلی کی تجویز آفس آف انفارمیشن اینڈ ریگولیٹری افیئرز کو پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس نے گزشتہ دسمبر میں 2026 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کے تحت اس خودکار رجسٹریشن کی منظوری دی تھی۔ یہ ایک اہم قانون ہے جو فوجی اہلکاروں اور آپریشنز کے لیے فنڈز کی منظوری دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے مطابق اس قانونی تبدیلی کے بعد رجسٹریشن کی ذمہ داری انفرادی مردوں سے منتقل ہو کر سلیکٹو سروس سسٹم پر آ جائے گی، جو وفاقی ڈیٹا ذرائع کے ساتھ انضمام کے ذریعے خودکار اندراج کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کا کہنا ہے کہ اس نظام کو دسمبر 2026 تک نافذ کر دیا جائے گا، جس سے رجسٹریشن کا عمل زیادہ سادہ ہو جائے گا اور افرادی قوت کی تنظیمِ نو بھی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503074'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503074"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وفاقی قانون کے تحت 18 سے 25 سال کی عمر کے زیادہ تر مرد پہلے ہی سلیکٹو سروس سسٹم میں رجسٹریشن کے پابند ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی بھرتی کی صورت میں انہیں شامل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ضوابط کے مطابق مردوں کو اپنی 18ویں سالگرہ کے 30 دن کے اندر رجسٹریشن کروانا ہوتی ہے، تاہم ادارہ 26 سال کی عمر تک تاخیر سے رجسٹریشن بھی قبول کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجسٹریشن نہ کروانا ایک سنگین جرم ہے جس پر 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک جرمانہ یا پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ رجسٹریشن نہ کروانے والے افراد کو طلبہ قرضے، سرکاری ملازمتیں (وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر) اور تارکین وطن کی صورت میں امریکی شہریت سے بھی محروم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503076'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503076"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فی الحال 46 ریاستوں اور علاقوں میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کے تحت ڈرائیونگ لائسنس یا شناختی کارڈ حاصل کرتے وقت اہل مردوں کی خودکار رجسٹریشن کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں سلیکٹو سروس سسٹم نے کانگریس کو بتایا تھا کہ رجسٹریشن کی شرح میں حالیہ برسوں میں کمی آئی ہے، جو 2023 میں 84 فیصد سے کم ہو کر 81 فیصد رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قانون کی حمایت کرنے والی رکنِ کانگریس کریسی ہولاہن کا کہنا تھا کہ خودکار رجسٹریشن سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے وسائل یعنی رقم  کو رجسٹریشن مہمات اور اشتہارات کے بجائے فوجی تیاری اور متحرک ہونے کے عمل پر خرچ کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی حکومت نے دسمبر سے فوجی بھرتی (ڈرافٹ) کے اہل مردوں کی خودکار رجسٹریشن شروع کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے مجوزہ قانون گزشتہ ہفتے شائع کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>نیو یارک پوسٹ کے مطابق حکومتی ادارے سلیکٹو سروس سسٹم جو فوجی بھرتی کے اہل امریکی شہریوں کا ڈیٹا بیس برقرار رکھتا ہے، نے 30 مارچ کو خودکار رجسٹریشن سے متعلق قواعد میں تبدیلی کی تجویز آفس آف انفارمیشن اینڈ ریگولیٹری افیئرز کو پیش کی۔</p>
<p>کانگریس نے گزشتہ دسمبر میں 2026 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کے تحت اس خودکار رجسٹریشن کی منظوری دی تھی۔ یہ ایک اہم قانون ہے جو فوجی اہلکاروں اور آپریشنز کے لیے فنڈز کی منظوری دیتا ہے۔</p>
<p>ایجنسی کے مطابق اس قانونی تبدیلی کے بعد رجسٹریشن کی ذمہ داری انفرادی مردوں سے منتقل ہو کر سلیکٹو سروس سسٹم پر آ جائے گی، جو وفاقی ڈیٹا ذرائع کے ساتھ انضمام کے ذریعے خودکار اندراج کرے گا۔</p>
<p>ادارے کا کہنا ہے کہ اس نظام کو دسمبر 2026 تک نافذ کر دیا جائے گا، جس سے رجسٹریشن کا عمل زیادہ سادہ ہو جائے گا اور افرادی قوت کی تنظیمِ نو بھی کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503074'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503074"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>وفاقی قانون کے تحت 18 سے 25 سال کی عمر کے زیادہ تر مرد پہلے ہی سلیکٹو سروس سسٹم میں رجسٹریشن کے پابند ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی بھرتی کی صورت میں انہیں شامل کیا جا سکے۔</p>
<p>موجودہ ضوابط کے مطابق مردوں کو اپنی 18ویں سالگرہ کے 30 دن کے اندر رجسٹریشن کروانا ہوتی ہے، تاہم ادارہ 26 سال کی عمر تک تاخیر سے رجسٹریشن بھی قبول کرتا ہے۔</p>
<p>رجسٹریشن نہ کروانا ایک سنگین جرم ہے جس پر 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک جرمانہ یا پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ رجسٹریشن نہ کروانے والے افراد کو طلبہ قرضے، سرکاری ملازمتیں (وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر) اور تارکین وطن کی صورت میں امریکی شہریت سے بھی محروم کیا جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503076'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503076"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>فی الحال 46 ریاستوں اور علاقوں میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کے تحت ڈرائیونگ لائسنس یا شناختی کارڈ حاصل کرتے وقت اہل مردوں کی خودکار رجسٹریشن کی جاتی ہے۔</p>
<p>2024 میں سلیکٹو سروس سسٹم نے کانگریس کو بتایا تھا کہ رجسٹریشن کی شرح میں حالیہ برسوں میں کمی آئی ہے، جو 2023 میں 84 فیصد سے کم ہو کر 81 فیصد رہ گئی۔</p>
<p>اس قانون کی حمایت کرنے والی رکنِ کانگریس کریسی ہولاہن کا کہنا تھا کہ خودکار رجسٹریشن سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہوگی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے وسائل یعنی رقم  کو رجسٹریشن مہمات اور اشتہارات کے بجائے فوجی تیاری اور متحرک ہونے کے عمل پر خرچ کیا جا سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503281</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 10:41:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/09103236991c9cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/09103236991c9cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
